Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سمندروں میں غرق جہازوں میں لوٹ مار

لندن ..... دنیا کے کئی ممالک کی طرح برطانیہ میں بھی ادھر اُدھر پڑی ہوئی دھات کی چیزیں تلاش کرنے کا کام جاری ہے او ربہت سے لوگ قانونی اور غیر قانونی طور پر اس قسم کے خزانے تلاش کرتے رہتے ہیں اور اس کوشش میں وہ نہ صرف زمین پر برسرپیکار ہوتے ہیں بلکہ سمندر کے نیچے بھی یلغار کرتے ہیں اور وہاں خزانے ڈھونڈتے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے تقریباً 40جہاز جن میں برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، ہالینڈ اور جاپان کے ساڑھے 4ہزار ملاحوںوغیرہ کی لاشیں بھی موجود ہیں مختلف جگہوں پر سمندر میں پڑی ہوئی ہیں اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان میں سے بیشتر جہازوں کا ملبہ جس میں بہت ساری طلائی اور نقرئی زیورات کے علاوہ دوسری قیمتی دھات کی چیزیں بھی شامل تھیں۔ غیر قانونی طور پر فروخت کردی گئی ہیں یا چوروں نے اسے غیر قانونی طور پر حاصل کرلیا ہے اور اسے نکال کر عالمی منڈیوں میں فروخت کرنا شروع کردیا ہے۔ برطانوی حکومت کو اندیشہ ہے کہ اب یہ طالع آزما قسم کے غوطہ خور جنہیں چور کہنا مناسب ہوگا۔ 70سال سے سمندر میں غرق جنگی جہازوں پر بھی ہاتھ صاف نہ کردیں۔

شیئر: