ناسا نے اسکائرز کی مدد لینے کا فیصلہ کرلیا

 کیپ کینورل /کیلیفورنیا .... امریکی خلائی تحقیقی ادارے نے جو زمین پر بھی متعدد تحقیقی کاموں میں مصروف رہتا ہے اب اپنی چند عملی دشواریوں پر قابو پانے کیلے سائنسی آلات کے بجائے اسکائرز سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر اسکا یہ فیصلہ مضحکہ خیز لگتا ہے مگر ادارے کا کہناہے کہ اسکائرز دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جمی برف کی پیمائش او رنوعیت دونو ںکا زیادہ بہتر اندازہ لگا کر ادارے کو باخبر کرسکتے ہیں اور انکی فراہم کردہ اطلاعات سے تحقیقی کام کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ واضح ہو کہ اب تک اس علاقے میں ہونے والی برفباری کا اندازہ لگانے کیلئے خود کار قسم کے سنسرز سے مدد لی جاتی ہے۔ یہ سنسرز ان اسٹیشنوں پر لگے ہیں جہاں کوئی عملہ موجود نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ بہت سارے سنسرز خراب ہوگئے ہیں یا شدید برفباری میں کام نہیں کرتے اسی لئے ناسا نے اب انسان سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حقیقی اعدادوشمار کے قریب پہنچ سکیں۔ناسا کے ارتھ سائنس کے شعبے نے ایسے شہریوں کو اس مقصد کیلئے باقاعدہ بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اسکائنگ کا تجربہ رکھتے ہیں اورخاص قسم کے لباس اور جوتوں کی مدد سے وہ پڑنے والی برف سے زیادہ درست اندازہ لگانے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے یونیورسٹی آف واشنگٹن مکے ماہرین طبقات الارض نے خصوصی رقم بھی مختص کردی ہے۔

شیئر: