ماضی کے بچے منہ دیکھ کرعیدی لیتے تھے، آجکل عیدی لے کر منہ دیکھتے ہیں

صبیحہ خان۔ٹورانٹو
تہوارکسی بھی قوم کی شناخت، ان کی ثقافت کا عکس اور ان کی تہذیب و نظریات کا پرتو ہوتا ہے ۔ عید کے معنی خوشی، مسرت یا جشن کے ہیں۔ عید الفطر مسلمانوں کے لئے خوشیاںاور مسرتیں ساتھ لاتی ہے۔ یہ بہت ہی پرجوش تہوار ہوتاہے۔ بچے، بوڑھے ، جوان سب کیلئے شادمانی اور خوشیوں کا باعث بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو رمضان کریم کے روزے رکھنے کا انعام عید الفطر کی صورت میںعطا فرمایا ہے۔ رمضان مبارک کے آخری دنوں میں عید کی تیاریاں عروج پر ہوتی ہیں۔ 
یوں تو ماضی اور حال کی عیدوں میں خاصی تبدیلی آچکی ہے، جدید دور میں انداز بھی جدیدہو چکے ہیں جبکہ پرانے طریقے اپنی اہمیت وافادیت کھو بیٹھے ہیں اور پرانی نسل اپنے دور کی عیدوں کی حقیقی خوشیوں کو یاد کرکے آہیں بھرتی ہے۔ نئی نسل نے عید منانے کے ڈھنگ بدل ڈالے ہیں۔ یہ کارنامہ انٹرنیٹ کی بدولت خوب پھل پول رہا ہے۔ ایک وقت تھا کہ عید کارڈ کے بغیر عید منانے کا مزہ نہیں آتا تھا مگر اب عید کارڈ اپنے دوستوں رشتہ داروں کو بھیجنے کی ذمہ داری نیٹ پر ڈال دی گئی ہے۔ اسی طرح عید پر نئے کپڑوں اور جوتوں کی وہ خوشی بھی ناپید ہوچکی ہے جو ماضی کی عیدوں میں پائی جاتی تھی۔ اب تو سارا سال کپڑوں جوتوں کی شاپنگ کرتے نہیں تھکتے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بچوں اوربڑوں کو نئے کپڑوں، جوتوں اور جیولری وغیرہ کی وہ خوشی نہیں ہوتی جو ماضی کی عیدوں میں پوشیدہ ہوا کرتی تھی۔ 
اسے بھی پڑھئے: آجکل لاہور میں ٹانگے نہیں چلتے، ٹانگیں چلتی ہیں
اب جدید مائیں بچوں سے زیادہ اپنی تیاری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ماضی میں عید پر اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوت کا اہتمام گھر پر ہوتا تھا مگر اب عید ملن پارٹیاں عید کا لازمی جز و ہیں جن کا انتظام ہوٹلوں اور لان وغیرہ میں ہوتا ہے۔ پہلے سوئیاں اورمٹھائیاں عید کا خاص تحفہ ہوتی تھیں، اب لوگ عید کیک بنواتے ہیں ۔ عیدی بھی عید کا لازمی عنصر شمار کی جاتی تھی ۔ تھوڑی عیدی لیکر بچے نہال ہوجاتے تھے۔ ماضی کے بچے منہ دیکھ کرعیدی لیتے تھے جبکہ آجکل عیدی لے کر منہ دیکھتے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ دور حاضر میں عیدی مقابلے بازی کا ذریعہ بن گئی ہے اور اس میں بھی نفع نقصان کا حساب رکھا جاتا ہے۔
گزشتہ ادوار میںچاند رات کی دھوم دھام بہت زیادہ ہوتی تھی۔ سب سے پہلا مرحلہ چاند دکھائی دینے کا ہوتا تھا۔ چاند کو بھی عید کے حوالے سے اپنی اہمیت کا احساس ہوتاتھا ۔اس لئے وہ بھی بادلوں کی اوٹ میں چھپ کر زمینی مخلوق سے خوب آنکھ مچولی کھیلتا تھا اورآسانی سے اپنا جلوہ نہیں دکھاتاتھا۔اس کے دیدار کے لئے ہلال کمیٹیاں بٹھائی جاتیں ۔ہر کمیٹی اپنے صوبے کا الگ چاند دیکھتی۔انہیں یہ باور کرا دیا جاتا تھا کہ آپ نے زمینی نہیں بلکہ آسمانی چاند دیکھنا ہے۔یہاں آپ کو یہ بات بھی بتا دیں کہ گزشتہ سال زمین کا چاند دیکھنے کے چکر میں کمیٹی کے ایک رکن کو اپنی رکنیت سے ہاتھ دھونے پڑ گئے تھے۔
چاند ہماری زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ چاند نہ ہوتا تو عید کا پتہ کیسے چلتا۔ شادیاں کیسے ہوتیں۔ پھر مائیں چاند جیسی بہوئیں کیسے تلاش کرتیں۔ بچے بور کے پوئے پکانے کی فرمائش چندا ماما سے کیسے کرتے۔ شاعروں کی غزلیں بھی کتنی روکھی پھیکی اور بدمزہ ہوتیں کیونکہ وہ چاند جیسے محبوب کے ذکر سے خالی ہوتیں۔ کتنے ہی فلمی گانے چاند کے مرہون منت ہیں جیسے:
مجھے مل گیا بہانہ تری دید کا
 کیسی خوشی لے کے آیا چاند عید کا
  اسی طرح ایک پاکستانی نغمہ بھی ہے کہ :
 اے چاند ان سے جاکر ،میرا سلام کہنا
چاند سے وابستہ محبت کے اسی جذبے نے اردو زبان کو کئی نئے الفاظ،ضرب الامثال ، محاورے، استعارے، تشبیہات ، نظمیں او ر غزلیں وغیرہ بھی دی ہیں۔ چاند کا لفظ دوسری کئی اور چیزوں کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے کسی گنجے یا بالوں سے محروم شخص کو دیکھ کر کہا جاتا ہے کہ اس کی چندیا دیکھو چاند کی طرح چمک رہی ہے۔ 
چاند کا لفظ حسن کے معنوں میںبھی استعمال ہوتا ہے۔ 99 فیصد مائیں اپنی اولاد کے حوالے سے آنکھیں بند کرکے ناانصافی کرنے سے نہیں ہچکچاتیں ۔ اسی لئے وہ اپنے کالے کلوٹے بچے کو بھی چاند کا ٹکڑا کہہ کر صدقے واری جاتی ہیں کیونکہ بچہ کالا ہو یا گورا ،ماں کو تو چاند ہی دکھائی دیتا ہے۔ نئے شادی شدہ جوڑوں کو ان کے بڑوں کی جانب سے اس طرح کی دعائیں دی جاتی ہیں کہ آپ کو چاند سی بیٹی یا بیٹا عطا ہو۔ کنواروں کو چاند سی دلہن اورکنواریوں کو چاند سا دولہا ملنے کی آس دلائی جاتی ہے۔
ہماری خواتین کو چاند رات بہت پسند ہے اس لئے وہ سارے کام چھانٹ کر چاند رات کیلئے جمع کرکے رکھتی ہیں مگر عجیب بات یہ ہے کہ شوہروں کو بیگم کی یہ ادا بری نہیں لگتی۔ اسی لئے جب بیگم انہیں بازار چلنے کیلئے کہتی ہیں تو وہ بلا چون و چرا بلکہ ہنسی خوشی تیار ہوجاتے ہیں اور بیگم سے بھی زیادہ ذوق و شوق کے ساتھ بازار کا رُخ کرتے ہیں۔
چوڑیاں اور مہندی چاند رات کی خا ص سرگرمی شمار ہوتی ہے ۔اس رات بیوٹی پارلرز میںبھی ایمرجنسی نافذ ہوتی ہے جہاںمحلے بھر کی خواتین بالوں کی کٹائی، رنگائی، فیشل وغیرہ جیسے جمالیاتی ہتھکنڈوں سے لیس ہورہی ہوتی ہیں۔ انجام کار بیوٹی پارلرز سے دھڑا دھڑ ”چاند“ برآمد ہوکر علاقے میں بکھرے رہتے ہیں۔ یوں یہ بیوٹی پارلرز ایسا افق ثابت ہوتے ہیں جہاں غروب ہونے وا لے دمدار ستارے چاند کی شکل میں طلوع ہوتے ہیں۔ ان کی سج دھج دیکھ کر چاند بے چارا بھی شرما جاتا ہے کہ اے کاش میرے آس پاس بھی کوئی بیوٹی سیلون ہوتا تو میںبھی زمینی خواتین کی طرح اپنے داغوں کو میک اپ کی تہہ میں چھپا لیتا۔
کینیڈا اور امریکہ کے باسی چاند سے کوئی خاص لگاﺅ نہیں رکھتے۔ چاندویسے تو دکھائی نہیں دیتاتاہم ریڈیو والوں کو نظر آجاتا ہے اور وہ دیدارِ ماہتاب کا اعلان کردیتے ہیں ۔ ایوننگ جاب والے افراد اس خوشی سے بھی محروم رہتے ہیں۔ جہاں تک چاند رات کی شاپنگ کا سوال ہے تو بازار سرشام ہی بند ہوجاتے ہیں اس لئے شوہر حضرات چاند رات کی ناز برداری سے محروم رہتے ہیں اور اگر عید ورکنگ ڈے میں پڑ جائے تب وہ اس کو ویک اینڈ تک موخر کردیتے ہیں یعنی عید یہاں اپنی مرضی سے منائی جاتی ہے۔یوں چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کا جھگڑا ہی ختم۔
ہمارے ہاں چاند رات کو جہاں دیگر لوازمات ذوق و شوق سے خریدے جاتے ہیں وہیں کھانے پینے کی اشیاءپر بھی لوگ ٹوٹے پڑتے ہیں۔چینی، گھی، تیل، چاول، آٹا، میدہ، سویاں بھر بھر کر اس طرح خریدتے ہیں جیسے سب کچھ مفت بٹ رہا ہو۔ اس وقت مہنگائی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ ذخیرہ اندوز اور منافع خور چاند رات کو اپنا پورا مال فروخت کر کے ہی دم لیتے ہیں۔ اس کے بعدعید کا سارا دن سو کر اور باقی دن بھی سکون واطمینان سے گزارتے ہیں کہ چاند رات کو ان کی اچھی خاصی چاندی ہوچکی ہوتی ہے۔
عید کی آمد جہاں خوشیوں کے رنگ بکھیرتی ہے وہیں مردوں کو یہ فکر ہوتی ہے کہ تنخواہ کے ساتھ عیدی الاﺅنس بھی مل جائے تو چاند رات کو بیگمات کو شاپنگ کراکے خوش کرسکیں جو کہ ناممکن ہے۔ اس طرح بیٹیوں کے والدین کو چاند رات کو یہ فکر ہوتی ہے کہ ان کو سسرال عیدی بھیجنا ہوگی۔ ایسا نہ ہو کہ ان کو سسرال والے طعنے دیں جس طرح پوری دنیا سپرپاور سے ڈرتی ہے اسی طرح بیٹیوں کی مائیں ان کے سسرال والوں سے ڈرتی ہیں۔ بہت سے شوہر حضرات اس موقع پر بڑی ہوشیار ی دکھاتے ہیں اور وہ چاند رات کو ہی بیوی اور درجن بھر بچوںکواپنی اہلیہ کے میکے چھوڑ آتے ہیں کیونکہ یہ موقع ایسا ہوتا ہے جب لڑکی کو اپنا میکا بہت یاد آتا ہے اور اس حربے سے بیوی بچوں کی فرمائشوںاور شاپنگ سے نجات بھی مل جاتی ہے۔ وہ چاند رات کو ٹھاٹ سے کسی سیلون میں اپنے بال اور مونچھیں ترشوا رہے ہوتے ہیں کہ صبح کو وہ بھی سسرال جائیں گے اور ساس سسر کی خدمت میں عید کا سلام پیش کرکے عیدی وصول کرلیں گے۔ 
 

شیئر: