تازہ ترین



سیکشن: پردیس کہانی

اللہ پر توکل کرنیوالوں کیلئے ساری مشکلات آسان ہوجاتی ہیں، سر عتیق

shadow
ملازمت نہ ہوتے ہوئے بھی بیوی، بچوں کو پاکستان سے بلالیا، لوگ مجھے بے وقوف سمجھتے تھے، اب جبکہ ہم دونوں کماتے ہیں لوگ حیران ہوتے ہیں

- - - - - - -  -

مصطفی حبیب صدیقی
- - - - - - - - -
سرعتیق !جدہ کی ایک معروف شخصیت ہیں،یقینا طلبہ کیلئے ایک مثال بھی ہیں۔ میری ان سے ملاقات مسجد میں بھی ہوتی ہے جبکہ راہ چلتے بھی سلام دعا ہوہی جاتی ہے ۔فجر کی نماز کے بعد ایسے ہی گفتگو نکلی تو پوچھنے لگے کہ بھائی کیسی چل رہی ہے نوکری؟ ’’بس عتیق بھائی چل رہی ہے ،اللہ کا شکر ہے ،آپ سنائے کیسے گزررہی ہے ؟میں نے بے اعتنائی سے جواب دیتے ہوئے ان ہی سے سوال کرلیا۔ ’’یار الحمد اللہ بہت اچھی ،میں تو جب سے سعودی عرب آیا ہوں الحمد اللہ بہترین زندگی گزررہی ہے‘‘سرعتیق کے جواب میں بہت زیادہ بھروسہ اور فخر تھا،میں نے سوال کیا کہ آپ کب آئے سعودی عرب اور کیا براہ راست ملازمت پر آئے؟کہنے لگے۔۔ ’’یار میں2010ء میں پاکستان سے براہ راست ابہا آیا تھا،وہاں اپنے بڑے بھائی رفیق کے گھر رہا۔رفیق تو اپنی بیگم بچوں کے ساتھ تھا مگر میں تنہا ہی تھا۔
روز صبح نکلتا اور سارا دن ابہا گھومتا رہتامگر کوئی ملازمت نہیں ملی،ابہا شہر ویسے بھی بہت چھوٹا اور سیاحتی ہے۔سعودی عرب آنے کی اصل وجہ مکہ او رمدینہ تھی مگر میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ ہر صورت بیگم بچوں کو بھی ساتھ ہی رکھنا ہے۔میری نوکری بھی نہیں تھی،بھائی نے میرے ارادے سنے تو کہنے لگے کہ بھئی تمہارا دماغ خراب ہے کیسے رکھوگے ابھی تمہارے پا س نوکری بھی نہیں مگر میں ان سے کچھ نہ بولا۔ میں یوں ہی فیملی ویزا کی درخواست دیتا رہا او ر پھر بیگم بچوں کا بھی ویز ا لگ گیا۔پاکستان سے کچھ پیسے لایا تھا اسی سے گزارا کیا۔
بیگم بچوں کو لیا اور جدہ آگیا ۔ذہن میں یہی تھا کہ اگر سعودی عرب میں رہتے ہوئے بھی حرمین شریفین کی زیارتیں مہینوںاور سالوں میں ہوں تو پھر کیا فائدہ ،بس یہی سوچ کر جدہ آیا اور ایک چھوٹا سا مکا ن لے لیا۔پاکستان سے جو کچھ لایا تھا وہ کرائے کی نذر ہوگیا جبکہ کچھ خرچ ہورہاتھا۔میرے پاس ملازمت نہیں تھی ایک دو ماہ ایسے ہی گزرگئے ۔میں اور بیگم زیادہ سے زیادہ حرم چلے جاتے اور خوب گڑگڑاتے ،دعائیں کرتے ،اللہ میاں سے کہتے کہ اے اللہ ہم یہاں صرف اس لئے آئے کہ تیرے گھر کی زیارتیں رہیں،حاضری رہے،بس اور کوئی وجہ نہیں تو ہمیں یہیں روزگار بھی دے دے تاکہ ہم تیرے گھر سے دور نہ ہوں۔کافی دن ایسے ہی گزرگئے ۔گھر میں مشکلات آنے لگی تھیں مگرہم نے ہمت نہیں ہاری۔میں اور بیگم نے حرم مکی کے زیادہ سے زیادہ چکر لگانے شروع کردیئے۔ہمیں یقین تھا کہ اللہ ہماری سنے گا۔
سب نے کہا کہ کیسا بے وقوف آدمی ہے ابھی ملازمت ہوئی نہیں اور بیگم بچوں کو بھی بلالیا مگر ہم اپنے رب پر یقین رکھ کر سارے کام کررہے تھے جبکہ یہ بھی تھا کہ رہنا ہے تو ساتھ ہی رہنا ہے ،بیوی بچوں کو الگ نہیں رکھنا۔ ایک دن عزیزیہ میںمسجد رضوان میں مغرب کی نماز پڑھ کر نکل رہا تھا کہ ایک بچہ آیا اور پوچھا کہ سر آپ او لیول کو پڑھاتے ہیں؟میں نے کہا ہاں پڑھاتا ہوں ،نجانے اس نے میرے بارے میں کہاں سے سنا تھا۔خیر اس طرح وہ بچہ مل گیا اور پھر ایک ہی مہینے میں اور بچے بھی لے آیا ۔ مصطفی صاحب آپ سن کر حیران ہونگے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اس ایک مہینے میں ہی میں نے صرف ٹیوشن سے 6000ریال کمائے۔پھر تو ٹیوشنز کی لائن لگ گئی۔ میں ٹیوشن پڑھارہا تھا کہ ایک دن پاکستان انٹرنیشنل اسکول عزیزیہ میں ٹیچرز کی آسامی کا اشتہار دیکھا۔میں نے یہاں اپنا سی وی دیدیا۔ٹیسٹ ،انٹرویو سمیت تمام مراحل سے گزرا اور میرٹ پر میرا نام پہلے نمبر پر تھا۔جس کے بعد میں نے یہاں پڑھاناشروع کردیا۔ پھرمیری بیگم کو بھی یہیںملازمت مل گئی ۔اب ہم دونوںمیاں بیوی کماتے ہیں اور بہترین زندگی گزار رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوںکہ صرف اللہ پر توکل کی وجہ سے یہ سب ہوا۔جو انسان اللہ پر بھروسہ کرکے آگے بڑھتا ہے اس کیلئے شرو ع میں تو کچھ مشکلات ہوتی ہیں مگر پھر آسانیاں ہی آسانیاں ہوتی ہیں۔وہ لوگ جو اس وقت مجھے بے وقوف کہتے تھے جب میں نے اپنی بیگم بچوں کو بلایا آج وہی مجھے سب سے بڑھ کر عقلمندکہتے ہونگے۔
* * * * محترم قارئین !* * * *
اردونیوز ویب سائٹ پر بیرون ملک مقیم پاکستانی،ہندوستانی اور بنگلہ دیشیوں کے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیاگیا ہے،اس کا مقصد بیرون ملک جاکر بسنے والے ہم وطنوں کے مسائل کے ساتھ ان کی اپنے ملک اور خاندان کیلئے قربانیوں کو اجاگر کرنا ہے،آپ اپنے تجربات ،حقائق،واقعات اور احساسات ہمیں بتائیں ،ہم دنیا کو بتائیں گے،ہم بتائیں گے کہ آپ نے کتنی قربانی دی ہے ،آپ کے تجربات سے کیوں نا دوسرے بھی فائدہ اٹھائیں۔۔تو آئیے اپنی ویب سائٹ اردو نیوز سے منسلک ہوجائیں۔۔ہمیں اپنے پیغامات بھیجیں ۔۔اگر آپ کو اردو کمپوزنگ آتی ہے جس کے لئے ایم ایس ورڈ اور ان پیج سوفٹ ویئر پر کام کیاجاسکتا ہے کمپوز کرکے بھیجیں ،یا پھر ہاتھ سے لکھے کاغذ کو اسکین کرکے ہمیں اس دیئے گئے ای میل پر بھیج دیں۔
ای میل:pardes.kahani@urdunews.com

مزید

’’آپ کے پاس غم کا کوئی علاج ہے‘‘

 -- -  - - -- - -- -  - - - - - - - - - - - - -  - - - - - - - - - - - - - - - - - - --  - -محترم قارئین! ’’پردیس کہانی ‘‘کا سلسلہ جاری ہے ، آپ لوگوں...


لاکھ چاہوں تو بھی گزرے30سال واپس نہیں لاسکتا

پردیس کہانی اپنوں کا ساتھ ، خوشی غمی ، دوست احباب اور سب سے بڑھ کروطن کی مٹی کی خوشبو۔۔۔۔۔۔۔۔۔- - - - - - - - -  - - -سہیل احمد خان تبوک - - - - - - - - - - -میں لاکھ چاہوں بھی تو گزرے ہوئے...


کوئی رشتہ سگا نہیں،سب کچھ پیسہ ہوتا ہے

ابو سعودی عرب سے کما کما کر بھیجتے رہے تایا خوب جائدادیں خریدتے رہے، واپس پہنچے تو دینے سے انکار کردیا، ہماری زندگی وہیں سے شروع ہوئی ہے جب ہمارے پاس کچھ نہ تھا* * * * مصطفی حبیب صدیقی* * * * *زین سے...


''ہائیڈ پا رک کےزردپتّے ''

دل ٹوٹنے کے بعد واپس پارک کے بیچوں بیچ بنے مصنوعی تالاب پر آگیا جہاں رنگ برنگی بطخیں مجھ سے ناراض نظر آرہی تھیں مگر میں نے ’’سوری‘‘ کہہ کر انہیں منالیا* * * * * انجم قدوائی...