الطاف حسین کے بغیر انتخابات، بڑی تبدیلی ممکن ہے؟

 کراچی(صلاح الدین حیدر)انتخابات چاہے کسی بھی ملک میں ہوںا س کے عوام اور بیرونی دنیاکےلئے باعث توجہ ہوتے ہیں۔پاکستان میں بھی ایسا ہی ہوتا رہاہے۔ اس سال پھر یہ دنیا کی نظروں کا مرکز رہے گالیکن اس وقت ہم خاص طور پر کراچی کاذکر کریں گے کہ دیکھیں بغیر الطاف حسین کون سی بڑی تبدیلی کا سبب بنتے ہیں۔22اگست 2016کے بعد صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آگئی۔ آج ایک ایسی پارٹی کو پچھلے 3برس سے سندھ کے شہری علاقوں میں بلا شرکت غیر مالک تھی۔ آج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان چھایا ہواہے۔آپس کی لڑائیاں ، جھگڑے ، فساد ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں نے ظاہر ہے اردو بولنے والے ، جنہیں عرف عا م میں مہاجر کہتے ہیں بے بس و پریشان کردیا ۔ آپس میں تقسیم ہونے والے دھڑے پی آئی بی کالونی اور بہادرآباد کے نام سے مشہور ہونے والے اب دوبارہ ایک ہوگئے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار مسلسل نا کامیوںکے بعد خود ہی بہادر آباد چلے گئے۔ اےک دوسرے میں ضم ہونے کا اعلان کردیا۔ خوش آئند بات ہے لیکن اس کا اثر ایم کیو ایم کی مقبولیت پر کتنا پڑے گا۔ یہ دےکھنا باقی ہے۔ مردم شماری کے بعد گو کہ کراچی کی آبادی آدھی سے بھی کم رہ گئی لیکن کراچی کی 20کی بجائے 21قومی اسمبلی کی نشستیں ہوگئیں ۔ایم کیو ایم کے قائدین خالد مقبول صدیقی ، عامر خان،فیصل سبزواری،کنور نوید جمیل ویسے تو بہت پر امید دکھائی دیتے ہیں۔ کیا عوام الناس بھی ان کی حرکتوں یا چال بازیوں سے خوش ہیں یا وہ الطاف حسین کی غیر موجودگی میں بھی ایم کیو ایم کی حمایت کریں گے یہ بہت بڑا سوال ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی بد حالی کے بعد کراچی ،حیدر آباد میر پور خاص ،سکھر، اور کسی حد تک نواب شاہ میں مایوسی کا عالم ہے۔ لوگ کس حد تک ایم کیو ایم کی آواز پر لبیک کہیں گے۔یہ 25جولائی کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔ تجزیہ نگاروں کی نگاہیںبھی کراچی اور حیدر آباد پر لگی ہیں جہاںسے ایم کیو ایم کے سواکوئی اور جیت نہیں سکتا،بدلی ہوئی صورتحال میں تحریک انصاف، پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم کے گڑھ عزیز آباد میں ڈیرے ڈال دیئے۔ عمران خان، اور شہلا رضا ، خالد مقبول صدیقی کے خلاف صف آراءہیں۔ عام تصور تو یہی پایا جاتاہے کہ عزیز آباد کے باشندے شاید اب ایم کیو ایم کے نرغے سے نکل چکے ہیں۔پہلے کی طرح این اے 246کے نتائج شاید کچھ مختلف ہوں۔تصور یہی ہے کہ شہلا رضا کی اہمیت عمران خان اور خالد مقبول صدیقی کے سامنے بہت کم ہے۔ اصل معرکہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے درمیان ہوگا۔ پیپلز پارٹی جو کہ بڑھ چڑھ کے کراچی کی دعویدار بن رہی تھی، اب کچھ خاموش نظر آتی ہے۔ سعید غنی، یا دوسرے اردو بولنے والے پی پی پی کی نمائندوں میں وہ جوش خروش کم ہی نظر آتاہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ رمضان کا ماہ مبارک بھی تھا، جہاںسیاسی سرگرمیاں افطاری کی تقریب تک محدود ہو کر رہ گئی تھیں اب جبکہ رمضان اپنی آب و تاب دکھا کر رخصت ہوچکاہے، ہو سکتاہے نقشے میں  تبدیلی پیدا ہومگر تاریخی طور پر 1970سے آج تک کراچی کبھی پیپلزپارٹی کی حمایت میں کھڑا نہیں ہوا ۔جماعت اسلامی کا زو ر ضرور تھا لیکن وہ باب بھی بند ہوچکا ۔عمران خان اور پاک سرزمین پارٹی کا کردار اچھا خاصا نظرآتاہے۔ی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال3 حلقوں سے امید وار نامزد ہوئے ہیں۔۔ ایک اور بات قابل ذکر ہے۔ ایم کیو ایم کے امید واروں کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو یہ دیکھ کر تعجب ہوتاہے کہ ان کے پاس بھی امیدواروں کی کمی ہے۔لڑائی جھگڑوں نے اسے خاصا نقصان پہنچایا ہے، ایک ایک جگہ سے کئی پرانے امید وار نامزد کئے گئے ہیں۔ظاہر ہے کہ ان کی مقبولیت میں فرق پڑا ہے۔بلاول بھٹو بہت کچھ کراچی کے بارے میں باتیں کرتے تھے  کاغذات نامزدگی انہوں نے بھی پیپلز پارٹی کے گڑھ لیاری سے داخل کئے ہیں۔دوسری نشست وہ آبائی شہر لاڑکانہ سے لڑیںگے۔ لیاری ہمیشہ سے ہی پی پی پی کا گڑھ رہا ہے۔ 1970میں وہاں سے پی پی پی کے نمائندے ستار بلوچ ،اور ملیر سے مرحوم حفیظ پیر زادہ جیتے تھے۔ 2013میں بھی 20میں سے 17نشستوں پر ایم کیو ایم نے کامیابی حاصل کی باقی 3 نشستیں پیپلز پارٹی کو گئیں۔اب دیکھتے ہیں کیا ہوتاہے؟ 
مزید پڑھیں:کسی ووٹر کا ڈیٹا لیک نہیں کیا،نادرا حکام

شیئر: