حبِ نبیﷺ ، اطاعتِ نبیﷺ سے مشروط

جب امتحان کا وقت آتا ہے تو زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں، انسانوں کا تو خوف ہے مگر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی خوف نہیں
* * * *ڈاکٹربشریٰ تسنیم۔ شارجہ* * *
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو کیا جواب ہو؟
    اللہ تعالیٰ نے ساری انسانیت پر احسان عظیم کیا کہ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کو مبعوث فرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم رحمت اللعالمین اورکافتہ للناس بشیر و نزیر بنا کر بھیجے گئے، یہ قومیں نہ اس احسان سے واقف ہیں نہ اُن صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی رحمت کی چھتری سے فائدہ اٹھا رہی ہیں نہ ہی ان صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی خوش خبریوں پہ کان دھر رہی ہیں،نہ ان خطروں، عذابوں سے خبر دار کئے جانے پر چونک جاتی ہیں۔
      یاحسرۃ علی العباد ،یاحسرۃ علی العباد۔
    بد نصیب اور بد بخت قوموں اور لوگوں نے ہمیشہ رسولوں کا مذاق اڑایا… بنی اسرائیل کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہر نبی کی شان میں گستاخی کی ۔کسی کو قتل کیا، جھٹلایا، مذاق اڑایا ۔بے سرو پا قصے گھڑے،بہتان،الزام تراشی اور کردار کشی کی۔
    اسی کی پاداش میں وہ غضب کی مستحق ہوئیں، مگر تاریخ سے اِن قوموں نے کوئی سبق نہ سیکھا بلکہ اپنی بد بختی میں اضافہ ہی کیا۔ آج دل مغموم اس لئے نہیں کہ نصاریٰ اور یہود نے اپنے نبیوں کا اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کو مذاق کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ تو ان کی بری خصلت عیاں ہی ہے۔آج غم اس بات کا ہے کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی امت کے حکمران اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو یہ بتانے سے ہی گریزاں ہیں کہ ان کے جذبات اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کیلئے کتنے نازک ہیں، ان کے ایمان کا حصہ کیا ہے،اپنی جان ،مال، اقتدار، جاہ و حشمت کے کم ہو جانے، چھن جانے کا تو خوف ہے ،اپنے ایمان کے چھن جانے کا کوئی خوف نہیں۔دنیا کی محبت غالب ہے اُس محبت پہ جس کے بغیر اپنے رب کو راضی کیا ہی نہیں جا سکتا۔
    محبت کے زبانی دعوے ہی دعوے ہیں۔ جب امتحان کا وقت آتا ہے تو زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں،دل تنگ ہو نے لگتے ہیں۔ ان لوگوں کے اعصاب پڑ انسانوں کا تو خوف ہے مگر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی خوف نہیں۔
    سچی بات ہے، آج نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی محبت کے اعلیٰ معیا رپہ امت کا کوئی فرد یا گروہ نہیں پایا جاتا۔کسی کا دعویٔ محبت کسوٹی پہ نہیں رکھا جا سکتا۔
    عوام الناس کو شعور نہیںاور شعور دلانے والوں کو حکمت سے واسطہ نہیں کہ محبت کیا ہوتی ہے اس کے تقاضے کیا ہوتے ہیں؟ اور محبوب کو ایزا دینے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے ۔وہ محبوب عا لم اور محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ سلم جس کو تکلیف دینے والوں پر دنیاو آخرت میں لعنت کی گئی ہے۔
     امت مسلمہ کے حکمرانو،منبر و محراب کے پاسبانو، اپنی عوام کی رہنمائی کرنے والو! ہوش کے ناخن لو،اللہ تعالیٰ کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی شان میں گستاخی پر سب سے زیادہ پکڑ تمہاری ہو گی، اس لئے کہ مادی وسائل تمہارے قبضے میں ہیں، عوام الناس کی باگ دور تمہارے ہاتھ میں ہے، دوسری قوموں سے مقابلے کا حق تمہارے پاس ہے۔اپنی عوام کو درست سمت کا شعور دو ،ایمان کو جگاؤ، اپنی ہی املاک اور اپنے ہی لوگوں پر ظلم کرنے سے باز رکھو۔دشمنوں کو اپنے اوپر ہنسنے کا موقع نہ دو، باہم دست و گریبان ہو کر دشمنوں کے کام کو آسان نہ کرو،فتنہ و فساد جو کہ ملت کے انتشار کا باعث ہے، اس میں اپنا حصہ نہ ڈالوھ۔فتنہ تو قتل وغارت گری سے زیادہ برا ہے۔
    انفرادی طور پر ہر فرد، اپنے رنج و غم کا اظہار کرے ۔اپنے ایمان کی سلامتی مقصود ہے تو زبان سے، قلم سے، اختیارات سے اپنے نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی عزت و حرمت پہ اپنے جذبات ریکارڈ کرائے۔ہوش مندی سے عقل وخرد سے رہنمائی کرنے والا کوئی نہ ملے تو اپنے رب سے پوچھے۔ اسی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم سے پوچھے جو کہ سردار دو جہاں ہے ۔جس کی شان میں گستاخی ہوئی ہے وہ آپ سے کیا مطالبہ کرتا ہے؟کیا خواہش ہے؟وہ آپ کو اور مجھے کیسا اور کیا دیکھنا چاہتا ہے؟
    کوئی عوام میں سے ہو یا حکمران ہر ایک سے اللہ تعالیٰ مخاطب ہے…
    اگر مجھ سے تعلق اور محبت بنانا ہے تو میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی اطاعت کرو، اطاعت ہی کے ساتھ محبت مشروط ہے۔ جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی اطاعت ہو گی تو اللہ خوش ہو گا ،جب اللہ خوش ہو گا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی اطاعت آسان ہو جائیگی۔ اطاعت کا پیمانہ جتنا زیادہ ہو گا، اسی حساب سے اللہ کی محبت نصیب ہو جائیگی۔
    یہود و نصاریٰ کو اسی بات کا تو زعم تھا کہ وہ اللہ کے لاڈلے اور چہیتے ہیں اور یہی تو ان کو غم ہے، اسی بات کا تو حسد ہے کہ وہ محبت کیوں ہماری طرف منتقل ہو گئی ہے۔یہ حسد ہی ہے جس کی بناپر وہ ہمارے اور اللہ کے درمیان محبت اور تعلق کوختم کرانا چاہتے ہیں۔
    امت مسلمہ کے لوگو!حاسدوں کے حسد کو پہچانو اور اپنے اس محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کو ناراض نہ کرو جو کہ ہمارا اور اللہ تعالیٰ کا مشترکہ محبوب ہے۔اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کو ایذا پہنچانے والوں میں شامل ہو کر خود کو عذاب کا مستحق نہ بنائو۔
    اے محبت کے دعوے دارو، ذرا غور کرو!کیا محبت اور شفقت ،نگاہ ِکرم کو ٹھکرا دینا دوسرے کے لئے باعث تکلیف نہیں ہوتا؟
    کیا خطرے سے خبردار کرنے والے کی بات کا یقین نہ کرنا،تسلیم نہ کرنا اس کو دکھی نہیں کرتا؟
    کیا آگ میں گرنے سے روکنے والے ہاتھ کو جھٹک دینے سے اس کو خوشی ہوتی ہے؟
    کیا اپنی امت کو اتحاد و اتفاق سے رہنے کے لئے ایک مضبوط رسی دینے والا اسکو چھوڑ چھاڑ دینے پر رنجیدہ اور غمگین نہ ہو گا؟
    کیا آپ کے اور میری طرز زندگی سے وہ ہستی خوش و راضی ہو گی؟
    دنیا اور اس کے جاہ و حشمت کے پیچھے بھاگنے پر اس کے دل پہ کیا گزرتی ہو گی؟
    اے امت مسلمہ کے ہریشان حال لوگو!اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی پر کوئی ایسا رد عمل ظاہر کرو،کوئی ایسا بدلہ لو، کوئی ایسی چال چلوجو ازلی وابدی ہو، ٹھوس انتقام ہو، جس کا کوئی توڑ اُن کے پاس نہ ہو، جو اُن کو لا جواب کر دے اُن کے منہ بند کردے۔
    حاسد سے بدلہ لینے کا یہ بہت اچھا انتقام ہے کہ جس کام سے وہ حسد کرتا ہے جس چیز سے اس کو جلن ہو تی ہے وہی کیا جائے اور خوب کیاجائے۔جس مقام ومرتبہ سے اس کا کلیجہ جلتا ہے اُسی کو حاصل کیا جائے،مل کر کیا جائے، اسی کو مشن بنا لیا جائے ۔زندگی کی ترجیحات میں اسی کام کو سر فہرست رکھاجائے، یہی نصب العین ہو۔
    ہمارا ہر لمحہ اس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی فرماں برداری میں گزرے تاکہ ہم اُس منصب کا حق ادا کرسکیں جو ہمیں دنیا کی ہرقوم سے ممتاز کرتا ہے اور یہی شانِ امتیاز حاسدوں کے لئے تیرو رفنگ بن جائے اور دنیا جان لے کہ:
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ
مزید پڑھیں:- - - - -اولاد کی ظاہری وباطنی تربیت ،اہمیت …انداز

شیئر: