مکہ مسجد بم دھماکہ کیس:اسیما نند سمیت تمام ملزمان بری

حیدرآباد ۔۔۔۔ حیدرآبادمیں قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے )کی خصوصی عدالت نے حیدرآباد کی مکہ مسجد بم دھماکہ معاملہ کا آج فیصلہ سنایا۔عدالت نے 5 ملزمان کوبے قصور قراردیا۔یہ دھماکہ 18مئی2007کومکہ مسجد میں کیا گیا تھا ۔این آئی اے کی خصوصی عدالت نامپلی نے اس معاملہ کی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ سنایا۔
پولیس حفاظت میں تمام ملزمان کو چرلہ پلی جیل سے عدالت لایاگیا۔اس معاملہ کا فیصلہ سناتے ہوئے جج نے ٹھوس ثبوت نہ ملنے اور شواہد کی کمی کی بنیاد پر اس مقدمہ کو کالعدم اور 5 ملزمان کو بری کردیا۔ واضح ہو کہ18مئی 2007ء کوجمعہ کی نماز کے وقت حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد میں ہونیوالے دھماکے میں 9افراد ہلاک اور 58زخمی ہوگئے تھے۔بعد ازاں دھماکہ کیخلاف مظاہرین پرپولیس نے فائرنگ کی جس میں 5افراد کی موت واقع ہوگئی تھی۔اس سلسلے میں حسینی علم پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج کرانے کے بعد سی بی آئی کے حوالے کیا گیا ۔ مرکزی وزارت داخلہ نے 2011ء میں اس معاملے کو این آئی اے کے حوالے کیا تھا۔دھماکے کی واردات میں ملوث بائیں بازوں کی تنظیموں کے 10افراد کے نام چارج شیٹ میں داخل کئے گئے تھے تاہم 5افراد گرفتار کئے جاسکے۔گرفتار شدگان میں دیویندر گپتا، لوکیش شرما ، سوامی اسیمانند، بھر ت موہن لال راتیشور اور راجندر چودھری شامل ہیں۔ دیگر ملزمان سندیپ وی ڈانگے اور رام چندر کلسانگر ے مفرور ہیں ۔ مکہ مسجد بم دھماکے کا فیصلہ سنائے جانے کے پیش نظر حیدرآباد میں پولیس کی بھاری نفری اور خصوصی دستے تعینات کردیئے گئے۔این آئی اے نے عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ فیصلہ کی کاپی ملنے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں فیصلہ کیا جائیگا۔
عدالت کے فیصلے پر مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ٹویٹر کے اکاؤنٹ پر تحریر کیا کہ جون2014کے بعد مکہ مسجد بم دھماکہ کے تمام گواہ گواہی سے مکر گئے ، انصاف نہیں ہوا۔
کانگریس کے سینیئر رہنما اشوگ گہلوت نے کہا کہ یہ حکومت پر منحصر ہے کہ وہ فیصلے پر غور کرے۔ اس میں آگے اپیل کی ضرورت ہے یا نہیں یہ عدالتی معاملہ ہے۔ ہمیں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہئے۔
مزید پڑھیں:- - - - -دہلی : روہنگیا کیمپ جل کر خاک،225افراد اور بچے بے گھر

شیئر: