گھوڑا ، خچر اورگدھا ، ایک خاندان ، قسمتیں مختلف

 ان کے باپ نے شادی کی توپہلے گھوڑا ، 10سال بعد خچر اور20سال بعد گدھا پیدا ہوا
شہزاداعظم۔جدہ
گھوڑا ، خچر اورگدھا سبھی بے چارے باربرداری کے لئے استعمال کئے جانے والے جانور ہیں جو اپنے دونوں ہاتھ بھی زمین پر رکھ کر چلتے ہیں۔ چوپائیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تینوں ایک ہی خاندان کے ارکان اور ایک ہی باپ کی اولاد ہیںمگر بلحاظِ قسمت ان کی زندگیوں میں بے حد تفاوت پایا جاتا ہے۔ ان کے باپ نے جب شادی کی تو ”دولہا“ کی عمر 18برس اور ”دلہن“ کی عمر 16برس تھی۔ ان کے ہاں سب سے پہلے گھوڑا پیدا ہوا۔ وہ بہت ہی ذہین ، صحتمند، چاق و چوبند، معاملہ فہم اور فرمانبردار تھا۔ اس کے 10برس کے بعد گھوڑے کا ایک بھائی تولد ہوا جو خچر تھا۔ یہ گھوڑے کے مقابلے میں ذرا کمزور، ذہنی اعتبار سے کم فہم اور کافی حد تک فرمانبردار تھامگر اس کی طبیعت میں ضد اور ہٹ دھرمی کا عنصر موجود تھا۔ وہ اپنے خاندان کے افراد سے زیادہ محبت بھی نہیں کرتا تھا۔ اسی لئے بھائی ہونے کے باوجود گھوڑے کی ، خچر سے زیادہ نہیں بنتی تھی۔
خچر جب 20سال کا ہوگیا تو گھر میں ایک اور بھائی آگیا جو اس خاندان کا آخری رکن ثابت ہوا کیونکہ اس کے بعد ان تینوں کے اماں ابا مٹی ہو گئے۔ گھوڑے نے بڑا بھائی ہونے کے ناتے باپ کی جگہ لیتے ہوئے دونوں بھائیوں کی تربیت کرنے کی کوشش کی مگر خچرکی ضدی طبیعت اورگدھے کی کم عقلی آڑے آئی اور دونوں ہی اپنے اپنے انداز میں پروان چڑھے۔ گھوڑے نے بہت سمجھایا کہ اگر میرا کہا نہ مانا تو ساری زندگی خوار ہوتے رہو گے مگر ان دونوں نے بڑے بھائی کی ایک نہ سنی ۔اسی لئے آج گھوڑے کو وہ بلند مقام حاصل ہے کہ وہ سرداروں، وڈیروں، ہرکاروں، پولیس اہلکاروں اور عسکریت کے ماہروں کی خدمت گزاری کرتا ہے اور وضع وضع کے چارے جی بھر کر کھاتا ہے۔ اس پر سوار ہونے والے بھی خود کو طرم خاں سمجھتے ہیں۔یہ اکثر اُن لوگوں کے زیر استعمال ہوتا ہے جنہیں دنیا بہت عزت دیتی ہے، ان کا خیال رکھتی ہے اور ان پر توجہ دیتی ہے جبکہ وہ بذاتِ خود دنیا کو گھاس نہیں ڈالتے بلکہ صرف اپنے گھوڑے کو ہی گھاس پیش کرتے ہیں۔ 
گھوڑے کی بعض جبلی خصوصیات مثلاً برق رفتاری سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے اور اسے دوڑ کے مقابلوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے ناز نخرے بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ وہ آدھی رات کو بھی ذرا سا ہنہنا دے تو اس کا سائیس یا مالک فوراً چھلانگ لگا کر بستر سے باہر آتا ہے اور دیکھتا ہے کہ میرے گھوڑے کو کیا ہوا۔
دوسری جانب خچر ہے، اس کی ہٹ دھرمیاں اس قدر بڑھیں کہ اس کے بارے میں یہی خیال عام ہو گیا کہ ”کام کا نہ کاج کا، ڈھائی من اناج کا۔“گھوڑے کے مقابلے میں اس کی ذہانت کم ہونے کے باعث حکام و افسران اس کی پشت پر سوار ہونے سے گریز کرتے ہیں۔ اسے دوڑ وغیرہ کے مقابلوں میں بھی شرکت کا موقع نہیں دیا جاتا۔ یہ اپنی اس کم حیثیت کے باعث غریبوں کے استعمال میں زیادہ رہتا ہے۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں دنیا بالکل نہیں پوچھتی البتہ یہ لوگ دنیا والوں کا بہت خیال کرتے ہیں۔ اس سے عموماً وہ لوگ خدمات لیتے ہیں جو دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں۔ وہ خچروں پر سوار ہوکر اپنے کام کاج کی جگہوں یا آفس وغیرہ جاتے ہیں۔ یہ اُن علاقوں میں اس لئے بھی زیر استعمال رہتا ہے کیونکہ وہاں سڑکوں پر لوگ ہی کم نظر آتے ہیں۔ کسی کو علم ہی نہیں ہوپاتا کہ ہمارے ہاں آنے والا خچر پر آیا ہے یا گھوڑے پر۔اسے کھانے کے لئے بھی مقررہ مقدار ہی دی جاتی ہے اور جب مالک کے پاس کچھ نہیں ہوتا تو وہ اسے دوسروں کے کھیتوں میں چرنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ 
تیسری جانب گدھا ہے۔جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ واقعی گدھا ہی ہوتا ہے۔ اس میں بے وقوفی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اس کاقدر و منزلت کا سبب یہ ہے کہ اس میں فرمانبرداری کا عنصر خاندانی طور پر موجود ہوتا ہے۔اسے استعمال کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں نہ تو دنیا کوئی حیثیت دیتی ہے اور نہ وہ خود دنیا کو کوئی حیثیت دینے کے قابل ہوتے ہیں۔اسی لئے گدھے کا مالک اس کا کوئی ناز نخرہ اٹھانے کے بارے میں سوچتا ہی نہیں۔ وہ ہزار ڈھینچو، ڈھینچو کرے، مالک اس کی جانب توجہ ہی نہیں دیتا۔ اگر گدھا زیادہ شور مچائے تو وہ اسے کوڑا مارتا ہے جس سے گدھا مالک سے خوش ہوجاتا ہے کہ میں نے اسے متوجہ کرنے کے لئے آواز اٹھائی اور اس نے فوری توجہ دیتے ہوئے مجھ پر کوڑا برسایا اور یہ کام توجہ دیئے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ وہ اسی میں خوش ہوجاتا ہے کہ میں اپنے مشن میں کامیاب رہا ۔
ہرانسان گدھے کو بے توقیر جانور سمجھتا ہے حتیٰ کہ کسی کو بے توقیر کرنا ہو تو اسے گدھے پر سوار کرکے شہر بھر میں سیر کرادی جاتی ہے۔ اس بے چارے کی حیثیت کا اندازہ لگائیے کہ گدھے پر سوار شخص کے بارے میں کچھ کہا جائے یا نہ کہا جائے، دیکھنے والا سمجھ لیتا ہے کہ یہ کوئی بے عزت شخص ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ گدھے کی بے توقیری دراصل اس کی بیوقوفی کے باعث ہوتی ہے۔اگر یہ بھی ذرا عقل سے کام لینا شروع کر دے تو لوگوں کے لئے گدھے اور گھوڑے میں تمیز کرنا مشکل ہونے لگے گا۔
آج کل ہمارے وطن عزیز میںتاریخ کی بدترین مہنگائی موجود ہے جس میں روز بروز اضافہ ہی ہو رہا ہے۔انجامِ کار پہلے جو سفید پوش تھے، اب ”کچھ کچھ پوش“ہو چکے ہیں اور جو پہلے ہی کچھ کچھ پوش تھے، اب ”بے پوش“ ہوتے جا رہے ہیں۔ایسے ”ب پوش “ہمارے معاشرے کے دو طبقات میں ہی پائے جاتے ہیں ایک تو اُس طبقے کے افراد میں جن کے منہ سے نوالے چھینے جا چکے ہیں اوران کے پاس ایک وقت کے لئے کھانے کو نہیں۔یہ لوگ مجبوراً ”بے پوش“ ہوتے ہیں جبکہ”ب پوشوں“ کا دوسرا طبقہ وہ ہے جو اِ سے نوالے چھینتا ہے اور خود دن رات میں 5وقت” کولیسٹرول فری ڈائٹ“ کھانے کا عادی ہے۔یہ لوگ شوقیہ ”بے پوش“ ہوتے ہیں۔مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ مہنگائی نے غریب عوام کو گدھا بنا دیا ہے کیونکہ نہ تو حکومت انہیں پوچھتی ہے اور نہ وہ حکومت کو پوچھتے ہیں۔ صاحبانِ اختیار جو کہہ دیتے ہیں، یہ اس پر عملدرآمد شروع کر دیتے ہیں۔ جب رہنماﺅں کو ووٹ لینا ہوتا ہے تو وہ انہی غریبوں کے پاس آتے ہیں، روتے ہیں، دہائیاں دیتے ہیں، اپنی مظولومیت کے من گھڑت قصے سناتے ہیں جنہیں سن کر یہ غریب بھی آبدیدہ ہوجاتے ہیں اور وہ تن ، من ،دھن سے اسے ووٹ دینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔پھر جب وہ کرسی پر جا بیٹھتا ہے تو غریبوں کو بھول جاتا ہے، ان سے کئے گئے وعدوں کو بھلا دیتا ہے اور ان کا خون نچوڑنے لگتا ہے۔ یہ بے چارے خاموشی سے استحصال کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔
ہمارے ملک میں زیادہ سے زیادہ مال کمانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ہر کوئی اپنے اختیارات کا جائز و ناجائز استعمال کر کے پیسہ بٹورنے کی دھن میں مگن ہے۔جسے دیکھو ،دوسرے سے سبقت لے جانے کے لئے سرپٹ دوڑا جا رہا ہے۔کسی کو یہ احساس نہیں کہ ہمارے اس چلن سے ملک و قوم کو کتنا نقصان ہوگا۔ایسا کرنے والوں میں عقل کی کمی نہیں بلکہ فقدان ہے۔ ان کے ”بڑے“ جب انہیں کوڑا مارتے ہیں تو وہ اس پر بھی خوش ہوتے ہیں کہ ”دیکھا!ہماراکتنا خیال ہے ”بڑے بھائی“ کو، جیسے ہی ہمارے قدم انکی مرضی کے خلاف اٹھنے کا خدشہ ہوا، فوراً انہوں نے ہمیں ”ٹائمنگز“ یاد دلا دی ۔ وہ ایک لمحے کے لئے بھی یہ نہیں سوچتے کہ اس ٹائمنگز کا اردو ترجمہ ”اوقات “بھی ہوتا ہے۔
 

شیئر: