سعودی عرب میں سائیکل کا کلچر

عبدالعزیز السماری ۔ الجزیرہ
70برس قبل سعودی عرب میں سائیکل کا کلچر نہیں تھا۔ سماجی طور پر اسے پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ ناگواری کے طور پر اسے ”حصان ابلیس“ابلیس کا گھوڑا کہا جاتا تھا۔ سادہ مزاج لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ سائیکل کے پہئے اتنی تیزی سے کیوں کر حرکت کرپاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خواتین اپنے مردوں کو اس کے شر سے بچانے کیلئے پھونکا بھی کرتی تھیں۔ ایک عرصے بعد سائیکل سواری کا رواج شروع ہوا تاہم مرد حضرات ہی کو سائیکل استعمال کرنے کی اجازت ہوتی تھی۔ اس سلسلے میں بڑے سخت قاعدے ضابطے نافذ کرائے جاتے تھے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا ادارہ اس کا اجازت نامہ جاری کیا کرتا تھا۔ 
میں تسلیم کرتا ہوں کہ مجھے ابلیس کے گھوڑے پر سواری نہیں آتی تھی ۔ جولوگ تنگ سڑکوں اور قبرستانوں کی دیواروں پر سائیکل تیزی سے دوڑاتے تھے مجھے یہ منظر بڑا عجیب و غریب لگتا تھا۔ آج بھی جب میں کسی کو تیزی سے سائیکل چلاتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے زمین پر اس کے پہیوں کا توازن حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کئی عشروں سے میرے ذہن بلکہ لاشعورتک میں سائیکل کے حوالے سے جو خوف اور جو ناپسندیدگی جاگزیں ہے وہ پٹرول کے نرخوں میں اضافے کے بعد مجھے ایک بار پھراپنے ماضی اور اپنی فکر پر نظر ثانی کیلئے اکسا رہی ہے۔ میں نے کئی بار سائیکل سیکھنے کی کوشش کی ۔ ناکامی ہی ہاتھ آئی ۔ کہتے ہیں کہ بڑھاپے میں کوئی چیز سیکھنا ایسا ہی ہے جیسے پتھر میں نقش و نگار بنانا ہو۔
مجھے یہ جان کر بڑی تسلی ہوتی ہے کہ ریاض کی بلدیہ آج بھی دارالحکومت کی سڑکوں پر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں دیتی۔ ریاض میں سائیکل کیلئے اس طرح کے راستے مخصوص نہیں جیسا کہ ہالینڈ، سوئٹزر لینڈ یا فن لینڈ وغیرہ بہت سارے ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ہمیں سائیکل چلانے کیلئے اعلیٰ درجے کی مہارت درکار ہوگی ورنہ ریاض کی سڑکوں پر خطرناک حادثات رونما ہوسکتے ہیں۔ 
سائیکل یورپی ممالک کے شہروں اور قریوں میں ٹرانسپورٹ کا انتہائی اہم اور سستا ذریعہ مانا جاتا ہے۔ پٹرول کے نرخوں میں اضافہ اس کی ذمہ دار ہے ۔ اسی وجہ سے یورپی ممالک اپنے یہاں سائیکل سواروں کیلئے الگ راستے اور پارکنگ لاٹس قائم کئے ہوئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پٹرول پر انحصار کم کرنے کیلئے سائیکل سواری مناسب وسیلہ ہے۔ 
سائیکل کے استعمال کے حوالے سے ہالینڈ کو دنیا کا سب سے بڑا ملک مانا جاتا ہے ۔ 99فیصد عوام اپنے یومیہ کام نمٹانے کیلئے سائیکل ہی کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پٹرول کے بھا ری اخراجات سے بچنے اور انسان ، حیوانات اورنباتات کو پٹرول کے منفی اثرات سے نجات دلانے کیلئے سائیکل موثر ذریعہ ہے۔ 
عصر حاضر میں سائیکل سیاسی علامت بن چکی ہے۔ ذرائع ابلاغ بتا رہے ہیں کہ شمالی یورپی ممالک کے وزرائے اعظم اور سربراہ حضرات ایوان اقتدار آنے جانے کیلئے سائیکل استعمال کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے۔ اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ متعلقہ ملک کا وزیر اعظم غیر قانونی اثرونفوذ سے پاک ہے اور وہ عوام کی طرح خود کو بھی قانون کا پابند بنائے ہوئے ہے۔ 
سائیکل سے سفر کرنیوالے مشہور سیاست دانوں میں ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹے کا نام سر فہرست آتا ہے۔ یہ بعض اوقات سائیکل پر ہی سفر کرتے ہوئے صحافیوں کو انٹر ویو دیتے ہوئے دیکھے گئے۔ اوباما بھی ذرائع ابلاغ کے سامنے سائیکل پر سفر کرتے رہے ہیں۔ پوٹین کو بھی سائیکل سواری کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مصر کے موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی ایسی تصاویر مقبول ہوئیں جن میں وہ سائیکل چلارہے تھے تاہم مصر کے سابق صدر انور السادات پہلے عرب سیاستداں ہیں جنہوں نے سائیکل چلاتے ہوئے میڈیا کو اپنی تصاویر جاری کی تھیں۔ 
سائیکل یا ابلیس کے گھوڑے کی سواری ریاستوں کے سربراہوں اور وزرائے اعظم کی سواری بننے کی خبروں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عالمی سیاست میں کافی تبدیلیاں آچکی ہیں ۔ قائد حضرات آسائش اور دولت کی نمود و نمائش کے رواج سے دست بردار ہورہے ہیں۔ سیاستداںیہ کوشش کررہے ہیں کہ وہ بھی عام شہریوں کی طرح نظر آئیں۔ اس کو سادگی کے حوالے سے انسان کی علامتی فتح قراردیا جانے لگا ہے۔ 
چونکہ میں سائیکل کی سواری نہیں کرسکتا اسلئے عصر حاضر میں سیاسی عمل کی بنیادی شرط بھی پوری کرنے سے خود کو قاصر پاتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک میں بھاری لاگت والے پٹرول کے استعمال پر مجبور رہونگا تب تک میرے اخراجات کنٹرول سے باہر رہیں گے ۔ میری آرزو ہے کہ کاش میرے مسئلے کا حل بیرون مملکت سے آجائے ، ممکن ہے ابلیس کے گھوڑے کا کوئی نیا الیکٹرانک ایڈیشن آزاد ہوجائے۔ تسلی بخش پہلو یہ ہے کہ اب ہمیں ایسے کسی بھی گھوڑے پر سواری کیلئے شرعی فتویٰ لینے کی ضرورت نہیں پڑیگی۔ اسے چلانے کی مہارت یقینا درکار ہوگی ۔ خواتین کوعصر حاضر کے ابلیس کے گھوڑے پر سواری کے وقت اپنے مردوں کو فتنوں سے بچانے کیلئے پھونک مارنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

شیئر: