Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

رشتے خون کے یا دل کے،کیا سب دھوکہ ہے.....

ہر گزرتے دن کیساتھ آمنہ اور مہوش کیساتھ صبا کی بے رخی میں اضافہ ہوتا گیا لیکن اس طرح اس نے اپنے ہنستے بستے گھر کو تباہ کرلیا
(دوسر ی قسط)
* * * دانیال احمد ،دوحہ ،قطر* * * *
گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ آمنہ اور مہوش کے ساتھ صبا کی بے رخی میں اضافہ ہوتا گیا بلکہ یوں کہیے کہ بے رخی بدسلوکی کی صورت اختیار کر گئی۔ مہوش چونکہ لندن میں پلی بڑھی تھی تو اس کا مزاج عام مشرقی لڑکیوں سے مختلف تھا۔ غلط بات سن لینا اور خاموشی اختیار کر لینا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ وہ صباکی نا انصافیوں اور نامناسب رویے پہ خوب احتجاج کرتی جس کی وجہ سے گھر میں ناچاقی بڑھتی چلی گئی۔ کلیم نے پہلے پہل تو اپنی بہن اور بھانجی کی حمایت کی لیکن صبانے سچی جھوٹی باتیں بنا بنا کر اس کے ذہن میں آمنہ اور مہوش کے خلاف اتنا زہر بھر دیا کہ آخر وہ بھی ان دونوں سے بدظن ہو گیا۔ " کلیم،،، کلیم،،، شہزاد،،، ارے کہاں ہو سب کے سب،،، ہم برباد ہو گئے لٹ گئے کچھ نہیں بچا" صبا کا شور پورے گھر میں گونج رہا تھا۔ اس کی آواز سن کر سب دوڑتے ہوئے اس کے کمرے میں آ پہنچے۔ کلیم نے حیرانی اور پریشانی ظاہر کرتے ہوئے پوچھا، " کیا ہو گیا ہے صبا،،، کس بات پر اتنا واویلا مچا رکھا ہے تم نے؟"۔
صبانے سر پیٹ لیا، " میرے سارے زیورات اور رقم جو میں نے اتنے عرصے سے جمع کر کے رکھی تھی، میری الماری سے غائب ہے۔" یہ بات سنتے ہی سب پر سکتے کی سی کیفیت تاری ہو گئی۔ شہزاد حیران ہو کر کہنے لگا، " ایسا کیسے ہو سکتا ہے امی،،، گھر میں تو ہمارے علاوہ کوئی بھی نہیں، نہ ہی کوئی باہر سے آیا ہے یہاں،،،" آمنہ نے صبا کو تسلی دیتے ہوئے کہا، " بھابی آپ زرا اچھی طرح سے دیکھیں مل جائے گا سامان،،، ایسے کیسے غائب ہو سکتا ہے بھلا۔" صبا برا سا منہ بناتے ہوئے، " جب گھر میں باہر سے کوئی نہیں آیا تو اس کا مطلب یہی ہے نا کہ یہ کارنامہ گھر کے ہی کسی فرد نے انجام دیا ہے۔" یہ سن کر مہوش آپے سے باہر ہو گئی، " آپ کہنا کیا چاہتی ہیں ممانی؟ اگر آپ کو گھر والوں پر ہی شک ہے تو ٹھیک ہے جا کر پورے گھر کی خود ہی تلاشی لے لیں۔" صبا بھی جھٹ سے بولی، " ٹھیک ہے بیٹا جی،،، پھر کیوں نہ آپ ہی کے کمرے سے آغاز کیا جائے،،؟" پھر کیا تھا، تلاشی لی گئی اور بدقسمتی سے پیسے اور زیورات آمنہ اور مہوش کے سامان میں سے ہی برآمد ہوئے۔ صبا غصے میں تلملانے لگی، " یہی مقصد تھا تم دونوں کا ہمارے گھر میں رکنے کے پیچھے،،، ارے میں نہ کہتی تھی کہ یہ دونوں ماں بیٹی ہماری دشمن ہیں۔ ہمارا سکون برباد کرنے آئی ہیں۔ آج دیکھ لو کتنی گھٹیا حرکت کی ہے انہوں نے۔"
اب آمنہ کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو آیا۔ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے،" بس بھابی،،، بس ! اس کے آگے ایک لفظ بھی مت بولنا۔ آپ کی ہر زیادتی، ہر بدسلوکی میں نے خاموشی سے برداشت کی لیکن اب آپ نے ہر حد پار کر دی ہے۔ ارے میں تو یہاں آپ لوگوں سے نئے رشتے جوڑنے آئی تھی لیکن آپ نے تو مجھے حقیقی رشتے نبھانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔ مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا۔ میں بے قصور ہوں اور میرا گواہ میرا اللہ ہے۔ وہ مجھے انصاف ضرور دیگا۔" پھر وہ کلیم سے مخاطب ہوئی، " بھائی جان! آپ خوش رہیں اپنی زندگی میں اور بے فکر ہو جائیں۔ اب میں آپ لوگوں کی زندگیوں میں زہر گھولنے کے لیے کبھی واپس نہیں آوں گی،،، اور ہاں، میری یہ ذلت و رسوائی قرض ہے آپ پر جس کا بدلہ ایک دن آپ کو چکانا ہوگا ۔میں اپنا معاملہ اپنے اللہ کے سپرد کر کے جا رہی ہوں۔" کلیم خاموش اور ساکت کھڑا رہا جبکہ شہزاد بار بار اس کو جھنجوڑ جھنجوڑ کر کہتا رہا، " بابا! یہ سب جھوٹ ہے، پھپھو اور مہوش ایسا کبھی نہیں کر سکتیں،،، آپ پلیز انہیں روک لیں اور معافی مانگ لیں ان سے۔" صبا نے شہزاد کے منہ پہ زوردار طمانچہ مارا، " چوری بھی یہ کریں اور معافی بھی ہم ان سے مانگیں۔
یہ تو شکر ہے کہ ان کی اصلیت جلد سامنے آ گئی ورنہ سامان کے ساتھ ساتھ بیٹا بھی چھین لے جاتیں مجھ سے۔" اس طرح آمنہ رسوائیوں کا غم دل میں لئے لندن لوٹ گئی۔ اس کی آہستہ آہستہ رکتی ہوئی دھڑکنیں ایک لمحے کو پھر تیز ہوئیں، بند ہوتی ہوئی آنکھوں میں نمی آئی، جب اس نے آمنہ کو اپنے سرہانے کھڑا پایا۔ آمنہ بھرائی ہوئی آواز میں اس سے کہنے لگی، " میں آپ سے ناراض ضرور تھی بھابی،،، لیکن اتنی بے مروت بھی نہیں کہ آپ کو ایک مرتبہ دیکھنے اور بھائی کا دکھ بانٹنے بھی نہ آؤں۔" کلیم جو کہ آمنہ کے ساتھ باکل خاموش کھڑا تھا، اب بے اختیار رونے لگا اور آمنہ کے سامنے شرمندگی سے سر جھکا کر کہنے لگا، " میں بہت ناکام انسان ہوں آمنہ،،، میں ایک ناکام انسان ہوں۔
میں ایک اچھا بھائی بن سکا، نہ میں ایک شوہر کا فرض ٹھیک سے نبھا سکا اور نہ ایک باپ ہوتے ہوئے اپنے بیٹے کے جذبات اور اس کے دل کی بات کو سمجھ سکا،،، میں تم سے نظریں ملانے کے قابل نہ سہی کم سے کم تمہارے سامنے اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے معافی تو مانگ سکتا ہوں نا۔ لیکن آمنہ ، صبا کو دیکھو،،، اس کی بے بسی کا عالم تو دیکھو یہ تو چاہ کر بھی تم سے کچھ کہہ نہیں سکتی تمہارے سامنے رو کر اپنے دل کا بوجھ بھی ہلکا نہیں کر سکتی۔ تم بس ایک بار کہہ دو کہ تم نے ہم دونوں کو معاف کیا،،،" بھائی کے لہجے سے چھلکتی ندامت اور لاچاری نے آمنہ کا دل پگھلا دیا اور وہ رو پڑی، " میں نے معاف کیا،،، سب کو معاف کیا میں نے۔ مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں۔" آمنہ کی زبان سے یہ سننا تھا کہ صبا کی زندگی کی آخری خواہش پوری ہو ئی اور اس کی سانسوں کا ٹمٹماتا ہوا دیا ہمیشہ کے لیے بجھ گیا۔
تدفین سے فارغ ہو کر شہزاد جب گھر لوٹا تو آمنہ سے مل کر خوب رویا اور پھر اپنے کمرے سے ایک چٹھی لا کر اس نے آمنہ کو دی، " پھپھو! یہ خط امی نے آپ کے لیے چھوڑا ہے۔" آمنہ نم آنکھوں کے ساتھ وہ خط کھول کر پڑھنے لگی، " آمنہ،،، میری پیاری بہن جب تک تمہیں میرا یہ خط ملے گا میں شاید اس دنیا سے جا چکی ہوں گی۔ تمہارا سامنا کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں اس لیے اپنے ہر جرم، ہر گناہ، ہر قصور کا اعتراف میں اس خط میں کر رہی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے تم شادی کر کے لندن گئی تھیں میرے دل میں غیر محسوس طریقے سے تمہارے لئے حسد پیدا ہو گیا۔ میں بلا وجہ تم سے بدظن رہنے لگی اور کوشش کرنے لگی کہ کسی طرح کلیم کو بھی تم سے دور کر دوں۔ لیکن جب تم پچھلی مرتبہ پاکستان آئیں تو میں نے دیکھا کہ شہزاد مہوش میں دلچسپی ظاہر کرنے لگا ہے اور تم اور کلیم بھی ایسا ہی چاہتے ہو تو میرا یہ حسد دشمنی کی صورت اختیار کر گیا۔ میں کچھ ایسا کرنا چاہتی تھی کہ بس مہوش اور شہزاد کے رشتے کا کوئی امکان باقی نہ رہے اور ان دونوں کو اس طرح دور کیا جائے کہ دوبارہ ان کا قریب آنا ممکن ہی نہ رہے۔ بس پھر میں نے ملازمہ کو ساتھ ملا کر اپنے زیورات اور رقم تمہارے اور مہوش کے سامان میں رکھوا دی اور کلیم اور شہزاد کے سامنے تم دونوں کو چور ثابت کرنے کی کوشش کی۔ لیکن آمنہ،،، مجھے یہ سب کر کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ شہزاد تو بالکل مایوس ہی ہو گیا میری طرف سے۔ کیوں نہ ہوتا،،، اس کی اپنی ماں نے اس سے اس کی محبت چھین کر اس کی خوشیوں کو آگ لگائی تھی۔ کلیم بھی اس کے بعد مجھ سے خفا ہی رہے اور کبھی میرے ساتھ مسکرائے تک نہیں۔ ان کی خاموشی ہر لمحہ مجھ سے ڈھیروں سوال کرتی جن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ میں نے تو حسد اور کینہ پروری کی زد میں آ کر اپنا ہی گھر برباد کر ڈالا، ایک ہنستے بستے خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا لیکن آمنہ،،، تم سے میری التجا ہے کہ مجھے معاف کر دینا۔ تم معاف کر دو گی تو شاید اللہ بھی میرے گناہوں کو بخش دے۔
* * تمہاری بھابی صبا" * *

شیئر: