Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وطن عزیز اور قومی مکالمہ

عبدالرحمان الراشد ۔ الشرق الاوسط
سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں بازیابی کی جنگ میں شاہ فیصل رحمتہ اللہ علیہ کی زیر قیادت لڑنے والے کمانڈروں میں ایک کمانڈر میجر جنرل سعید جودت بھی تھے۔ شاہ فیصل ،سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کو بازیاب کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ سعودی افواج الحدیدہ شہر تک پہنچ گئی تھیں تاہم شاہ عبدالعزیزرحمتہ اللہ علیہ کی ہدایت پر 3ماہ بعد سعودی افواج اپنی سرحدوں پر واپس آگئی تھیں ۔ سعید جودت مملکت کا پراگندہ شیرازہ جمع کرنیوالی جنگوں میں بھی شریک رہے۔ 
میں متعدد اسباب کے پیش نظر میجر جنرل سعید جودت کی زندگی پر روشنی ڈال رہا ہوں۔ وہ شروع میں ترک فوج کے افسر تھے۔ شاہ عبدالعزیز کے ساتھ جنگ میں شکست کھا گئے تھے۔ جب انہیں اور دیگر جنگی قیدیوں کو ہاتھ پیر کی زنجیروں سے آزاد کرکے شاہ عبدالعزیز کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے سعید جودت کو اختیار دیا کہ وہ اور ان کے رفقائے کار چاہیں تو اپنے وطن واپس چلے جائیں اور چاہیں تو سعودی افواج کا حصہ بن جائیں ۔ میجر جنرل سعید جودت نے شاہ عبدالعزیز کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دی ۔ ان کے متعدد فوجی بھی سعودی فوج کا حصہ بن گئے جبکہ دیگر اپنے وطن ترکی چلے گئے۔ سعیدجودت بانی مملکت کے معتمد بن گئے۔ شاہ عبدالعزیز نے انہیں انتہائی اہم اور غیر معمولی حیثیت کا ایک عہدہ تفویض کیا۔ انہیں شاہی حفاظتی دستے کا کمانڈر بنا دیا۔ 
شاہ عبدالعزیز منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ تنگ نظر نہیں تھے۔ تعصبات سے پاک تھے۔ وہ خطے کے دیگر رہنما¶ں اور اپنے دور سے آنے والے دور پر نظر رکھنے والے رہنما تھے۔ وہ عظیم الشان آرزوئیں رکھنے والی ریاست کے قائد تھے۔ شاہ عبدالعزیز نے جن جن لوگوں سے جنگ کی اور اُن پر فتح یاب ہوئے انہیں ریاست کے اداروں میں شامل کرتے چلے گئے۔ انہوں نے اپنی حکومت اور اپنی کابینہ میں قبائل کے رہنما¶ں اور معاشرے کے عمائدین کو شریک کیا۔ انہوں نے مصر ، شام، فلسطین، عراق اور لیبیا وغیرہ کی شخصیتوں کو اپنی ٹیم کا حصہ بنایا ۔انہیں سعودی عرب کی شہریت دی۔ یہ سب لوگ شاہ عبدالعزیز کے مردمیداں بن گئے۔ ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے بانی مملکت کے پرچم تلے جنگ کی۔ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے نئی سعودی ریاست کے قیام میں حصہ لیا۔ یہ اسوقت کی بات ہے جب سعودی عرب غریب ملک تھا۔ اس کے پاس پٹرول نہیں تھا اور یہ وہ لوگ تھے جو اپنے ممالک کو خیر باد کہہ کر سعودی عرب آئے ہوئے تھے اور بانی مملکت کے منصوبے کی اہمیت کے معترف تھے۔ 
یہ قصہ، ہوسکتا ہے اُن لوگوں کے ذہنوں کے بند دریچے کھول دے جو آج کے سعودی عرب کو تنگ نظری سے دیکھ رہے ہیں۔ممکن ہے اس قصے کی بدولت ان کی سمجھ میں وہ باتیں آجائیں جن پر بانی مملکت کی نظر تھی۔ یہ لوگ سعودی عر ب کو چھوٹا اور محدود وسائل کا مالک ملک گردان رہے ہیں۔ ان کے خواب معمولی سے ہیں۔ غیر ملکیوں کو سعودی شہریت دینے کے خوف سے ان میں گھبراہٹ پیدا ہورہی ہے حالانکہ اس میں خوف وگھبراہٹ کی کوئی بات نہیں۔غیر ملکیوں کو سعودی قانون کے بموجب شہریت دینے سے نہ تو ہمارا معاشرہ اپنی شناخت کھو بیٹھے گا اور نہ ہی اس سے غیر ملکی مملکت پر چڑھ دوڑینگے۔ یہ الگ بات ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک مثال کے طور پر اردن، لبنان،کویت ، ترکی، برطانیہ اور امریکہ وغیرہ میں بھی شہریت دینے کی مخالفت میں تحریکیں چلنے لگی ہیں۔اس قسم کی نسل پرستی کا دائرہ سعودی شہریوں تک محدود نہیں ۔ مارکیٹ میں مسابقت اور بےروزگاروں کی لمبی چوڑی لائنوں کی وجہ سے اس قسم کی صورتحال جنم لے رہی ہے۔ مخالفت کو اپنی سوچ کے اظہار کا آسان ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ رابطے کے سریع رفتار،آزاد اور آسان ذرائع نے تعصبات کے اظہار کو سہل بنا دیا ہے۔سوچنا یہ ہے کہ ابھی ہم ایک ایسے گروپ کی زنجیروں سے آزاد ہوئے ہیں جو 2عشروں تک خود سے اختلاف کرنے والے عناصر کو دیوار سے لگائے ہوئے تھا۔ جو بھی اس سے اختلاف کرتا اسے ایک طرح سے اسلام سے خارج کردیا جاتا، اسلام پر اجارہ داری قائم کئے ہوئے تھا۔ اب ایک ایسا گروہ ابھر رہا ہے جو وطن کو اپنے اور اہل و عیال تک محدود کرنا چاہتا ہے۔ دیگر کو اس کا حقدار بنانے سے روک رہا ہے۔ مسلمہ حقائق بتاتے ہیں کہ ریاست سب کیلئے ہوتی ہے، چند لوگوں کیلئے نہیں۔ ریاست کے قوانین و دستور ہی اس کا سرچشمہ ہوتے ہیں ، فخر و مباہات اور قبائلی انتساب نہیں۔
سعید جودت عراق کے کردی تھے، ترک فوجی تھے، شاہ عبدالعزیز نے انہیں اپنا ہم وطن بنالیا۔ ڈاکٹر عبداللہ الدیملوجی بھی عراقی تھے، ترک فوجی تھے۔ شاہ عبدالعزیز نے انہیں سعودی بنالیا۔ یوسف یاسین رشاد فرعو کا تعلق شام، حافظ وہبہ کا مصر اور خالد القرقنی کا رشتہ لیبیا سے تھا۔ یہ سب شاہ سعود رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں بھی سعودی رہے اور پھر شاہ فیصل کی مجلسوں میں ان کی حاضری کے مناظر ریکارڈ پر ہیں۔ 
یہ درست نہیں کہ شہریت دینا کوئی کار ِبدعت ہے اور نہ یہ درست ہے کہ ریاست چند لوگوں کے سہارے چند لوگوں کیلئے قائم ہوتی ہو۔ سعودی ریاست میں چین، روس، ہندوستان اور برطانیہ کے شہری شامل ہیں۔ ان کی شمولیت ہمارے لئے باعث فخر ہے۔ شہریت کی مخالفت کرکے معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش درست نہیں۔اس سے معاشرہ کمزور ہوگا۔سعودی عرب بڑا ملک ہے ۔اس کے پاس بڑے امکانات ہیں۔ اس کی قیادت کی امنگیں زمان و مکان کے دائرے سے بڑھ کر ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

شیئر: