مس تہذیب کا تیار کردہ پکوان، ملغوبہ، عجوبہ

زینت شکیل۔جدہ
عائشہ کے تیکھے نقوش پر مریم اپنی مرضی کا تبصرہ بڑے اہتمام سے کر رہی تھی کہ ہم لوگوں کا گروپ جب یونیورسٹی کے پہلے دن ڈپارٹمنٹ پہنچا تو تم پر نگاہ پڑی تو حفصہ نے اپنے برابر موجود صفیہ سے کہاکہ چلو شروع ہوجاﺅ تمہاری عالمی زبان کا لہجہ ایسا ہے کہ محسوس ہوتا ہے۔ آج کی نئی پود کو تم نے ہی آدھالفظ بولنے اور آدھا کھانے کا مشورہ دیا ہے اور وہ بھی صحیح یاغلط ہر قاعدہ قانون سے مستثنیٰ ہو کر، اور اس موقع پر مریم نے یاد دلایاتھا کہ لینگویج میں تو ان محترمہ نے کلاس میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے تھے لیکن لٹریچر میں ساری کسرپوری ہو گئی تھی۔فاطمہ نے سب کو متوجہ کیا کہ جلدی کرو اس تہذیب یافتہ حَسین لڑکی سے سلام دعاکرو اور اپنے گروپ میں شامل ہونے کی دعوت بھی دے دو۔
بنت حسن زور سے کھلکھلائی کہ تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے کانٹی نینٹل کوئزین کی دعوت کی بات کر رہی ہو۔فاطمہ نے کہا کہ جب دوستی ہو جائے گی تو وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے کوئزین ساتھ ٹرائی کریں گے اور جب عالمی ادبی زبان میں ایک شائستہ جملہ کہنے کے لئے صفیہ نے ارادہ ہی کیا تھا کہ تم نے آگے بڑھ کر خود ہی ڈپارٹمنٹ کی بابت سوال پوچھ لیا اور صفیہ کی ساری محنت بیکار جاتے دیکھ کر ایک مسکراہٹ سب کے لبوں پر ایک ساتھ نمودار ہوئی اور اب تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا کہ کس زبان میں بات کی جائے۔ بس بات شروع ہوئی تو لگا کہ ہم لوگ جیسے رشتہ دار، دوستوں اور بچپن کے ہم جماعتوں کا گروپ ایسا ہی ہو گیا ہے کہ سب ایک رشتہ دار کی طرح رہنے لگے ہیں اور اس میں ہمارے والدین کا بڑا کردار ہے کہ وہ لوگ بھی ایک دوسرے سے ایک خاندان کی طرح ہی صلاح مشورہ کرتے ہیں۔بچوں کو کہاں داخلہ دلایا جائے کہ ہر ایک کو داخلہ مل جائے اور تمام گھرانے کے بچے جیسے ہائی اسکول میں ساتھ رہے تو ایسی یونیورسٹی ہو جہاں کی فیکلٹی موجود ہو۔ سب کو آنے جانے اورامتحان کی تیاری میں بھی آسانی رہے ۔
گھر کا قریب ہونا بھی ایک نعمت سے کم نہیں ۔جب چاہا اپنے گھر کھانا کھا لیا یا پھر ایک دوسرے کے ساتھ پروگرام بن گیا۔ جہاں پہلے پہنچے وہیں کھانا لگا دیاگیا اور سب نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ حفصہ نے کہا کہ عائشہ تم ہمارے ساتھ ہمارے گھر نہیں جاتیں لیکن ہم لوگ پھربھی تمہارے ہاتھ کے بنے کھانوں سے اکثر لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔
مریم نے کہا آج تک مجھے کسی نے اتنے آسان طریقے سے کھانا بنانا نہیں سکھایا تھا اور جب سے عائشہ کے ساتھ مل کر کام کیا کچھ نہ کچھ ایسا بنانا سیکھ ہی لیا کہ گھر جاکر بنایا تو سب نے نام پوچھ پوچھ کر ناک میں دم کردیا لیکن اس ڈش کے ساتھ سب نے ہی انصاف کیا اور پوچھا بھی کہ اپنی اس دوست” مس تہذیب“ سے اس ڈش کا نام معلوم کرکے ہمیں ضروربتانا جو” صورت میں ملغوبہ اور سیرت میں عجوبہ“ ہے۔
سلیمان نے موسم اچھا دیکھا تو جھٹ ساحل سمندر کا پروگرام بنالیا۔ سب کو فون کرتے ہوے فضل بابا کو مسلسل ہدایت کرتا جاتا کہ فلاں فلاں پکوان تو ضرور بنوادیں اوروہ بھی زیادہ مقدار میں کیونکہ ممکن ہے کہ وہاں آئے ہوئے لوگوں میں کوئی شناسا بھی مل جائے تو اچھا ہے کہ ہمارے پاس چیزیں وافر ہوں لیکن ہارون سے بات ہوئی تو اس نے کہاکہ شاید آج کا پروگرام نہیں بن سکے گا کیونکہ احمد کچھ پریشان ہے ۔ کوئی خاندانی مسئلہ ہے لیکن اسے ہاروت نے سمجھایا ہے کہ کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہوتا جس کاحل نہ ہو۔ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا حل بھی قدرت دے دیتی ہے۔ چاہے بچپن کے رشتے ناتے کی کوئی بات ہو یا خاندانی چپقلش کا ذکر، کوئی نہ کوئی بزرگ اپنی صوابدید سے ایک اچھا حل نکال ہی لیتے ہیں۔ویسے بھی ناامیدی آدمی کو مضمحل کردیتی ہے۔ 
٭٭ جاننا چاہئے کہ مایوسی کفر ہے۔ 
 

شیئر: