غصہ اور مسلمان ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے ،نعیم جاوید

’’ سیرت نبیﷺکی روشنی میں مخالف دنیا میں کس طرح زندگی گزاری جائے ‘‘تلنگانہ ویلفیئر فائونڈیشن جدہ کے زیر اہتمام سیمینار
تصویر و رپورٹ ۔امین انصاری
    تلنگانہ ویلفیئر فاؤنڈیشن جدہ نے " سیرت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی روشنی میں مخالف دنیا میں کس طرح زندگی گزاری جائے " کے اہم عنوان پر سیمینار کا اہتمام کیا ۔ سیمینار کی صدارت احمد یزدانی نے کی ۔ سیمینار کے مہمان مقرر دمام سے آئے ہوئے نعیم جاوید نے عنوان پر مدلل روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بحیثیت مسلمان ہمیں سب سے پہلے رابطوں کو بحال کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے سے ملنا اور خاص کر غیر مسلموں کے اُن طبقوں سے ملنا ہوگا جو نچلی ذات کے ہیں اور اپنے اخلاق اور اوصاف حمیدہ سے انہیں متاثر کرنا ہوگا اور جب بھی وہ آپ کو دیکھے تو اسے خدا یاد آجائے۔ہمیں کیو ں اور کیا کی منطق سے باہر نکلنا ہوگا ۔جب تک ہم کسی بھی بات پر کیوں ، کیا  اور کیسے کہتے رہیں گے تو ترقی سے دور رہیں گے ۔ ہر مسلمان کو غصے سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ اسلام میں غصہ کا وجود ہی نہیں ۔ ہمارے نبی ﷺ کی پوری حیات طیبہ ہمارے سامنے موجود ہے ۔کفارِ مکہ و مدینہ نے ظلم کی انتہا کردی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لیکن آپﷺنے کبھی غصہ نہیںکیا  بلکہ پیار سے دعوت دین دیتے رہے ۔غصہ انسانی وجود کو مٹادیتا ہے ۔انسان غصے میں حیوان بن جاتا ہے اس لئے غصہ اور مسلمان ایک جگہ نہیں ہوسکتے۔ مسلمان غم کاکبھی ماتم نہیں کرتا ۔ ہمیں جشن گریاں سے گریز کرنا چاہئے ۔ فسادات ہوتے ہیں، ہم اس پر گریاں کرتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں ۔جمہوری انداز میں یہ طرز عمل ٹھیک ہے لیکن آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں قوموں کا حافظہ کمزور ہوتا ہے ۔چند دنوں میں ہم بڑے سے بڑے فساد کے غم کو بھول جاتے ہیںلہذا جشن گریاں نہ منائیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت مردانگی مانگتی ہے ،حوصلہ مانگتی ہے ۔شریعت کا مزاج نسوانی نہیں۔ ہمیں سخت اور بولڈ ایکشن لینا ہوگا ۔ہمیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عام کرنے کیلئے خود کو مضبوط اور تونگر بنانا ہوگا۔
    سیادت علی خان نے کہا کہ مسلمانوں کو مثبت ذہن سے کام کرنا ہوگا ۔اگر آپ کے سامنے کوئی ٹھہر کر کسی موضوع پر بات کررہا ہو تو ہمیں اس کا جواب دینے کا اہل ہونا چاہئے ۔انہوں نے تمام شرکاء اور مہمانوں کا استقبال بھی کیا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے معلوماتی سیمینار کا سلسلہ گاہے گاہے منعقد کیا جاتا رہے گا ۔
    دریں اثنا حافظ سید سعید الدین نے قرات کلام پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ وسیع محمد خان نے اس کا اردو ترجمہ پیش کیا ۔یوسف الدین امجد نے ہدیہ نعت پیش کی اور محمد سراج الدین نے مہمان مقرر کا تعارف پیش کیا ۔محمد شفیع اللہ نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے شکریہ کا بھی اہم فریضہ ادا کیا ۔
مزید پڑھیں:- - - -نواز شریف کےخلاف سخت فیصلہ ہے ، پاکبانوں کی رائے

شیئر: