موبائل کارڈز پر ٹیکس معطل

لاہور:  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں موبائل فون کارڈز پر ٹیکس کٹوتی کے خلاف لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی جس میں چیف جسٹس نے موبائل کمپنیوں اور ایف بی آر کی طرف سے وصول کیے جانے والے ٹیکسز معطل کردیے۔ ذرئع کے مطابق عدالت عظمیٰ نے ٹیکسوں کو معطل کرنے کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے 2 دن کی مہلت دی ہے۔
چیف جسٹس نے ہدایات جاری کیں کہ جس صارف کا موبائل فون کا استعمال مقررہ حد سے زیادہ ہے، اس سے ٹیکس لیں، موبائل فون کارڈز پر ٹیکس وصولی کے لیے جامع پالیسی بنائی جائے۔ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج کل تو ہر شخص موبائل استعمال کرتا ہے جس میں عام ریڑھی والا بھی شامل ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ ٹیکس نیٹ میں کیسے آ گیا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکس دہندہ اور نادہندہ کے درمیان فرق واضح کرنا چاہیے، ایسا نہ کرنا امتیازی سلوک ہوگا اور آئین کے تحت اس پالیسی کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ موبائل کالز پر سروس چارجز کاٹنا موبائل کمپنیز کا ذاتی عمل ہے۔
واضح رہے کہ چیئرمین ایف بی آر نے عدالت کو وضاحت کی کہ 130 ملین افراد موبائل فون استعمال کرتے ہیں جبکہ ملک بھر میں ٹیکس دینے والے افراد کی کل تعداد 5 فیصد ہے۔ جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ صرف 5 فیصد لوگوں سے ٹیکس وصول کرنے کے لیے 130 ملین افراد پر موبائل ٹیکس کیسے لاگو ہو سکتا ہے؟
 

شیئر: