Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چینی جوڑے کی 10ہزار پونڈ میں بیٹا خریدنے کی کوشش

گوانگ ڈونگ .... زمانہ قدیم کی یہ سوچ اب بھی برقرار ہے کہ خاندان یا کنبہ چلانے کیلئے اور نسب کا نام پیدا کرنے کیلئے اولاد نرینہ کا ہونا ضروری ہے تاہم اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہزار کوششوں کے باوجود انسان اپنے طور پر اس سلسلے میں بالکل مجبور ہے اور اسکی خواہش کے مطابق بچے پیدا نہیں ہوسکتے۔ قدرت مہربان ہوجائے تو الگ بات ہے۔ اسی سوچ کے حامل ایک چینی جوڑے نے جو اولاد نرینہ کا خواہاں تھا اور اسکے لئے دل و جان سے کوشاں تھا اور 7بچیوں کی پیدائش کے بعد آخری چارہ کار کے طورپر10ہزار پونڈ میں ایک بچے کو خریدنے کی کوشش کی تاکہ خاندان کا نسب جاری رہے۔ یہ خریداری قانونی اعتبار سے غلط تھی جسکی بناءپر اطلاع ملتے ہی قانون نافذکرنے والے ادارے حرکت میں آئے دونوں کو گرفتار کرلیا گیا اور مقدمہ اب عدالت تک پہنچ چکا ہے جس میں ان پر فرد جرم بھی عائد کی جاچکی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مسٹر اور مسز چن کا تعلق گوانگ ڈونگ کے فونگ شون کاﺅنٹی سے ہے۔ ایک مقامی طور پر گشت کرنے والی اطلاع کے مطابق جس بچے کو ان دونوں نے خریدنے کی کوشش کی وہ مبینہ طور پرایک اغوا شدہ بچہ تھا لیکن دونوں میاں بیوی کا کہناہے کہ انہیں قطعی طور پر یہ علم نہیں تھا کہ جو بچہ وہ خرید رہے ہیں وہ اس شخص کا نہیں اور اغوا کیا گیا ہے۔

شیئر: