نواز شریف ، مریم اور (ن) لیگ کا منفی کردار؟

 
کراچی (صلاح الدین حیدر) کسی بھی جمہوری ادارے کی تکمیل پر خوشی کا اظہار کیا جاتاہے۔ ملک کے وسیع وعریض علاقوں میں اس پر جشن منایا گیا کہ پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں چےئر مین اور ڈپٹی چےئر مین کا انتخاب خوش اسلوبی سے مکمل ہوالےکن نواز شریف ، اور حکمران جماعت نے اسے متنازعہ بنانے کی مہم شروع کردی جو انتہائی افسوسناک ہے۔ خود سینیٹ کے نئے چےئر مین صادق سنجرانی نے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا اور اس عزم کا بھی بھرپور اظہار کیا کہ وہ عہدے پر رہتے ہوئے ، ہر اےک کے ساتھ انصاف کریں گے۔سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ دوسری طرف سابق وزیر اعظم ، بیٹی مریم نواز اور ریلوے منسٹر خواجہ سعد رفیق نے سارے معاملے پر سیاہی پھیر دی۔ سب سے زیادہ حیران کن تقریر بلوچی لیڈر میر حاصل بزنجوجو وزیر پورٹ اینڈ شپنگ بھی ہیں پارلیمنٹ میں کی جس سے خوشیوں پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔حاصل بزنجو خود بھی بہت بڑے باپ کے بیٹے اور انتہائی سادہ زندگی گزارنے والے، فقیر منش بلوچی سیاستدان ، غوث بخش بزنجو کے صاحبزادے ہیں ۔ کئی مبصرین کے مطابق اپنے باپ کے اصولوں کی عزت کرانے کے بجائے انہیں ملیا میٹ کردیا۔ بات صرف اسی پر نہیں رکتی۔ مریم نواز نے اپنے بیان میں بجائے اپوزیشن کے فاتح کو قبول کرنے کے اسے افسوسناک قرار دیا۔ ےہ کاغذی شیر عوام میں جا کر دےکھیں کہ وہاں کون کسے چاہتاہے۔ کئی ٹی وی اینکر پرسنزنے اس پر کافی افسوس کیا ۔ کئی ایک نے تو اسے انتہائی غیر لغو غیر مناسب بیان قرار دیا۔ اےک ماہر تبصرہ نگار نے تو ےہاں تک کہہ دیا کہ نواز شریف اور (ن لیگ) کی جیت ہو توجیت اور وہی جیت اگر اپوزیشن جیت جائے تو لعنت ملامت۔ واہ کیا اصول ہیں آپ کے ۔ باہر بکریاں بیچنے والو! تمہیں کیا معلوم جمہوریت کیا ہوتی ہے۔مریم کا جملہ زہر میں ڈوبا ہوا تھا، صاف ظاہر تھا کہ انہیں اپنے والد کی پارٹی کی ہار منظور نہیں ۔کیا اس کا نام جمہوریت ہے؟ سینیٹ انتخابات صاف شفاف تھے ۔ ےہ اور بات ہے کہ نتیجے کے اعلان کے بعدوزیر اعظم کے بیٹے نے تحریک انصاف کے اےک رکن اسمبلی پر حملہ کر دیا ۔مارپیٹ کی اور اس کا گلا دبانے کی کوشش کی۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے ےہ کہہ کر بات ہوا میں اڑا دی کہ جھگڑے میں وزیرا عظم کے بیٹے موجود نہیں تھے۔ دنیا نے انہیں ٹی وی پر دےکھاکہ پی ٹی آئی کے سینیٹر سے ہاتھاپائی کررہے ہیں کہ عمران زندہ باد کا نعرہ کیوں لگایا۔ اس سے بھی غلط، زیادہ غلط بات وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کی آج جمہوریت ڈوب گئی ۔ کٹھ پتلی تماشا لگانے والے جیت گئے۔لوگوں نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا کہ ماحول مزید تلخ ہوجائے گا، ےہ ان کا ظرف تھا۔ انتخاب کے دوسرے دن مسلم لیگ(ن) کے ورکرز نے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف نے شکایت کا انبار لگا دیا ۔ بنی گالا اور بلاول ہاوس والوں بتاو کس کے آگے جھکے تھے۔ نواز شریف کے جملوں کا اےک ہی مطلب نکلتاہے کہ عمران اور زرداری جنہوں نے مل کر (ن) لیگ کے امیدوار راجہ ظفر الحق کو عبرتناک شکست دی ۔ دونوں پارٹیوں کے سربراہ کہیں اور سے ہدایات لےتے تھے ےا پھر کسی پلان کا حصہ تھے، میں ڈرنے والا نہیں ہوں، جھکنے والا نہیں ہوں۔ عوام کی لڑائی لڑوں گا، ووٹ کے تقدس کی حفاظت اپنی جان پر کھیل کر کروں گا ۔ نواز شریف کہتے رہے ۔ مزید آگے چل کے کہا لوگو سنو ! آئندہ کا الےکشن 2018ءمیں اےک ریفرنڈم ہوگا صرف الفاظ پر کہ” ووٹ فار“کے تقدس کو مت ملیامیٹ کرو، ورکرز نے جئے نواز شریف کے نعرے سے خیر مقدم کیا” ہم پےچھے نہیں ہٹےں گے“، قومی مفاد اور عوامی مفاد کو آگے لے کر چلتے رہیں گے ےہی ہمارا مقصد ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری سے جب ردعمل کےلئے کہا گیا توانہوںنے کہا کہ پاکستان کی خدمت کی ہے۔اےک پسماندہ اور غریب پرورصوبے کو بڑے عہدے پر نمائندگی دلوا کر، اگر یہ گنا ہ ہے تو ہم ےہ گناہ کرتے رہیں گے۔لوگ اپنے آپ میں مست ہیں تو رہا کریں، ہمیں کوئی تکلیف نہیں ۔ نواز شریف کا مقصد صرف ان کی ذات کا مفاد ہے۔ کچھ نہیں ہم نے بارہا ےہ دےکھا ہے۔ آج بھی دےکھ رہے ہیں۔ دانشور مختار بٹ جو کالم نویس اور ٹی وی اینکر پرسن بھی ہیں نے اپنے ٹویٹ میں سوال کیا کہ کہاں ہے ملک میں جمہوریت، اگر (ن) لیگ جیت جاتی ہے تو سب ٹھےک ہے۔ ن لیگ سوفیصد پُراعتماد تھی کہ وہ سینیٹ کے الیکشن جیت جائے گی۔ مگر اب وہ چونکہ زخمی ہو چکے ہیں تو اول فول بک رہے ہیں ۔ امریکہ کے رہنے والے معروف مبصر ضیا ءصمد نے ےہ کہہ کرصبر کرلیا کہ کسی ردّعمل کی کوئی ضرورت نہیں۔ ےہی کچھ کہنا تھا نجم ثاقب کے (ن ) لیگ کے بیانیہ تبصرے کے قابل ہی نہیں۔
مزید پڑھیں:ہم ہار کر بھی جیت گئے،نواز شریف
 
 
 

شیئر: