پی ایس ایل فائنل: کراچی میں سیکیورٹی انتظامات تسلی بخش ہیں

کراچی:غیر ملکی سیکیورٹی ماہرین نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2018 کے فائنل میچ کےلئے سیکیورٹی کے انتظامات کو اطمینان بخش قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ انتظامات اعلیٰ معیار کے اور حوصلہ افزاءہیں۔نیشنل اسٹیڈیم میں شیڈول پی ایس ایل تھری کے فائنل کےلئے فل ڈریس ریہرسل کی گئی جس میں پولیس، رینجرز اور فوج کے جوانوں نے حصہ لیا جن کی تعداد 8 ہزار سے 10 ہزار تک تھی۔فل ڈریس ریہرسل کے پہلے مرحلے میں سیکیورٹی اہلکاروں نے قائد اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے نجی ہوٹل تک ریہرسل کی۔ بعد ازاں ہوٹل سے نیشنل اسٹیڈیم تک کی سیکیورٹی کا جائزہ لیا گیا۔اسٹیڈیم پہنچنے کے بعد سیکیورٹی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں غیر ملکی سیکیورٹی مبصرین کو بریفنگ دی گئی۔اس دوران سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات بھی کئے گئے جبکہ اسٹیڈیم کے اطراف میں پولیس رینجرز اور فوج کے اعلیٰ افسران موجود رہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے سیکیورٹی سربراہ کرنل (ر) اعظم نے سیکیورٹی کے حوالے سے غیر ملکی ماہرین کو بریفنگ دی جبکہ کمانڈوز نے گراونڈ کے اندر کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کےلئے ایکشن بھی کرکے دکھایا۔غیر ملکی ماہر ریگ ڈیکاسن نے نیشنل اسٹیڈیم میں قائم کئے جانے والے کنٹرول روم اور موبائل ہسپتال کا دورہ کیا جس کے بعد انہوں نے تمام تر سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ریگ ڈیکاسن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ پی ایس ایل 2018 ءکے فائنل کےلئے سیکیورٹی انتظامات سے مطمئن ہیں تاہم وہ اس کی رپورٹ 7 روز میں پی سی بی کو پیش کریں گے۔ انہوں نے پی ایس ایل تھری کے فائنل کو کراچی میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کےلئے اہم قدم قرار دیا۔کراچی میں تمام انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد غیر ملکی سیکیورٹی ماہرین کا قافلہ لاہور کےلئے روانہ ہوگیا جہاں پر پلے آف مقابلوں کےلئے سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس تمام ریہرسل اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کےلئے سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے بھی نیشنل اسٹیڈیم کا دورہ کیا۔ وزیر داخلہ نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل فائنل کےلئے سیکیورٹی کے انتظامات عالمی معیار کے مطابق ہیں۔ گزشتہ برس وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے کراچی میں پی ایس ایل فائنل کروانے کا وعدہ کیا تھا جسے پورا کیا اور امید ہے کہ کراچی میں یہ فائنل خوش اسلوبی کے ساتھ ہوگا۔سیکیورٹی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے ۔ کوشش ہے کہ سندھ کے عوام کو کرکٹ واپس ملے۔

شیئر: