Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اس ”دلہن“کو کسی مطلقہ کی مانند نظر انداز کر دیاگیا

 
 یتیم شہر کے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیںنااہل لوگوںنے نظام تباہ و برباد کر دیا 
عنبرین فیض احمد۔ ینبع
شہر کراچی جو ماضی میں شہروں کی دلہن ، روشنیوں کا شہر اور نجانے کیا کیا کہلاتا تھا اور اب بھی بلاشبہ اس شہر کو پاکستان کی معیشت کا سب سے اہم ستون قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ بدنصیب شہر گزشتہ کئی عشروں سے جس بدترین صورتحال کا شکار ہے،اس کی مثال شاید ہی کہیں اور ملتی ہوگی۔آج اس شہر کی مانگ اجڑ چکی ہے۔ شہری سسک سسک کر اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور دکھائی دے رہے ہیں مگر یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہر کو اس حال تک پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے؟ بدترین دہشت گردی ، قتل و غارت گری ، بھتہ خوری، اغوا اور ڈکیتی نے اس شہر کو اپنے حصار میں جکڑ رکھا ہے۔ یہاں کے باسی اپنا تحمل و برداشت کھو چکے ہیں۔ اس شہر کا ہر علاقہ پکار پکار کر توجہ مانگ رہا ہے مگر کوئی اس کی طرف نگاہ اٹھا کردیکھنے کاروادار نہیں۔ 
افسوسناک حیرت اس بات پر ہے کہ ذمہ داران نے شہروں کی اس ”دلہن“سے نظریں ہی پھیرلیں اور اسے یوں نظر انداز کر دیا جیسے طلاق کے بعد مطلقہ سے بے اعتنائی برتی جاتی ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہ شہر یتیم ہے ،اس کے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں۔ صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات اور نکاسی آب کی بدترین صورتحال کے باعث شہر کا برا حال ہورہا ہے۔ شہریوں کو سڑکوں پر آمدورفت پر کافی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال مون سون آتے ہیں اور جب بھی کراچی میں بارش ہوتی ہے تو ندی نالے بھر جاتے ہیں۔ ان میں ”طغیانی“ آجاتی ہے ۔ شہر میں نکاسی¿ آب کانظام بھی درست نہیں ۔ سیوریج لائنوں میں کچرا پھنس جاتا ہے۔ ان کی صفائی بھی نہیں ہوتی چنانچہ جا بجاگٹر ابلتے دکھائی دیتے ہیں۔ چند منٹوں کی بارش، ناقص بلدیاتی نظام کی قلعی کھول کر عوام کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ برساتی نالوں کی صفائی اورسڑکوں کے اطراف برساتی پانی کی نکاسی کے انتظامات نہ ہونے کے باعث ایسا لگتا ہے کہ چند منٹوں کی بارش کراچی کے باسیوں کے لئے زحمت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ انتظامیہ کی نااہلی کے باعث بارش کا چھینٹا پڑتے ہی سڑکوں کا برا حال ہو جاتا ہے۔ جگہ جگہ ٹریفک جام دکھائی دیتا ہے اور سڑکیں کیچڑسے اَٹ جاتی ہیں اور راہ گیر اس کیچڑ سے لت پت ہو جاتے ہیں۔ 
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب موسلا دھار بارش ہوتی ہے تو ندی نالوں سے پانی آبادیوں اور سڑکوں پر آجاتا ہے اور نشیبی علاقوں کو تالاب میں تبدیل کر دیتا ہے ۔ دھنک کے صفحے پر جو تصویر شائع کی گئی ہے وہ کراچی کے معروف علاقے غریب آباد کی ہے جس کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہےں۔ وہ کراچی کا ایسا علاقہ ہے جہاں زیادہ تر غریب اور متوسط طبقے کے لوگ آباد ہیں۔ کراچی میںگندگی کی ساتھ ساتھ صفائی، ستھرائی اور نکاسی آب کا بہتر نظام نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں اور گلیوں میں گٹر اور نالوں کا پانی جمع ہو جاتا ہے جس سے سڑکیں بھی خراب ا ور اکثر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جب بھی شہر میں بارش ہوتی ہے تو اکثر کھلے مین ہول دکھائی دیتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر حادثات رونما ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجودہمارے ذمہ دران اس جانب توجہ نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ بارش کے موسم میں بجلی کی تاریں اس کھڑے پانی میںگر جاتی ہیں ۔ راہگیروں کو علم نہیں ہوتا کہ اس پانی میں بجلی کی تاریں گری ہوئی ہیں یوں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ ویسے بھی بارش کے بعد پانی کا اس طرح کھڑا ہوجانا انتہائی تعجب کی بات ہے اور وہ بھی عروس البلاد کے ایک گنجان آباد علاقے میں۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شہر میں نکاسی آب کا کوئی درست نظام سرے سے موجود ہی نہیں یا پھر نکاسی کا منصوبہ تو بنایا گیا مگر اس میں کوئی نہ کوئی نقص رہ گیا ہے جس کے نتیجے میں بارش کا پانی سڑک کے بیچوں بیچ کھڑا ہے۔ شہر میں چند ملی میٹر بارش ہوجائے تو سڑکیں ندی نالوں کامنظر پیش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔شہریوں کے لئے گھر سے نکلنا اپنے لئے کسی مشکل کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ نکاسی آب کا منصوبہ خاصا تکنیکی انداز میں بنایاجاتا ہے ۔ اس میں یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ پانی کا بہاو کس سمت ہے پھر اسی لحاظ سے نالے تعمیر کئے جاتے ہیں او رنالوں میں بھی پانی کی نکاسی کا کافی اچھا نظام ہوتا ہے۔ اردگرد کا پانی ان نالوں کے ذریعے آگے کسی بڑے نالے تک پہنچایاجاتا ہے لیکن یہاں نہ ہی کوئی نالہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی کوئی صفائی کا نظام نظر آتاہے۔ عمومی طو رپر پورے کراچی شہر میں نکاسی آب کا کوئی درست نظام دکھانی نہیں دیتا۔یہاں ایک بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ برسہا برس پہلے کراچی شہر میں بارش برائے نام ہی ہوتی تھی چنانچہ نہ سڑکوں پر پانی کھڑا ہوتا تھا اور نہ ہی ا سکی نکاسی کا سوال پیدا ہوتاتھا لیکن اب کراچی میں موسم کی تبدیلیوں کے باعث بارش ہونے لگی ہے لہٰذا اس کی نکاسی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی بنیادوں پر منصوبہ بندی ہونی چاہئے تا کہ شہر کی خوبصورتی برقرار رہ سکے اور قیمتی ا نسانی جانیں بجائی جا سکیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کو عوام کے مسائل کا نوٹس لینا چاہئے اور واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے متعلقہ ذمہ داروں کو یہ ہدایتت کرنی چاہئے کہ ہنگامی بنیادوں پر ایسے علاقے جہاں پانی کھڑا ہے، وہاں سیوریج سسٹم کی درستگی اور ہر گھر میں صاف پانی کی ترسیل کا نظام درست کیا جائے تا کہ عوام کو پینے کے لئے صاف پانی مل سکے کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سیوریج کا پانی بھی پینے کے پانی میںمل جاتا ہے اور یوں عوام صاف پانی کو بھی ترستے ہیں۔ صاحبان اختیار کو چاہئے کہ وہ صرف زبانی جمع خرچ کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ عملی اقدامات کر کے عوام کی مشکلات کے ازالے کی کوشش کریں۔ 
ہونا تو یہ چاہئے کہ تمام نالوں کی صفائی کی جائے۔ ان میں پھینکا جانے والا کچرا نکالا جائے تا کہ نکاسی آب کے راستے میں رکاوٹیں دور ہو سکیں۔ کراچی کے شہریوں کو فراہم کئے جانے والے پانی میں فضلہ بھی شامل ہوتا ہے۔ شہر میں پانی و سیوریج کی لائنوں کی تنصیب واٹر بورڈ، ضلعی ادارے ، کنٹونمنٹ بورڈ کے افراد اور پھر سیاسی افراد کرتے ہیں۔ یہ لائنیں بغیر منصوبہ بندی کے اس طرح ڈالی جاتی ہیں کہ پانی و سیوریج کی لائنیں ٹوٹ پھوٹ کے باعث آپس میں مل جاتی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ شہر کے اندر نکاسی آب کا نظام اب بوسیدہ ہوچکاہے۔ سیوریج کا پورا نظام تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے او رواٹر بورڈ اپنے سیوریج کا نظام برساتی نالوں میں مربوط کر کے گزارہ کر رہا ہے۔ برساتی نالوں کے اوپر او ردرمیان سے پانی کی بوسیدہ اور ٹوٹی پھوٹی لائنیں گزر رہی ہیں جن سے سیوریج کے بوسیدہ نظام سے پانی کی لائنوں میںگندا پانی شامل ہوجاتا ہے۔ جب تک ملک کے پورے نظام کی اوورہالنگ نہیں ہو گی نظام درست نہیں ہو سکتا ۔ نااہل اور کرپٹ لوگوںنے ملک کے نظام کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے لہٰذا ایسے افراد کا سب سے پہلے احتساب ہونا چاہئے۔ تب ہی جا کر ملک میں ترقی و خوشحالی آئے گی۔ 
 
 
 
 
 
 

شیئر: