Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دل میں رہی بلا کی دھوم

محمد مجاہد سید۔لکھنو
عمر تمام روز و شب خوب تھی اک صدا کی دھوم
آنکھ تو نم ہوئی مگر دل میں رہی بلا کی دھوم 
چاک گریباں سل گئے، زخم ہوئے ہیں مندمل
ختم ہوئی بہار کیا؟ ختم ہوئی فضا کی دھوم 
کیا کَہیں اہل قافلہ، کیا ہوا شہر و دشت میں 
خوبب ہُوا ہَوا کا رقص، خوب مچی ہوا کی دھوم 
لوگ نکل کے گھر سے کیوں راہ میں آ کھڑے ہوئے
رہتی ہے کیا سدا یہی، آمد آشنا کی دھوم 
آدمی کی نگاہ میں، آدمی جیسے کچھ نہیں 
دیکھی ہے ہم نے کیا نہیں، عمر گریز پا کی دھوم 
جسم میں تھرتھری پڑی اور زباں بھی بند ہے
اُف شب ماجرا کی دھوم، اُس شب ماجرا کی دھوم
 
 

شیئر: