#چوہدری_ نثار

چوہدری نثار نے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس وقت سے مسلم لیگ (ن) کے کارکنو ں اور رہنماﺅں نے ان کے خلاف مہم چھیڑ دی ہے۔
مرتضیٰ علی شاہ لکھتے ہیں کہ نثار نے پچھلے چند برسوں میں اپنی پارٹی کو نقصان پہنچانے کیلئے جو کچھ کرسکتے تھے کیا۔ تلخی کے بعد علیحدگی ہورہی ہے حالانکہ بہت پہلے ہوجانی چاہئے تھی۔
ڈیموکریٹک کے نام سے ایک ٹویٹ ہے کہ چوہدری نثار مسلم لیگ (ن) کے لئے ریحام خان بنتے جارہے ہیں انہیں بھی اپنی کتاب لکھنی چاہئے ۔ 
ایمان احمد لکھتی ہیں کہ نثار نے کہا کہ اگر انہوں نے اپنا منہ کھولا تو شریف برادرا ن کہیں بھی منہ چھپانے کے لائق نہیں رہیں گے۔ 
ڈاکٹر یاسر سعید خان ٹویٹ کرتے ہیں کہ نواز شریف اور چوہدری نثار میں اختلافات اسلئے شروع ہوئے کہ نواز شریف اصولی آدمی ہیں اور اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتے ۔
مرتضیٰ سولنگی کہتے ہیں کہ چوہدری نثار نے نوازشریف پر طنز کیا کہ وہ عورت راج مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 
سلمان مسعود کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی ساری قیادت پارلیمانی بورڈ کے سامنے پیش ہوئی لیکن نثار نے اپنی انا کی خاطر اس طرح نہ کیا اور وہ پارٹی سے اپنی راہیں جدا کررہے ہیں۔
عمران بٹ تحریر کرتے ہیں کہ چوہدری نثار آزاد امیدوار کے طور پر بھی کامیاب ہوجائیں گے جبکہ لودھی کوئن کامیاب نہیں ہوگی۔
ہمایوں تحریر کرتے ہیں کہ اب نثار کو عورتوں کے غیض و غضب سے کون بچائے گا۔
رانا لکھتے ہیں کہ نثار ایک پٹواری کی مانند ہیں۔
عمران حسن نے ٹویٹ کیا کہ نثار اب خاموش نہیں ہونگے آگے بڑھتے جائیں گے۔
نام کے بغیر ایک ٹویٹ ہے کہ 6ماہ قبل نثار نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ پانامہ پر فیصلہ آنے کے بعد وہ مستعفی ہوجائیں گے اور آئندہ عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے لیکن چند گھنٹوں بعد ہی اپنا موقف تبدیل کرلیا۔
احمد میاں ٹویٹ کرتے ہیں کہ اب مسلم لیگ کو چاہئے کہ وہ یہ کہانی ختم کرے۔ جب بھی پارٹی مصیبت میں گھری نثار نے اسے ڈبونے کیلئے اپنی پوری قوت آزمائی ۔ 
خان صاحب کہتے ہیں کہ جب بھی نثار بولے غیر معمولی بات ہی بولے۔ 
حمزہ خان کہتے ہیں کہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ انتخابات میں چوہدری نثار اور غلام سرور کا حال کیا ہوگا۔
طیب حسین لکھتے ہیں کہ ہمیں صہیونیوں کو روکنا ہوگا۔
شمس العارفین لکھتے ہیں کہ چوہدری نثار مرد ہے وہ لیجنڈ ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر:

متعلقہ خبریں