عرب شہروں میں القدس کیلئے مظاہرے

ریاض .... عربوں نے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے ٹرمپ کے فیصلے کا جواب بڑے شہرو ںمیں غضب آلود مظاہرے نکال کر دیا۔ فیصلے کےخلاف فلسطینی شہری القدس میں سڑکوں پر نکل آئے۔ قابض اسرائیلی حکام نے مظاہرین پر اشک آور بم استعمال کئے۔ فلسطینی ذرائع کا کہناہے کہ الخلیل میں پناہ گزینوں کے کیمپ العروب کے سامنے اسرائیلی فوج اور فلسطینی نوجوانوں میں جھڑپیں ہوئیں۔ غرب اردن کے متعدد شہروں میں اسی طرح کے زبردست جلوس او رمظاہرے کئے گئے۔ لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کے خیموں میں مظاہرے کئے گئے۔ برج البراجنا، نہر البرد اور عین الحلوة میں زبردست جلوس نکالے گئے۔ جنوبی لبنان کے الرشیدیہ کیمپ اور البداوی کیمپ کے فلسطینی بھی مظاہروں کی شکل میں سڑکوں پر آگئے۔ ترکی کے شہروں میں زبردست مظاہرے ہوئے۔ انقرہ، استنبول ، دیار بکیر، اسیکیشھیر میں ہزاروں لوگوں نے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے نعرے لگائے کہ القدس فلسطین کا دارالحکومت تھا، ہے او ررہیگا۔ اردنی دارالحکومت عمان، معان میں مظاہرے کئے گئے۔ ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کی گئی۔ اسی طرح مارکا، الوحدات اور النصر میں بھی عرب اور مسلم ممالک سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے مطالبے کئے گئے۔ عمان میں امریکی سفارتخانے کے قریب کھڑے ہوکر 20شہریوں نے امریکی قرارداد کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے نعرے لگائے کہ امریکہ اژدھے کا سر ہے ۔ امریکہ مردہ باد ، امریکہ شرمناک، عراقی دارالحکومت بغداد میں مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کئے۔ سڑکوں اور دیواروں پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جملے تحریر کئے۔ دکانداروں نے دکانیں بند کردیں۔
 

شیئر: