#زینب_کیلئے_انصاف

قصور میں 7 سالہ ننھی زینب کو درندگی کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیا گیاجس پر عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔پاکستان میں پچھلے 22 گھنٹے سے ہیش ٹیگ #زینب_کیلئے_انصاف ٹویٹر پر پہلے نمبر پر ہے جوبعد ازاں عالمی ٹرینڈ میں بھی دوسرے نمبر کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
ایم این اے عائشہ سید نے ٹویٹ کیا:قصور میں معصوم زینب کے ساتھ زیادتی اور لرزہ خیز قتل کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کروا دی ۔تحریک التواءمیں ملزم کوعبرتناک سزا اور جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیاتاکہ آئندہ کسی کی ایسی بربریت کا سوچتے ہوئے بھی روح کانپ جائے۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا:چیف آف آرمی ا سٹاف نے ننھی زینب کے قتل پر مذمت کی،متاثرہ والدین کی اپیل پر چیف آف آرمی اسٹاف نے جواب دیا اور مجرموں کو گرفتار کرنے اور قانون کے سامنے لانے کے لئے سول انتظامیہ کو فوری طور پر حمایت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
معروف پاکستانی جرنلسٹ اور سر عام پروگرام کے ہوسٹ اقرار الحسن نے ٹویٹ کیا:پچھلے ایک سال میں زینب جیسی 10 بچیاں ایک ہی ضلع قصور میں ایسی درندگی کا نشانہ بنی ہیں۔ زینب کے بعد ایک اور مثلہ کی ہوئی لاش ملی ہے۔ اچھا معاف کیجئے گا، شادی، تحریک عدل، الیکشن، بلوچستان اسمبلی وغیرہ کی خبروں میں آپ کو زحمت دی۔
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے ٹویٹ کیا:قصور سانحہ پر سینٹ میں میری طرف سے تحریک التوا جمع کروا دی گئی ہے۔ الفاظ نہیں جو اس سانحے کی شدت بیان کر سکیں۔ کم سے کم الفاظ میں یہ نظام قانون و انصاف پر زوردار طمانچہ ہیں۔ اسی قصور میں ایک درجن کے قریب ایسے واقعات ہیں مگر حکومت و عدالت کسی ایک ملزم کو سزا نہیں دے سکیں۔معصوم بچی کا اس گھناو¿نے طریقے سے قتل درندگی کی بدترین مثال ہے۔ ہر آنکھ اس پر اشکبار ہے۔ فیصل آباد میں بھی ایسے دو واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر ایسی خبریں پڑھنے سننے کو ملتی ہیں۔ حکومت و عدالت کے ساتھ یہ پورے معاشرے کے لئے سوالیہ نشان ہے۔
اقرار الحسن نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا:تمام شہر سوگوار ہے، مکمل شٹر ڈاو¿ن اور جگہ جگہ احتجاج جاری ہے۔ بچی کے والدین عمرے کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب میںتھے جن کے آج شام آنے کے بعد پیاری گڑیا کو منوں مٹی سپرد کر دیا جائے گا۔رانا ثناءاللہ صاحب کا کہنا ہے میڈیا قصور میں اشتعال پھیلا رہا ہے۔ایک معصوم بچی زیادتی کے بعد قتل ہونے تک کس کس تکلیف سے گزری، ا±س کا احساس کئے بغیر، معاملے کو مذاق بنایا جا رہا ہے۔ احتجاج کریں تو پولیس کی اسٹریٹ فائرنگ۔
ضیا الاسلام نے سارے واقعے کو اشعار میں اس طرح بیان کیا:
ماں میرا قصور نہیں تھا
 اک چاچو سے ٹافی لی تھی
 بابا سا وہ لگتا تھا 
مجھے بولا تم ہو بیٹی میری 
اس کے پہلو میں بیٹھ گئی میں 
ہاتھ میرے جو سر پر پھیرا 
میں سمجھی تھی انسان ہی ہوگا 
اس کی بھی کوئی بیٹی ہوگی 
شاید وہ میرے جیسی ہوگی
 
 

شیئر: