ذوالفقار علی بھٹو میں عالم اسلام کو اپنے خوابوں کی تعبیر نظرآئی

پیپلز پارٹی نے عالم اسلام کو نئی راہوں پر ڈالا، پی پی ریاض کی تقریب اورمقررین کا خطاب
ریاض(جاوید اقبال) عالم اسلام کا اتحاد ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کا بنیادی ہدف تھا او رلاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد اس مقصد کے حصول کی طرف پہلا قدم تھا۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی ریاض کے زیر اہتمام ذوالفقار علی بھٹو کے یوم پیدائش کے حوالے سے پیپلز پارٹی ریاض کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی تقریب میں مختلف مقررین نے کیا۔ صدارت پارٹی کے قائم مقام صدر محمد خالد رانا نے کی جبکہ نظامت کے فرائض جنرل سیکریٹری وسیم ساجد نے ادا کئے۔ تقریب کا آغازکرتے ہوئے ناظم نے کہا کہ 5جنوری 1928ءکے دن سرشاہنواز بھٹو کے ہاں ولادت پانے والے بیٹے کے بارے میں کون کہہ سکتا تھا کہ ایک دن وہ عالم اسلام کا مقبول ترین رہنما ہوگا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے عالمی سیاست کا دھارا بدل دیا۔ صداقت حسین برگوش نے اس بات پر ذوالفقار علی بھٹو کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے 1973ءکا آئین قوم کو دے کر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دینی حدود کی تعریف متعین کردی تھی۔ سردار محمد ادریس خان نے کہا کہ بھٹو نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا تھا۔ احسن وقار عباسی نے واضح کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو ان کے حقوق کا شعور دیا۔ ذکاءاللہ محسن نے اس بات پر بھٹو کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے اسلامی بینک کی بنیاد رکھی اور وطن کو جوہری توانائی کے حصول کی راہ پر ڈالا۔ الیاس رحیم نے ذوالفقار علی بھٹو کو آسمان سیاست پر ایک چمکتا ستارہ قرار دیا اور یہ کہ ان کی ذات میں اسلامی دنیا کو اپنے خوابوں کی تعبیر نظرآئی تھی۔ یونس ابو غالب نے ذوالفقار علی بھٹو کو ایک دوراندیش شخصیت قرار دیا اور واضح کیا کہ آج بھی خلق خدا ان کے گیت گاتی ہے۔ مہمان خصوصی پی پی آزاد کشمیر سعودی عرب کے صدر سردار محمد رزاق خان نے کہا کہ پاکستان اور دنیا بھر میں پاکستانی تارکین ذوالفقار علی بھٹو کا یوم پیدائش مناتے ہیں جو اس رہنما کے ہردلعزیز ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگر بھٹو زندہ ہوتے تو کشمیر آزاد ہو چکا ہوتا اور پاکستان دنیا کی سب سے بڑی جوہری طاقت ہوتا۔ اگر بھٹو زندہ رہتے تو آج افغانستان اور جنوبی ایشیا میں امن ہوتا۔ اپنے خطاب میں محمد خالد رانا نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے رہنما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں عوام سے پیار تھا اور وہ جناح اور اقبال کے خواب کو حقیقت میں بدلنا چاہتے تھے۔ وہ تیسری دنیا کی اقتصادی آزادی کے لئے جدوجہد کر رہے تھے اور ایک صاحب بصیرت رہنما تھے۔ اس موقع پر ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے ایک کیک بھی کاٹا گیا۔

شیئر: