#سپریم_کورٹ

 
سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف اور جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 کے تحت تاحیات نا اہل قرار دیے جانے کا فیصلہ ٹوئٹر پر زیربحث آیا ہوا ہے اور صارفین اس پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے ٹویٹ کیا : آج جمعے کے روز نواز شریف کو ایک بار پھر 0_5 کے فیصلے سے نااہل کر دیا گیا ہے۔ اب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نواز شریف کا سیاسی دور اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا : تاحیات نا اہل ہونے والے استغفار کریں اور سپریم کورٹ پاناما لیکس کے دیگر 436 افراد کو بھی طلب کرے۔
مبشر زیدی نے ٹویٹ کیا : میں امید کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ ان تمام جرنیلوں کو بھی نااہل قرار دے گی جنہوں نے اپنے عہد کے خلاف ورزی کی اور سیاست میں حصہ لیا۔
محمد جمال الدین نے کہا : سپریم کورٹ آپ کا شکریہ ، ایسا شخص جس نے اپنی قوم ، عدالتوں ، الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران سے جھوٹ بولا وہ مستقبل میں کیسے صادق اور امین ہو سکتا ہے؟ ایسے سخص کو سیاست سے دور پھینک دینا چاہیے اور سپریم کورٹ نے آج یہی کیا۔
سینئر صحافی عبدالغفار کا اپنی ٹویٹ میں کہنا ہے : صادق اور امین ہونا صرف لیڈر کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے تمام کارکنان پر اس کا اطلاق ہونا چاہئے۔سیاسی جماعتوں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ان کے کارکنان اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تہذیب اور عزت کا دامن نہ چھوڑیں۔
سیدہ فاطمہ نے ٹویٹ کیا : آج کے اس فیصلے سے نواز شریف کا مستقبل مزید تاریک جبکہ سپریم کورٹ کا وقار بلند ہوا ہے۔
میاں متین کا کہنا ہے : نوازشریف کو تاحیات نااہل کر دینا کافی نہیں ہے بلکہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت بھی واپس لی جانی چاہیے۔
ہارون حیات نے کہا : نواز شریف کا سیاسی مستقبل تاریک ہوتا نظر آرہا ہے۔
 

شیئر:

متعلقہ خبریں