تازہ ترین



سیکشن: روشنی

سایہ فگن ہونے والا عظیم مہینہ، رمضان المبارک

shadow
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مہینہ زیادہ سے زیادہ سونے اور آرام کرنیکا موقع غنیمت ہے، اسلئے کہ روزہ میں نیند بھی عبادت ہے
* * * * * * مولانا حبیب الرحمن۔جدہ* * * * * *
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اے لو گو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیئے گئے جسطرح تم سے پہلے انبیاء اور انکے کے پیروئوں پر فرض کئے گئے تھے، اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔‘‘ (البقرۃ 183)۔ یہ وہ فرمان الہٰی ہے جو ہجرت کے دوسرے سال ماہ مبارک رمضان کے روزوں کی فرضیت کے احکام لیکر نازل ہوا۔ آج ہمارا یہی موضوع ہے کہ ماہ مبارک رمضان کے استقبال کی کیسے تیاری کریں،ماہ رمضان آجائے تو اسمیں ہم سے کیا مطلوب ہوگا۔ رسول اکرم ﷺ ماہ رمضان کی تیاری ماہ رجب سے شروع کردیا کرتے چنانچہ امام الطبرانی ؒ نے سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب ماہ رجب آتا تو رسول اکرم ﷺ ان کلمات میں دعا فرماتے :
اللہم بار ک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان ۔ ’’ اے ہمارے اللہ! ہمیں ماہ رجب و شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں ماہ رمضان عطا فرما یا اسمیں ہمیں پہنچا۔‘‘ اسکا واضح مطلب یہ ہے کہ آپﷺ ماہ مبارک کی تیاری 2 ماہ پہلے شروع کردیاکرتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اسی طرح آپﷺ ہر کام کے کرنے سے پہلے اس بارے میں خوب غور و فکر کرتے، مشورہ کرتے ، وسائل کا جائزہ لیتے، اپنی استطاعت بھر خوب تیاری فرماتے ، اس بارے میں اللہ سے دعاکرتے اور اسپر کامل توکل کرتے پھر اسکے مطا بق عملدر آمد کرتے ۔یہ وہ رہنما اصول ہیں جو عالم انسانیت نے آپﷺ سے سیکھے لیکن آج امت مسلمہ کی خاصی تعداد ا س سے بے اعتناہے۔ جب ماہ مبارک قریب ہوتا تو آپﷺ لوگوں کو اسکے لئے تیار کرتے، اسکے احکام سناتے، اسکے فضائل، برکات،فوائد انکو بتاتے اور ان میں روزہ رکھنے، نماز تراویح کا قیام کرنے، صدقات و خیرات کرنیکی ترغیب دلاتے چنانچہ ابن خزیمہ ؒ والبیہقیؒ و د یگر محدثین کرام نے سیدنا سلمان فارسیؓسے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ ماہ شعبان کے آخری دن ہم سے خطاب کیا اور فرمایا:
’’اے لوگو!ایک عظیم اور مبارک ماہ تم پر سایہ فگن ہونا چاہتا ہے، یہ وہ ماہ ہے جس میں ایک رات ، لیلتہ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزے تم پر فرض کئے ہیں اور اسکی راتوں کو قیام تمہارے لئے نفل قرار دیا ہے۔جو اس ماہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے خیر کا کام یا کوئی نفل کام کرے گویا اسنے ایک فرض ادا کیا سوائے رمضان کے، جو کوئی اس ماہ میں ایک فرض ادا کرے تو وہ اسکے مثل ہے جس نے 70فرائض ادا کئے، سوائے ماہ رمضان کے۔ اے لوگو۱ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ غم خواری و ہمدردی کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں رزق بڑھا یا جاتا ہے۔ جو اس ماہ میں کسی روز ہ دار کا روزہ افطار کرائے تو اسکے گناہوں کی مغفر ت ہو ، آگِ جہنم سے وہ رہا ہو اور اسکے لئے اتنا اجر ہو جتنا روزہ دار کا اور روزہ دار کے اجر میں کمی نہ ہو۔ ‘‘ صحابہ کرامؓ نے فرمایا کہ اگر ہم میں سے کسی کے پاس اتنا نہ ہو کہ وہ روزہ دار کو پیٹ بھر کھلا یا پلا سکے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ یہ ثواب اس کو بھی دے جو کسی روزہ دار کو روزہ لسی کے ایک گھونٹ یا کھجور کے ایک دانے سے افطار کرادے۔ جو کوئی اس ماہ میں روزہ دار کو کچھ کھلائے یا پلائے اللہ عز و جل (یوم حشر) اسے میرے حوض کوثرسے ایسا سیراب کریگا کہ اسکے بعد اسے کبھی پیاس نہ لگے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے۔
یہ وہ ماہ ہے جسکا اول حصہ رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آگ ِجہنم سے رہائی ہے۔ اے لوگو! اس ماہ میں4باتوں کی کثرت کیا کرو، ان میں سے 2 ایسی ہیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کروگے اور 2 ا یسی ہیں جنکے بغیر تمہیں کوئی چارہ نہیں ۔ 2امور جن سے تمہارا رب راضی ہوتا ہے وہ یہ ہیں :شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سبحانہ تعالیٰ سے مغفرت مانگتے رہنا۔ 2 امور جن کے بغیر تمہیں کوئی چارہ نہیں وہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ سے جنت کا طلب کرتے رہنا اور آگ جہنم سے پناہ مانگتے رہنا۔‘‘ علمائے کرام نے لکھا ہے کہ ان 4 باتوں کے بارے میں اسطرح دعا کرنا :
اشھد ان لا الہ الا اللہ،استغفر اللہ،اسئلک الجنۃ و اعوذ بک من النار ۔ توجہ کا مقام ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اس خطبہ میں ماہ مبارک رمضان کے فضائل، فوائد، برکات، مقاصد وغیرہ نہایت ہی سادہ اور جامع کلمات میں ہمیں بتا دیئے اور زور دیا کہ اس ماہ میں ہم ذوق و شوق سے نیکی کے اعمال کریں، دن کو روزہ رکھیں ،راتوں کو قیام کریں ، دعائیں کریں، لیلتہ القدر کی جستجو بھی کرتے رہیں۔ کتنے بد نصیب ہیںوہ جو ان قیمتی لمحات کو ضا ئع کرتے ہیں۔ ہم ان جیسے نہ بنیں جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: ’’نہ ہو جانا ان لوگوں کی طرح جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے ان سے انکے فائدے کی باتیں بھلادیں اور وہ فاسق ہوئے ۔ ایسے لوگ اصل میں اس ماہ کی عظمت سے غافل نظر آتے ہیں۔‘‘(الحشر19) ۔ ماہِ مبارک میں عام لوگوں کا رویہ :
٭ بعض کا یہ حال ہے کہ وہ اس ماہ کو اچھے اچھے کھانے کھانیکا موسم ِبہار تصور کرتے ہیں اگرچہ کہ وہ روزے رکھتے ہیں، نما زین پڑھتے ہیں، قیام اللیل بھی کرتے ہیں۔وہ بے تحاشا کھاتے ہیں لہذا سوتے بھی زیادہ ہیں۔ اس حوالہ سے فضول خرچی کرتے ہیں اور نمود و نمائش کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔اس رویہ سے رمضان کا فائدہ حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔
٭کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مہینہ زیادہ سے زیادہ سونے اور آرام کرنیکا موقع غنیمت ہے، اسلئے کہ روزہ میں نیند بھی عبادت ہے، بلا شک۔ حقیقت یہ ہے کہ ماہ رمضان کے روزے تو انسان کو زیادہ چاق و چوبند بنانیکا ذریعہ ہیں جیسا کہ رسول اکرمﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب کرام ؓ نے رمضان میں ہرسخت سے سخت کام کیا حتیٰ کہ معرکہ، قتال و جہاد سے پیچھے نہ ہٹے۔ وہ معاشرہ میں رہتے اور لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ بہت ہی سخی تھے لیکن ماہ رمضان میں آپﷺ کی سخاوت ایسی بڑھجاتی گویا رحمت کی تیز ہوائیں چل رہیں ہیں یہی حال صحابہ کرام ؓ کا ہوا کرتا تھا۔خوشن نصیب ہیں وہ جو اس عمل کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
٭بعض لوگ اس ماہ میں راتوں کو کھیل کود، سیر و تفریح کرتے ہیں یہ بھی غفلت ہے۔رمضان کی راتیں قیام اللیل، دعائیں، استغفار، اذکار، نیند اور سحری کیلئے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ بالخصوص رمضان کی راتوں میں آسمانِ دنیا پر جلوہ افروز ہوتا ہے۔رسول اکرم ﷺ رمضان کی راتوں کو جاگتے اور اپنے اصحاب کرام ؓ اور اہل و عیال کو جاگنے کی تلقین کیا کرتے بالخصوص آخری عشرہ میں ۔
٭تاجر برادری ود یگر ماہ رمضان کی آمد سے بہت خوش ہوتے ہیں کہ یہ انکی تجارت کا موسم ِبہار ہوتا ہے۔بلاشک امین ، صالح ، دیانتدار تاجر کو بڑا مقام ہے، وہ یوم حشر عرش معلی کے زیر سایہ انبیائے کرام اور شہدائے کرام کیساتھ ہونگے۔ بے شک معاشرے کی بقاء کا دارو مدار باہم معاملات، خرید و فروخت ، لین و دین پر ہے ۔ مطلوب یہ ہے کہ تجارت ، کاروبار، ملازمت کے باعث یہ مہینہ غفلت کی نظر نہ ہو جائے بلکہ اس ماہ کے مخصوص تقاضوں کو بھی پورے اہتمام اور احکام کے مطابق پورا کیا جائے۔
٭ایک صنف ایسی ہے کہ اس نے گداگری کو پیشہ بنا لیا ہے اور اس ماہ مبارک میں پوری تیاری سے اس پیشہ کا فائدہ اٹھاتے ہیں حالانکہ گدا گری حرام ہے بالخصوص اس ماہ ِ مبارک ، عمرہ اور حج کے دوران۔ہمیں چاہیے کہ اسکا سد باب کریں ۔ اس ضمن میں سب سے پہلے یہ کہ ضرورت مندوں کو مانگنے سے قبل دیا جائے ، انکی فلاح و بہبود کا خاطر خواہ بندوبست کیا جائے، ہر سطح پر یہ کام کیا جائے۔ اگر ہم رسول اکرم ﷺ اور اصحاب کرام ؒ اور سلف صالحین کی سیرتوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ وہ اس ماہ میں زیادہ جدو جہد کیا کرتے۔ پوری طرح مستعد رہتے اور اگر ضرورت پڑتی تو جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لیتے جیسے غزوۂ بدر الکبریٰ، غزوۂ فتح مکہ، حنین وغیرہ اور کثرت سے کار ِخیر کرتے اور دعوت ِدین کا کام کیا کرتے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا کوئی حکم مقصد، مصلحت اور فائدہ سے خالی نہیں لہذا ماہ رمضان اور اسکے دوران روزے عظیم مقاصد لئے ہوئے ہیں جنکی تفصیل خاصا وقت چاہتی ہے ۔ ہم یہاں ان میں سے بعض کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قرب اور محبت : بلا شک اللہ باری تعالیٰ کے ہر حکم کی بجا آوری سے اسکا قرب اور رضا حاصل ہوتی چلی جاتی ہے لیکن روزہ اس اعتبار سے چوٹی کی عبادت ہے چنانچہ رسول اکرم ﷺ کاارشاد مبارکہ ہے : ’’ ابن آدم کے ہر نیک عمل کا بدلہ10نیکیوں سے 700گناہ تک بڑھایا جاتا ہے سوائے روزہ کے کہ اللہ تعالیٰ اسکے بارے میں فرما تا ہے کہ یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکا بدلہ دونگا یا میں ہی اسکا بدلہ ہوں اسلئے کہ میرے اس بندے یا بندی نے اپنی شہوتِ نفس، کھانے اور پینے کو صرف میرے لئے ترک کیا۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا : روزہ دار کیلئے روزہ میں2 خوشی کے مواقع ہیں۔ ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور دوسرا جب وہ اپنے رب سے ملاقات کریگا اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔‘‘ ( بخاری و مسلم )۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس منزل پر پہنچائے،آمین۔
تقویٰ : روزوں کی فرضیت کا سب سے بڑا مقصد اور فائدہ یہ ہے کہ اس سے ایک بندے میں اللہ تعالیٰ کیلئے تقویٰ کی جامع صفات پیدا ہو جائیں جیسا کہ فرمایا: لعلکم تتقون یعنی اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی ۔ تقویٰ کے معنیٰ ہیں ڈرنا، بچنا یا اجتناب کرنا۔ قرآن میں اسکا ذکر کثرت سے آیا ہے جس سے اسکی اہمیت اور ضرورت ثابت ہوتی ہے۔تقویٰ کی تمام تعریفوں میں ایک جامع اور آسان تعریف یہ ہے کہ تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ حاضر وو ناظر ہونیکا یقین پیدا کرکے دل میں خیر و شر کی تمیز اور خیر کیطرف رغبت اور شر سے نفرت پیدا کردیتی ہے (سیرت النبیﷺ )۔ دراصل روزہ انسان کو تقویٰ کے مضبوط کٹہرے میں لے آتا ہے، اس طرح انسان اللہ سبحانہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ کی نافرمانی سے بچتا ہے اور خیرِ کثیر بھی جمع کرتا ہے۔ یہ تقویٰ ہی کا ظہور ہے کہ سخت سے سخت بھوک اور شددت کی پیاس میں بھی آدمی تنہائی میں نہ کچھ کھاتا ہے ،نہ ہی پیتا ہے اور اسطرح کامل بندگی کی تربیت پا تا ہے۔
نفس پر قابو: روزہ تزکیۂ نفس کیلئے وہ عمل ہے جسکے اثرات تطہیر ِنفس اور تہذیبِ اخلاق پر بھی گہرے مرتب ہوتے ہیں اور اس سے ایک مسلم اپنی ـنفس امارہ بالسوء پر قابوحاصل کر نیکی صلا حیت پاتا ہے۔یہ نفس بڑی سرکش ہے۔ اسکی سرکشی سے وہ ہی بچ سکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا رحمِ خاص ہوجائے جیسا کہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے: ’’یہ روزہ ہے جو نفس کی لگام انسان کے ہاتھ میں دے دیتا ہے جو زہدو ولایت سے کم نہیں ہے۔ ‘‘(یوسف53)۔
کی عادت : روزہ کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے انسان میں صبر، تحمل، برد باری کی عادت پیدا ہوتی ہے اور جو چیزیں نفس کو مرغوب ہیں انہیں اپنی مرضی سے ترک کرنا آجاتا ہے۔سورج طلوع ہونے سے قبل سے لیکر سورج کے غروب ہونے تک روزہ دار ان افعال اور اشیا سے بھی اپنے آپ کو روکے رکھتا ہے جو حلال ہیں، گویا کہ وہ صبر و تحمل کی عملی تربیت پا رہا ہوتا ہے جو ایک مومن کا زیور ہیں۔رسول اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ ماہ رمضان صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے (ابن خزیمہ اور البیہقی)۔ ‘‘ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی خاص مدد صبر کرنے والوں کیساتھ ہوتی ہے جیساکہ ارشاد باری تعا لی ہے: ’’اے ایمان والو!صبر اور نماز کیساتھ مدد چاہو، اللہ تعالیٰ صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔‘‘ (البقرہ 153)۔
شیطان کے راستے تنگ ہوتے ہیں: شیطان انسان کی رگوں میںخون کی مانند دوڑتا ہے۔ روزہ اسکی راہیں تنگ کردیتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ ظاہر ہے جب ایک روزہ دار خودسے اپنے نفس کی خواہش پوری کرنے سے رکتا ہے تو شیطان ناکام ہوتا ہے۔‘‘ فقیر و محتاج پر احسان کا جزبہ : روزوں سے فقیر و محتاج کی ضرورت پوری کرنیکا جزبہ تقویت پاتا ہے۔جب روزہ دار بھوکا ہوتا ہے تو بھوکوں کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے اور پیاسا ہوتا ہے تو پیاسوں کا احساس کرتا ہے۔ یہ احساس اسے صدقہ ، احسان اور غریبوں کی مدد کیلئے ابھارتا ہے اسطرح اس میں انفاق فی سبیل اللہ کا داعیہ ابھرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کیلئے اپنا مال بھی خرچ کرتا ہے۔
کبر و بڑائی کی نفی ہوتی اور اتحاد کا جزبہ پیدا ہوتا ہے: غنی و فقیر، اعلیٰ مراتب والے اور محنت کش، ملازم اور جاگیر دار، چھوٹے اور بڑے سب ہی ایک ماہ میں ایک ہی نوع کی عبادت میں یکساں مشغول ہوتے ہیں۔ یہ سب جب ایک ہی وقت میں سحر و افطار ایکساتھ بیٹھ کر کرتے ہیں تو ایک ایسا روح پرور منظر دیکھنے میں آتا ہے کہ یہ سب باہم ایک ہی مقصد کیلئے جمع ہیں اور پورے ماحول پر تقویٰ چھایا ہوا ہے اِس اعتبار سے کوئی کسی سے ممتاز نہیں ۔ اس سے ایک اور حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں کسی کو کسی پر رنگ و نسل، دولت، اقتدار وغیرہ کے باعث کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے اور انسان اللہ تعالیٰ کا ایک ناچیز بندہ ہے اور سب پر اللہ تعالیٰ کے یکساں احکام کا اجراء ہوتا ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرات میںفرمایا ہے۔دوسرے یہ کہ ماہ رمضان اور اسکے روزے سارے عالم کے مسلمانوں میں یکجہتی، ارتباط اور اتحاد پیدا کرنیکا بھی ذریعہ بنتے ہیں تاکہ امت جسد واحد کی مثال قائم کرے جیسا کہ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے۔
(جاری ہے)

مزید

نیکیوں کا موسم بہار ، سایہ فگن

مہمان کی آمد پر تیاری کرنا فطری عمل ہے ،عظیم المرتبت مہمان کی آمد پر شایانِ شان استقبال سے میزبان کی خوشیاں دوبالا ہوجاتی ہیں - - - - - - - - - - -  - - -  -ڈاکٹر سعید احمد عنایت...


ایثار اور تواضع، دو عظیم خوبیاں

ایثار اور قربانی اخلاق حمیدہ کی صفات کسی قوم، جماعت یافرد میں پائی جائیں تو وہ قوم یا فرد لوگوں میں بے حد محبوب بن جاتے ہیں* ** * * *عبد المالک مجاہد۔ ریاض* * * * *معزز قارئین کرام! رمضان المبارک کا...


تقویٰ ، قرآن اور رمضان سے تعلق کا لازمی نتیجہ

قرآن پاک میں تقویٰ کا لفظ 15 مرتبہ آیا ہے، متقین 42 مرتبہ،متقون 19 مرتبہ، یتق 6مرتبہ اور یتقون 18 مرتبہ استعمال کیا گیا ہے* * * * *ڈاکٹر بشریٰ تسنیم۔شارجہ* * * *ارشادِ ربانی ہے: ’’اے...


ماہِ رمضان المبارک ، تقویٰ کے حصول کا ذریعہ

روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے کی حد تک بات ختم نہیں ہوتی، اصل مقصد غفلت کے پردوں کو دل سے دور کیاجائے،مقصدِ تخلیق کی طرف رجوع کیاجائے* * * * * * * * * * *رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی...