Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

"موبائل3310اوروڈیوکالنگ کی توقع "

شہزاد اعظم۔جدہ
ہم اور ہمارے ہم عصر اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جسے تغیر و تبدل جیسے عوامل سے گزرنا اور ان کے باعث پیدا ہونے والے اثرات کو جھیلنا پڑ رہا ہے۔ اس لحاظ سے ہمارا بچپن، نوجوانی، جوانی، ادھیڑ عمری، بڑھاپا اور پھوسیت ، سب ہی انتہائی اہم ہیں۔ہمارے بعد آنے والی نئی نسل کے اطوارہم سے پہلے والی نسل کے مقابلے میں بالکل مختلف ہیں۔یہ تبدل و تغیر Information Technology یعنی اطلاعاتی تکنالوجی یعنی ITکے باعث رونما ہوا ہے ۔اس IT یعنی ”اِٹ“ کا اردو ترجمہ ”یہ“ ہے۔اس ”یہ“ نے ” وہ وہ“ کام کر دکھائے جوسیکڑوں برس سے دنیا بھر میں عموماً اور برصغیر میں خصوصاً ناممکنات کی فہرست میں شامل چلے آ رہے تھے۔ان میں ایک مسئلہ ساس اور بہو کی روایتی چخ چخ شامل ہے۔ 
ہمارا معاشرہ ویسے تو کئی طبقات میں بٹا ہوا ہے مگر ”اِٹ“نے اسے دو بڑے حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طبقہ ”اِٹ“ ہے جو ہمارے سامنے جوان ہونے والی نسل پر مشتمل ہے اور دوسرا طبقہ وہ ہے جو ہمارے سامنے بڑھاپے کے مختلف درجات کو پہنچا ہے۔اس طبقے کوLaymen to Information Technology یعنی LITیاصرف "لِٹ" کہا جاتا ہے۔لِٹ قسم کے لوگ کمپیوٹر، کی بورڈ، ماوس، سی پی یو، انٹرنیٹ، ایمیل، وائس میل، میسنجر، چیٹنگ، ریم، میموری، میگا بٹس یا بائٹس، گیگا بائٹس،لیپ ٹاپ، وائی فائی اور یو ایس بی جیسی اصطلاحوں سے بالکل ہی نابلد ہیں۔ان کے مقابلے میں ”اِٹ“قسم کے لوگ مذکورہ اصطلاحوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں اور نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ یہ لوگ آپس میں گفتگو کے دوران ”آئی ٹی“ دنیا کی اصطلاحات پر مبنی محاورے بھی بولتے ہیں مثلاًوہ شخص جو جھونپڑے میں رہ کر محلوں کے خواب دیکھتا ہو اسے دیکھ کر"یہ" قسم کے لوگ کہتے ہیں کہ پینٹیئم ون کا مدر بورڈ اور پینٹیئم فور کا پراسیسریا "کے بی کی میموری اور باتیں گیگا کی"۔ اسی طرح کسی بے وفا سے وفا کی امید کرنے والی کو اس کی سہیلی یوں سمجھتی ہے کہ ”میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تم جیسی لڑکی نے "3310" سے وڈیوکالنگ کی توقع" کیوںلگا رکھی ہے۔ اس سے بڑی"اسمارٹ حماقت"توہو ہی نہیں سکتی۔"اِٹ" قسم کے لوگ، ”لِٹ“ طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو حقیر سمجھتے ہیں اور ان کے سامنے خود کو کسی اور دنیا کی مخلوق تصور کرتے ہیں۔اگر کوئی ”لِٹ“ ان سے”آئی ٹی“ کو چھو کر گزرتا ہوا سوال پوچھ بیٹھے تو ان کے تیور یکدم بدل جاتے ہیں اور وہ زمین سے آسمان پر پہنچ جاتے ہیں، ابرو انتہائی حد تک کماندار ہو جاتے ہیں اورپھر وہ ایسا جواب دیتے ہیں جسے سن کر ہمیں اپنے ملک کے بعض اہم سیاستداں یاد آ جاتے ہیں۔ مثلاً ہم نے ایک ”اِٹ“سے دریافت کیا کہ ہمارا میسنجر بار بار اڑ جاتا ہے، کیوں؟ اس نے فرمایا کہ”در اصل ریسیونگ اینڈ پر میسنجر کامیٹیبل نہیں ہو گا۔ وہ 9سمتھنگ ورژن یوز کر رہے ہونگے اور آپ کے پاس 8سمتھنگ ہوگا۔ آپ لیٹسٹ ورژن ڈاون لوڈ کر لیں“۔یہ سن کر ہمیں ایک ہی راستہ آسان نظر آیا کہ چیٹنگ کو خیر باد کہہ دیا جائے۔ہم نے ایسا ہی کیا اور اس کے بعد سے ہم پوری نیند سو رہے ہیں۔
ہمارے ایک دوست کی شادی ہوئی۔چندروز بہت اچھے گزرے ۔اسی دوران دوست کی والدہ میں”جذبہ ساسیت“ بیدار ہو گیا۔ انہوں نے ہر بات پر بہو کے ساتھ ٹوکم ٹوکا شروع کر دیا۔جب بیٹا گھر آتا تو بیوی شکایت کرتی کہ آپ کی اماں نے میرا ناطقہ بند کر رکھا ہے مگر وہ دیکھتا کہ اس کی والدہ بہو کا بے حد خیال رکھتی تھیں۔ انجام وہی روایتی قسم کا ہوا کہ میاں بیوی میں تلخیاں بڑھنے لگیں۔ بدقسمتی یہ تھی کہ ساس کو اس امر کا علم نہیں تھا کہ دلہن کا تعلق ”اِٹ“طبقے سے ہے۔اس نے اپنے بھیا کو فون کر کے کہا کہ ذرا اپنا ”اسپائی کیم“ مجھے دے جاو، بہت ضروری کام ہے، ایک روز بعد واپس لے جانا۔بھیا نے اسپائی کیم لا کر دے دیا۔ دلہن نے دن بھر کی ریکارڈنگ کر لی جس میں ساس کے ”پھنکارے“ بھی ریکارڈ ہوگئے۔ اسی رات جب ہمارا دوست گھر لوٹا تو اس کی والدہ نے حسب معمول بیوی کے خلاف اپنے بیٹے کے کان بھرے۔اس نے آو دیکھا نہ تاو، بیوی پر برسنا شروع کر دیا۔بیوی نے خاموشی سے ساری باتیں سنیں اور جواباً اسپائی کیم کی ریکارڈنگ چلا دی۔شوہر اسے سن کر ہکا بکا رہ گیا اور ا س نے بیوی کو علیحدہ مکان لے کر دیدیا۔
دیکھا جائے تو ہمارے ہاں کے اکثربڑے، صاحبان اختیار اور سیاستداں خود کو''اِٹ "اور ساڑھے 19 کروڑ عوام کو"لِٹ" میں شامل سمجھتے ہیں۔یقین نہیں تو ان سے ملکی حالات، مہنگائی، لوڈ شیڈنگ، امن و امان کی ابتری یا قومی ترقی میں انحطاط کے حوالے سے کوئی سوال کر کے دیکھ لیں،آپ ہمیں سچا سمجھنے لگیں گے۔
 
 
 

شیئر: