چیئرمین نیب کی معذرت قبول،قائمہ کمیٹی نے دوبارہ طلب کرلیا

اسلام آباد...چیئرمین نیب نے نواز شریف پر 4.9 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کے الزام پر قائمہ کمیٹی میں طلب کئے جانے پر بدھ کو پیشی سے معذرت کرلی جسے کمیٹی نے قبول کرتے ہوئے انہیں 22 مئی کو دوبارہ طلب کرلیا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے رکن قومی اسمبلی رانا حیات کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین نیب کو طلب اور چیئرمین نیب کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر معاملے پر بریف کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق نیب آفس کی جانب سے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا کہ چیئرمین نیب نے بدھ کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کرلی ۔ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب کی جانب سے جواب دیا گیا کہ کمیٹی میں پیش ہونے کا نوٹس بدھ کی صبح موصول ہوا، پہلے سے میٹنگز اور مصروفیات کا شیڈول طے تھاکمیٹی میں پیش ہونے کے لئے مناسب وقت دیا جائے۔ذرائع کے مطابق پہلے کمیٹی نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی معذرت قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔کمیٹی کی جانب سے معذرت مسترد کئے جانے کے بعد نیب حکام نے چیئرمین نیب کی جانب سے حتمی طور پر آگاہ کئے جانے کا وقت مانگا۔ بعد ازاں نیب کی جانب سے حتمی طور پر جسٹس جاوید اقبال کی پیشی سے معذرت سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔نیب کی جانب سے چیئرمین نیب کی نمائندگی کےلئے2 افسران کمیٹی میں پیش ہوئے جنہوں نے چیئرمین نیب جاوید اقبال کی جانب سے پیشی سے معذرت سے آگاہ کیا اور مہلت طلب کی۔قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے چیئرمین نیب کی معذرت قبول کرلی۔ دریں اثناء چیئرمین نیب کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں طلب کئے جانے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے قانون و انصاف کی کمیٹی کے ارکان نے استعفیٰ دے دیا۔کمیٹی اراکین نوید قمر اور شگفتہ جمانی نے استعفے چیئرمین کمیٹی کو بھجوا دئیے۔استعفے میں نوید قمر نے مو¿قف اختیار کیا کہ چیئرمین نیب کو اس طرح طلب کرنا نیب کے کام میں مداخلت ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اداروں کو کمزور نہیں مضبوط کرتی ہے۔اس اقدام سے نیب کمزور ہوگی۔کمیٹی میں موجود جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اراکین نے بھی چیئرمین نیب کی طلبی کی مخالفت کی۔
مزید پڑھیں:قائمہ کمیٹی نے چیئرمین نیب کو طلب کرلیا

شیئر: