سعودی انڈین اسپورٹس اینڈ کلچرل فورم کا دوستانہ کرکٹ میچ

 
  ابوانصاری جدہ  
 
 
جدہ میں مقیم حیدرآبادی کمیونٹی کی 2 فعال شخصیات ممتاز علی خان اور سید عبدالرافع کی مستقل طور پر وطن عزیز حیدرآباد دکن واپسی پر سعودی انڈین اسپورٹس اینڈ کلچرل فورم نے خیر سگالی دوستانہ میچ کا اہتمام کیا۔ صدر سعودی انڈین اسپورٹس اینڈ کلچرل فورم عثمان بن یسلم بن محفوظ نے ان دونوں حضرات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے جدہ کی تمام اہم شخصیات کے ہمراہ کرکٹ میچ کا اہتمام کیا ۔انہی کی نگرانی میں 2 ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ پہلی ٹیم کا نام جدہ سیلبرٹیز رکھا گیا تو دوسری ٹیم لیجنڈز آف جدہ سے موسوم تھی ۔ لیجنڈز ٹیم کے کپتان ممتاز علی خان تھے جس کے کھلاڑی سید عبدالرافع ، یوسف الدین امجد ، وسیم مقدم ، بدر انصاری ، امتیاز ، عامر عبدالغفار ، الطاف ، شاہد ، ممتاز ، خالد حسین مدنی تھے جبکہ جدہ سیلبرٹیز کے کپتان سید عابد حسین تھے ۔ کھلاڑیوں میں ، محمد یوسف وحید ، دانش خالد مدنی ، لیاقت علی خان ، اسحاق مسکینی ، ریحان مصری ، قدرت نواز بیگ ، عمران کوثر ، انس قدرت نواز ،محمد لیئق اور امین انصاری تھے۔ کوآرڈینیٹر محمود مصری نے 10 اوورز کے میچ کا اعلان کرتے ہوئے ٹاس کیا ۔ لیجنڈز آف جدہ کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ۔ سلیمانیہ گراو¿نڈ میںشائقین کرکٹ مرد، خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد موجودتھی ۔ جن کے اعزاز میں دوستانہ میچ کھیلا جارہا تھا انہی دونوں حضرات سید عبدالرافع اور ممتاز علی خان کو بحیثیت اوپنر میدان میں اتارا گیا ۔ دونوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 اوورز میں 22 رنز بنائے اور پھر کپتان ممتاز علی خان نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے وسیم مقدم کو بیٹنگ پر دعوت دی ۔وسیم مقدم نے بہترین کھیل کر اسکور کو 52 رنز تک پہنچایا اس دوران ان کے ساتھی عبدالرافع ، شاہد آو¿ٹ ہوگئے ۔جبکہ وسیم مقدم بھی ایک شاٹ کھیلنے کی کوشش میں کیچ آو¿ٹ ہوگئے ۔ خالد حسین مدنی اور یوسف الدین امجد اسکو ر کو آگے بڑھارہے تھے کہ خالد حسین مدنی رن لیتے ہوئے پچ پر گرپڑے جس سے وہ معمولی زخمی ہوگئے اور انہیں کھیل چھوڑ کر پویلین میں جانا پڑگیا۔یوسف ا لدین امجد اور دیگر کھلاڑیوں نے ملکر لیجنڈز آف جدہ کا اسکور 10 اوورز میں 72 رنز تک پہنچادیا ۔اب باری جدہ سیلبرٹیز کی تھی جنہیں کامیابی کیلئے 73 رنز بنانا تھا ۔ کیپٹن سید عابد حسین نے محمد لئیق اور قدرت نواز بیگ کو اوپنر کھیلنے کیلئے گراو¿نڈ میں بھیجا تاہم لیجنڈز آف جدہ کے کپتان نے اپنے 4 کھلاڑیوں کے زخمی اور تھکان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جدہ پریمیئر لیگ کے 4 نوجوان کھلاڑیوں کو میدان میں اتارا چونکہ یہ مکمل پروفیشنل کھلاڑی تھے جس میں سے ایک کو پہلا اوور کرنے دیا گیا تو جدہ سیلبرٹیز کے کھلاڑی جو کئی سال کے بعد میدان میں اترے تھے ان کا سامنا نہیں کرسکے اور ایک اوور میں 2 وکٹ گنواکر صرف ایک رن بناپائے ۔ دوسرے اوور میں مزید ایک وکٹ کپتان سید عابد حسین کی گری جبکہ اسکور صرف 4 رن تھا ۔ ایسے میں جدہ سیلبرٹیز کیلئے جیت ایک خواب لگ رہی تھی تاہم محمد یوسف وحید جو بیٹنگ کیلئے جارہے تھے انہیں امین انصاری نے روک کر خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ۔ ان کا یہ فیصلہ ٹیم کے لئے بہترین ثابت ہوا ۔ امین انصاری اور قدرت نواز بیگ کی جوڑی نے بولروں کی دھلائی شروع کردی اور دونوں کھلاڑیوں نے مل کر اسکور کو 48 رنز تک پہنچا دیا ۔ اب 3 اوورز باقی رہ گئے تھے یعنی 18 گیندمیں 25 رنز درکار تھے کہ قدرت نواز کو کپتان نے ریٹائرمنٹ دلواکر لیاقت علی خان کو امین انصاری کے ہمراہ بیٹنگ کیلئے روانہ کیا ۔لیاقت علی خان نے آتے ہی 4 رنز سے اپنا کھاتہ کھولا ،پھر سنگل اور ڈبل رن لیتے ہوئے اسکور کور 57 رنز تک پہنچایا تھا کہ اچانک بولر کی گیند ان کی آنکھ پر آلگی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے اور انہیں پویلین لوٹنا پڑا۔ اب اسکور زیادہ گیند کم تھے ۔پویلین سے عمران کوثر ، اسحاق مسکنی اور محمد عامر صدیقی کی دھواں دار کمنٹری پورے گراو¿نڈ پر شور برپا کی ہوئی تھی کہ لیجنڈز آف جدہ کی جیت یقینی ہے۔ ایسے میں امین انصاری نے دانش خالد مدنی کے ہمراہ ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ایک اوور میں 12 رنز بناکر ہار کو جیت سے قریب کردیا اور پھر آخری اوورکی دوسری گیند میں وونگ شاٹ لگاکر جدہ سیلبرٹیز کو کامیابی دلائی ۔ امین انصاری کو ان کے 52 رنز کی بہترین اننگ پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ عثمان بن محفوظ کے ہاتھوں دیا گیا ۔ بہترین بولنگ پر عابد حسین اور وسیم مقدم کو بیسٹ بولرز کا خطاب جبکہ بہترین وکٹ کیپنگ کیلئے اسحاق مسکینی اور عامرصدیقی کو ایوارڈ دیا گیا ۔ عمران کوثر ، لیاقت علی خان اور محمد لیئق کو باری باری بہترین کمنٹری دینے پر ایوارڈ سے نواز ا گیا ۔ 
بعد ازاں ممتاز علی خان اور سید عبدالرافع کو اہل جدہ کی جانب سے گلدستے دیئے گئے ۔ تقریب کی نظامت بدر انصاری نے کی ۔ سعودی انڈین اسپورٹس اینڈ کلچرل فورم کے صدر نے دونوں حضرات کو یادگار مومنٹو پیش کرکے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ممتاز علی خان جدہ میں کرکٹ کے فروغ کیلئے اس وقت سے سرگرداں ہیں جب جے سی اے اور جے سی ایل کی بنیاد پڑرہی تھی وہ بانیان کرکٹ میں سے ہیں ۔ ممتاز علی خان خود کو پس پردہ رکھ کر نوجوانوں میں اسپورٹس کی اسپرٹ لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔انکے اس جذبے کو دیکھتے ہوئے انہیں وداعیہ بھی کرکٹ کھیل کر دیا گیا تاکہ کرکٹ کیلئے ان کی 35 سالہ خدمات کو خراج پیش کیا جاسکے ۔ عثمان بن محفوظ نے سید عبدالرافع کی وطن واپسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عبدالرافع نے39 سال اپنی زندگی کے جدہ کی سرزمین پر گزار دیئے اس دوران انہوں نے لو پروفائل رہتے ہوئے کمیونٹی کے لئے بے شمار خدمات انجام دیں ۔سماجی ، تعلیمی اور کلچرل پروگراموں میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ملت اسلامیہ کی خدمت کرکے اپنے آپ کو کمیونٹی سے جوڑے رکھا ۔ انکی واپسی ہم سب کیلئے یقینا تکلیف دہ ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ وطن عزیز میں بھی وہ ملت کی خدمت کو اپنا منشور بنائے رکھیں گے ۔ 
ممتاز علی خان نے کہا کہ جدہ کی اہم شخصیات کے ہمراہ کرکٹ میچ کا انعقادکرکے مجھے اور عبدالرافع کو عثمان بن محفوظ نے جو وداعیہ تقریب منعقد کی ہے وہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی ۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی کے کارنامہ کو پیش کرکے اسے وداع کیا جائے ۔ انہوں نے اس موقع پر کمیونٹی کی تمام شخصیات کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے برسوں بعد کرکٹ کھیل کر اپنی محبت کا والہانہ ثبوت دیا ۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین میں گزرنے والے لمحات میری زندگی کا سرمایہ حیات ہے اس کی پابجائی زندگی کے آخری سانس تک بھی نہیں ہوسکے گی۔ 
سید عبدالرافع نے کہا کہ میرے لئے عثمان بن محفوظ کی یہ وداعی تقریب انتہائی منفرد تھی ۔کئی دہائیوں کے بعد کرکٹ کھیل کر بہت اچھا لگا ۔ عثمان بن محفوظ نے خواتین اور بچوں کیلئے بھی گراو¿نڈ پر بیٹھنے کے انتظامات کئے تھے جس سے فیملیز بھی لطف اندوز ہوئیں ۔ انہوں نے کہا کہ کہنے کو میں وطن عزیز جارہا ہوں لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ پردیس جارہا ہوں کیونکہ میںنے اپنی زندگی کے 39 سال اس پاک سرزمین پر گزار دیئے ۔حرمین شریفین کی جدائی کا غم ہر وقت ستاتا رہے گا ۔ انہوں نے اہل جدہ کی طرف سے ملے خلوص و محبت کواپنی قیام کے سالوں کا اثاثہ قرار دیا ۔ 
میچ کی تیاری میں جدہ پریمیئر لیگ کے عہدیداران کھلاڑیوں نے بھرپور حصہ لیا ان کے تعاون سے دوستانہ کرکٹ میچ تاریخی اور یادگار ثابت ہوا۔ تمام کھلاڑیوں نے عثمان بن محفوظ اور جے پی ایل کے کھلاڑیوں کا شکریہ اداکیا ۔
 

شیئر: