خوش نصیب ہیں جو ان رکاوٹوں سے گزر کر زندہ نکل آئیں

عنبرین فیض احمد۔ ینبع
ملک میں جب بھی کوئی تعمیراتی کام شروع کیا جاتا ہے خواہ وہ کسی بھی شہرمیں ہو، تعمیراتی سامان سڑکوں پر ڈھیر کردیا جاتا ہے جس کے باعث ٹریفک کی روانی میں خلل پڑتا ہے۔ چھوٹی بڑی گاڑیوں کا اتنا زیادہ ازدحام ہوجاتا ہے کہ لوگوں کے لئے پیدل چلنا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔ اگر پانی، گیس ، ٹیلیفون یا بجلی کے محکموں کی جانب سے کوئی لائن ڈالنی ہو تو سڑکوں کی برباد ی دیدنی ہوتی ہے۔ کھدائی کی وجہ سے گردوغبار کا طوفان سارا دن دکھائی دیتا ہے۔ کچھ دن کی بات ہو تو انسان برداشت بھی کرلے لیکن ٹھیکہ دار کھڈے کھود کر بھول ہی جاتے ہیں جس کی وجہ سے سنگین قسم کے کئی حادثات بھی رونما ہوتے ہیں ۔
محسوس یوں ہوتا ہے کہ صاحبان اختیار کو اپنے شہریوں کی جان و مال کی قطعی کوئی پروا نہیں۔ سڑکوں پر موجود جگہ جگہ گڑھے موت کو دعوت دیتے ہیںلیکن چونکہ یہ دعوت خواص کے لئے نہیں ہوتی بلکہ عوام کے لئے ہوتی ہے اس لئے صاحبان کو اس جانب توجہ دینے کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔ دن کے وقت تو پھر بھی گاڑیوں والے بچ بچا کر گزر جاتے ہیں لیکن رات میں لوڈ شیڈنگ کے دوان اسٹریٹ لائٹس غائب ہونے کی وجہ سے ان سے بچ کر گزر جاناخوش نصیبی ہی شمار ہوتی ہے۔ بغیر کسی پلاننگ کے کسی بھی سڑک کو کھود کر رکھ دیا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ پہلے متبادل راستوں کا انتظام کیا جائے تاکہ نہ صرف عوام کو آسانی ہو بلکہ کام کرنے والوں کو بھی سکون ہو۔ اس طرح کی تعمیرات عوام کیلئے تو درد سر ہوتی ہی ہیں مگر جو لوگ ان مقامات پر تعمیراتی کام کررہے ہوتے ہیں، ان کیلئے بھی یہ کسی آزمائش و مصیبت سے کم نہیں ہوتیں۔
دھنک کے صفحہ پر دی گئی تصویر”کراچی“ جو کسی زمانے میں روشنیوں کا شہر کہلاتا، اس کے ایک علاقے لسبیلہ پل کی ہے جسے کسی زمانے میں کھودا گیا تھا۔ یہ تعمیراتی کھلواڑ عوام کے ساتھ اس لئے کیا گیا تھا کہ عوام کو گرین لائن بس سروس کا تحفہ دیا جاسکے مگر غریب عوام کو گرین لائن بس سروس تو فی الحال نصیب نہیں ہوسکی البتہ عرصے سے دھول، ریت ، بے ترتیب ٹریفک اور بے ہنگم شور شراباضرور بن مانگے مل رہا ہے۔ تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک موٹر سائیکل سوار متبادل راستہ نہ ہونے کے باعث اپنی منزل پر پہنچنے کی جس طرح تگ و دو کررہا ہے، اس پر کیا بیت رہی ہے ۔یہ بیچارہ موٹر سائیکل والا ہی اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ یہ صرف ایک اسی موٹر سائیکل والے پر منحصر نہیں بلکہ روزانہ یہاں ہزاروں افراد کو اس بد نظمی کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مقامی انتظامیہ کی عدم توجہی معمولی سا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
صاحبان اختیار اور منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانے والے ذمہ داران بغیر سوچے سمجھے منصوبے کا آغاز تو کردیتے ہیں مگر اس کے انجام کا نہیں سوچتے کہ عوام کو کتنے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بمشکل 5 ، 7 منٹ کا سفر گھنٹوں پر محیط ہوجاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کھودے گئے گڑھوں میں سیوریج کا پانی بھر جاتاہے جس سے پورے علاقے میں تعفن پھیل جاتا ہے ۔ اطراف کی دکان والوں کا کاروبار تقریباً ختم ہوکر رہ جاتا ہے کیونکہ دکان بند کریں تو گاہک نہیں آتے، کھلی رکھیں تو دھول مٹی سے دکان میں رکھا سامان کسی کام کا نہیں رہتا۔ گاہگ بھی انتہائی مجبوری کے عالم میں ہی ایسی دکانوں کا رخ کرتے ہیں۔ 
گرین لائن بس کے ٹریک کی تعمیر کے سلسلے میں بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ جہاں جہاں سے اس بس کو گزرنا ہے وہاں سڑکیں اس طرح توڑی گئی ہیں کہ جگہ جگہ گڑھوں اور ان سے نکالے جانے والے پتھروں اور مٹی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ کھدائی کے دوران سیوریج لائن اگر ٹوٹ جائے تو گندا پانی وہاں سے گزرنے والوں کیلئے مزید عذاب کا باعث بن جاتا ہے۔ مچھروں کی بہات کے باعث مختلف قسم کی بیماریاں شہریوں کا جینا حرام کردیتی ہیں۔ 
کراچی میں گرین لائن بس سروس تو معلوم نہیں کب شروع ہوگی لیکن ایک بات یقینی نظر آتی ہے کہ شہر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ صاحب اختیار کی نظروں میں عوام الناس کاکوئی مقام نہیں، انہیں ان کی تکالیف کا کوئی احساس ہی نہیں۔انہیں صرف اور صرف وہی لوگ انسان لگتے ہیں جن کے ہاتھوں میں کوئی نہ کوئی اختیار ہے ، انہیں دہائیاں دینے والے مظلوم و مجبور عوام انسانی فہرست میں شامل نظر نہیں آتے، نجانے ایسا کیوں ہے ؟
گرین لائن بس سروس تو بس ڈرامہ ہے ، کراچی کے باسیوں کے نصیب میں ٹرانسپورٹ ہے ہی نہیں۔50 سال پرانی بسیں اور کنڈکٹروں و ڈرائیوروں کی جھڑکیاں ہی ان کا مقدر ہیں۔ 
ویسے بھی زندگی کے کسی بھی شعبے میں کوئی بھی شخص اگر کوئی منصوبہ بندی کرتا ہے تو ہمیشہ دو پلان بناتا ہے تاکہ اگر ایک پلا ن کامیاب نہ بھی ہو تو دوسرے پر کام کیا جاسکے لیکن ہمارے ہاںتو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ بے ترتیب اور غیر منظم منصوبوں کی وجہ سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے بلکہ پیسے اور وقت کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔ کسی بھی کام کی منصوبہ بندی بہت سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے لیکن ہمارے یہاں بغیر سوچے سمجھے کام انجام دینے کی کوشش کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں منصوبہ نام ہوجاتا ہے یا اتنا طول پکڑ جاتا ہے کہ عوام اس کے ثمرات کا انتظار کرتے کرتے اسے فراموش کر دیتے ہیں اور گاہے بعض لوگ تو دنیا سے ہی چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں ذرا تصور کیجئے کہ شہریوں کو کیا حاصل ہوا؟ اس کا جواب یہی ہے کہ انتظامیہ کے لیت و لعل اور لاپروائی کے باعث کراچی کے شہریوں کونہ صرف نقصانات جھیلنے پڑے بلکہ انہیںشدید ذہنی اذیت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے ۔
 

شیئر: