دل کہتا ہے نہ چا ہتے ہوئے بھی کہا مان لیا جائے

تسنیم امجد۔ ریا ض
ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں میٹرو پو لیٹن پو لیس جیسے خود مختار ،آ زاد اور پرو فیشنل اداروں کا قیام ضروری ہے ۔پا کستان جیسے ملک کے لئے، جو ایٹمی طاقت بن چکا ہے، پو لیس ،سیکیورٹی کا ایک اہم محکمہ ہے ،اگر اسے بے سرو سامانی کی حالت میں اپنے فرائض ادا کرنے پر مجبور کر دیا جائے تو اس سے بہتری کی تو قع کیسے کی جا سکتی ہے ۔ایک ہی ملک میں سیکیو ر ٹی اداروں میں یہ تفریق کیو ں ہے ؟ 
عوام کی حفاظت کے لئے ” قانون کی حکومت“ اور چیک اینڈ بیلنس کا ہو نا ضروری ہے ۔ہر ملک کو اندرو نی سیکیو رٹی کے لئے بلا تفریق بہترین انتظامات کرنے چا ہئیں لیکن ہمارے ہاں یہ تفریق موجودکیو ں ہے ۔سوال یہ ہے کہ اسلام آ باد پو لیس کو ہی اان عنایات کا اہل کیو ں بنا یا گیا ؟ کیاباقی شہروں کی پو لیس ”نااہل“ ہے ؟اس کا پرسانِ حال کو ئی کیوں نہیں ؟ بے شمار سوال جواب طلب ہیں ۔پا کستانی تو ہر جگہ ایک سے ہیں جنہیں یکساں تحفظ درکار ہے ۔ہمیں ان پو لیس والو ں سے شکوے شکا یتیں تو بہت ہیں لیکن ذرا غور کریں تو اندازہ ہو گا کہ یہ نہا یت کم معاوضے کی وجہ سے ذہنی دباﺅ کا شکار رہتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ ان کی زندگی کی کسی کو پروا نہیں ۔ان کی تر بیت کا بھی کو ئی اعلیٰ معیار نہیں۔جدید آلات کا استعمال انہیں نہیں آ تا جبکہ مجر مو ں کے پاس جدید ترین ہتھیار ہوتے ہیں۔محکمانہ چیک اینڈ بیلنس نہ ہو نے کی وجہ سے سیکیو ر ٹی، سول انتظامیہ کے تا بع ہے ۔اس طرح اکثر وہ خود اس میں ملوث پا ئے جاتے ہیں ۔رشوت اور بھتہ عام ہے ۔لالچ نے ان کے دل سیاہ کر دیئے ہیں ۔صوبائی پولیس ہر مر حلے پر ناکام ہو رہی ہے ۔سنا ہے کہ حکومت اسے استحکام دینے کی بجائے ایلیٹ فورس ، ڈولفن فورس اور محافظ فورس جیسے تجربے کر رہی ہے۔ اس طرح عوام کو صحیح سیکیو رٹی میسر ہی نہیں ہو سکتی ۔جان و مال کا تحفظ اور بنیادی حقوق ایک خواب بن چکے ہیں ۔دہشتگردی کا خاتمہ بھی خواب بن چکا ہے ۔یو ں لگتا ہے، ہم بے اعتبار ہو کر رہ گئے ہیں۔شاید اسی صورتحال کے لئے کسی شاعر نے کہا تھا کہ :
اہلِ ہوس میں گرم ہے پھر جنگِ اقتدار
شعلو ں کی زد میں سارا گلستا ں ہے دوستو
دھنک کے صفحے پر دی گئی تصویر میں پولیس کا اندازِ گفتگو اور انداز اتنا مہذب ہے کہ دل کہتا ہے نہ چا ہتے ہوئے بھی اس کا کہا مان لیا جائے ۔یہ فرض کی بجا آ وری کا منہ بو لتا ثبوت ہے ۔کہاوت ہے کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گنداکردیتی ہے ۔اس محکمے کو بھی ایسی ہی مچھلیوں نے بدنام کیا ہے ورنہ ایمان دار اور فرض شناس پو لیس والے بھی موجودہیں ۔یہ سچ ہے کہ تھانہ کلچر ، پولیس کلچر اور تو ہین آ میز رویے معاشرے کے لئے نا سور بنتے جا رہے ہیں۔اس کی شکایت کس سے کریں کیو نکہ بد قسمتی سے ہمارے قواعد و ضوابط میں ہی اس سلسلے میں لچک موجود ہے ۔آ ئین کے اس حصے ، ” فار دی پرپز آف ایکسٹر یکٹنگ ایو یڈ نس “ کو ترمیم کے ذریعے ختم کیاجا نا چا ہئے ۔اہلِ اختیار اس کا ناجا ئز استعمال کرتے ہیں ۔سول انتظامیہ کی مداخلت نے حالات بگاڑ دیئے ہیں ۔ہمارے ہا ں بد قسمتی سے جو معاملات جیسے چل رہے ہیں ویسے ہی چل رہے ہیں ۔آ زادی کے بعد سے اس محکمے کی تنظیمِ نو نہیں کی گئی ۔اُس دور میں ان کے ہاتھ میں ڈنڈا تھما دیا گیا تھا ۔یہ ڈنڈا آج بھی ہے ۔ان کاکوئی قصور نہیں ۔انہیں 21 ویں صدی کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لئے تیار ہی نہیں کیا گیا ۔آج ڈنڈے کا دور نہیں۔ ریفریشر کور سز کی بدلتے حالات کے لئے ضرورت ہو تی ہے ۔اس محکمے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے ۔عوام میں ان کی کو ئی عزت نہیں۔کر پشن ان کی پہچان بن چکی ہے۔تھانہ کلچر تبدیل کیا جانا چا ہئے۔ انہیں حکمرا نو ں کی بجائے قا نون کے تا بع اور ا حتساب کے دائرے میں لا یا جانا چاہئے ۔
حال ہی میں بڑے بھیا کو ایک یو نیورسٹی کی کلاس فیلو پسند آ گئی ۔اماں سے منت سماجت کر کے ابا میا ں کو بھی منا لیا گیاکہ ان کے والدین سے ملیں گے تاکہ بات کچھ آ گے بڑھ سکے ۔ایک روز ابا میا ں نے پو چھا کہ صا حبزادی کے والدِ محترم کیا کرتے ہیں ؟ بھیا بولے پولیس میں ہیں۔یہ سنتے ہی ابا میا ں اپنی جگہ سے ا چھل کر کھڑے ہو گئے کہ جیسے کرنٹ لگ گیا ہو ،پھرگرج کر بولے ۔ہم ہر گز پو لیس والے کے گھر نہیں جائیں گے۔ اماں نے بھی ہا ں میں ہا ں ملائی ۔گھر کی اس ٹینشن نے ما حول کو اچھا خا صا متا ثر کیا ۔آ خر بھیا کو ہی ہتھیار ڈالنا پڑے ۔
ایک پو لیس والے کا کہنا ہے کہ سیا سی دباﺅ نے ہمیں بے بس کر ڈالا ہے ۔ہمارے بھی ا خراجات ہیں، اسی طرح جیسے دوسرو ں کے ہیں۔ہماری انا اور خودداری کو پامال کر کے رکھاجاتاہے ۔صاحبان تو ہم سے ” یس سر“ ہی سننا چا ہتے ہیں۔ہم ایک خوفز دہ ما حول میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ہمارے کندھو ں پر سجے ستارے ہمارے لئے کو ئی حقیقت نہیں رکھتے ۔دہشتگردی میں مارے جانے والوں کے نام بتا کر میڈیا جیسے کوئی احسان کر دیتا ہے ہے ۔ہم میں بہت محنتی اور دیا نتدار جوان و افسران بھی ہیں لیکن سب ہی ایک ہی لا ٹھی سے ہا نکے جا رہے ہیں ۔یو ں محسوس ہوتا ہے کہ:
ہر طرف ما یو سیا ں ، محرومیا ں، نا کا میا ں
زندگی سوزِ تمنا کے سوا کچھ بھی نہیں
پو لیس کوڈ آ ف پریکٹس میں اصول و ضوابط درج ہیں ۔انہیں صرف فا ئلوں تک محدود رکھا گیا ہے ۔صا حبانِ ا ختیار نہ جانے ان حقائق کی جانب تو جہ کیو ںدیتے ۔شاید اس لئے کہ ان میں سے اکثر خود بھی بے قاعدگیوں میں ملوث ہو تے ہیں۔معا شرے کو انارکی اور زبوں حالی کے سپرد کر کے اپنے ساتھ ہی نا انصافی کرتے ہیں کیو نکہ پکڑ سے چھو ٹنا نا ممکن ہے ۔
ہر قوم کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے ۔ہماری پہچان وہ ہے جس کی بنیاد پر ہم نے آ زادی حا صل کی تھی ۔ہمیں ہر لمحہ اسے مدِنظر رکھنا چاہئے ۔ صاحبان اختیار کو کوسنے کی بجائے ہمیں بھی اپنے گریبانوں میں جھا نکنا چاہئے ۔فرد اور ریاست میں چو لی دامن کا ساتھ ہے ۔اگر شہری اچھے ہو ں گے تو سب کچھ ا چھا ہو گا ۔ہم جمہوریت چا ہتے ہیں کیو نکہ اس میں ہمیں اپنے و جود کا احساس ہو تا ہے لیکن ہم اس کی کامیابی کی شرائط سے نا واقف ہیں یاپھر جان بو جھ کر انجان رہنا چاہتے ہیں ۔اگر ہمیںاپنے مسائل سے آ گاہ ہو تے ہو ئے اپنے ہا ں کام کرنے والے اداروں کی اہمیت و کار کردگی کا علم ہو توہم اپنے فرائض عمدہ طریقے سے نبھا سکتے ہیں۔ہم میں سے اکثر جانتے ہیں کہ پو لیس کے رویے کن حالات کا شکار ہیں۔اس لئے ہمیں اپنے رویو ں سے انہیں ان کی کم ما ئیگی کے ا حساس کو ختم کرنا ہو گا ۔رواداری سے دوسرے کو ا حترام کا احساس ہو تا ہے اور نتیجتاًنہ چا ہتے ہو ئے بھی وہ مثبت طور پر عمل کرتا ہے ۔قوانین ہمارے تحفظ اور تر قی کے لئے بنا ئے جاتے ہیں۔اگر ہم قانون کے ہا تھ مضبوط کریں گے تو اس کے نفاذ کے ادارے بھی ہمارے تعاون سے محظوظ ہو ں گے ۔ہمیں یہ سو چنا ہو گا کہ ان کو فرا ئض سو نپے گئے ہیں ۔ان کو بخوبی ادا کرنے پر ہماری تو جہ چا ہئے ۔ا حساسِ ذمہ داری کا فقدان دو نو ں جانب مسائل کا باعث بنتا ہے، سوال اگر ان کے بارے میں ہے توجواب دہ ہم بھی ہیں ۔ہمیں یاد رکھنا چا ہئے کہ قوانین کے ذریعے ہماری زندگیاں متوا زن ہو تی ہیں۔ بغیر روک ٹوک کے کو ئی بھی تنظیم اپنے مقا صد حا صل نہیں کر سکتی ۔ان کو نا فذ کرنے والے اداروں کا احترام کرنے سے ہم متوازن ما حول حاصل کرنے میں کا میاب ہو سکتے ہیں ۔اپنے رویو ں سے ہمیں دوسروں کو یہ ا حساس دلانا ہے کہ ان کی اہمیت ان کی نظر میں ہے یعنی انہیں ان کے عہدوں سے نہیں جا نچنا ۔کمزور کو کمزور کہنا اس کی تو ہین ہو تی ہے۔کیا خوب کہا گیا ہے کہ :
”ہر آ دمی اپنا در خت الگ اُگانا چا ہتا ہے،یہی وجہ ہے کہ انسا نیت کا باغ تیار نہیں ہو تا۔“
 

شیئر: