اس سڑک کی سیر سے 7”طبق“ روشن،موڈ خراب

اُم مزمل۔جدہ
وہ متبسم چہرے کے ساتھ میگزین کے صفحات پر نگاہیں جمائے ہوئے تھی۔ وہ اینٹ پتھر کی سڑک پر رکاوٹوں کے درمیان فور وھیلر کو بار بار بریک لگانے پر مجبور تھا ۔ اسمارٹ فون گنگنایا اور اسکا پارہ اور ہائی ہوگیا ،کہا تم لوگوں نے کیسے کیسے طریقے ایجاد کر لئے ہیں عام لوگوں کو تنگ کرنے کے ۔اب یہی دیکھو کسی کا موڈ خراب کرنا ہو تو اسے اس سڑک کی ایک سیر کروادو، 7طبق روشن ہو جائیں گے۔دوسری جانب سے زبردست قہقہہ لگایا گیا کہ میں نے تو تم سے کہا تھا بائے روڈ آنے کی کیا ضرورت تھی ؟کسی اور دن کی فلائٹ مل ہی جاتی اور جب میں نے آفس سے روانہ ہوتے ہو ئے فون کیا کہ میں تمہیں پھوپھی جان کے گھر لے چلوں گا، تم میری طرف آجاﺅتو تم نے کہاکہ تھوڑی دیر بعد تم وہاں پہنچ جاﺅ گے اور اب ایسا لگ رہا ہے کہ تم گرم انجن پر بیٹھے اپنا آدھا غصہ میرے اوپر اتار رہے ہو اور آدھا حساب کتاب کی غلطی کرکے کہ 14 طبق کو آدھا کردیا۔ وہ موسم کا ستایا کون ہوگا کہ اس گرمی میں مسکرا رہا ہوگا اور یہی وہ لمحہ تھا جب اس کی نگاہ اپنے داہنی جانب پبلک ٹرانسپورٹ پر گئی اور ایک متبسم چہرہ پر جارکی۔ وہ ایسے مگن تھی جیسے کہ اپنے پائیں باغ میں جھولے پر بیٹھی کوئی دلچسپ رسالے کا مطالعہ کر رہی ہو ۔دھوپ کی تپش سے سارے مسافر پریشان صورت بنائے ڈرائیور کی کرامات ملاحظہ کر رہے تھے کہ وہ اس کھودے گئے پتھروں سے اتنی بڑی بس کیسے نکال پائے گا ۔ایک وہ ارد گرد سے بالکل بے نیاز تھی۔ وہ یونی فارم کی شرٹ پر ململ کا دوپٹہ لئے ہوئے تھی ،چہرے پر دھوپ کی تمازت سے ننھے ننھے موتی نمودار ہوگئے تھے جس کی اسے ذرابھی پروا نہ تھی۔ ٹریفک میں کچھ روانی آئی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر چور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا پیچھا کیا جاتا ہے لیکن کوئی کسی کا پیچھا صرف اس ایک بات کی معلومات کے لئے کرے کہ اس شدت کی گرمی میں جہا ں ہر ایک پریشان صورت لئے ہو، وہاں وہ اس قدر مطمئن کیسے ہے؟لگتا ہے کہ ارد گرد کی سختی اس پر اثرنہیں کر رہی۔ یہ بات نجانے کہاں تک پہنچتی کہ کچھ دور جاکر گاڑی پیچھے رہ گئی اور بس آگے چلی گئی پھر وہ لڑکی اسے نظر ہی نہیں آئی۔وہ ایک ہفت پہلے ہی اپنی اسٹڈیز کمپلیٹ کرکے اپنی آبائی حویلی پہنچاتھا اور آج یہاں اپنے دا دا کی چھوٹی بہن کے گھر انکے خاندان والوں کے یہاں آیا تھا ۔اس کاچند دن قیام کا ارادہ تھا۔
عجیب سوچ میں الجھا تھا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی ہر قسم کے حالات میں اتنا مطمئن ہو کہ کوئی بیرونی قوت اس کی اندرونی کیفیت کو متاثر ہی نہ کرسکے اس کے لئے انسان کو کتنا طاقتور ہونا پڑتا ہوگا ۔اگر ملاقات ہو جاتی تو ضرور یہ سوال اس سے پوچھتا ۔کزن کا پھر فون آیا تھا اور وہ بتا نہیں سکا تھا کہ اس نے ابھی ایک پبلک ٹرانسپورٹ کا پیچھا کیا تھا ۔یہ حرکت اس کی شخصیت سے میل نہیں کھاتی تھی ۔شاید اس کا کزن بھی یقین نہ کرتا ۔ پرانے گھر کے سامنے پہنچ کر لگا کچھ تو اپنے گھر کی مینٹیننس پر بھی خرچ کرنا چاہئے تھا لگ تو ایسا ہی رہا تھا کہ بہت عرصے سے لان کو چھوڑ دیا گیا تھا جو وہ اتنا بے ترتیب ہورہا تھا ۔ 
وہ جیسے ہی گھر کے لِونگ روم میں داخل ہوا ،ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہوا کہ جس کے لئے وہ کئی گھنٹے یہاں دیر سے پہنچا تھا، وہ یہاں ہی موجود تھی۔ کس حیثیت میں تھی، یہ تو پتہ نہیںچل رہا تھا۔ یونیفارم کی وی کے اوپر کچن ایپرن پہنے تیزی سے اوپن کچن میں یہاں سے وہاں کام میں مصروف تھی۔ چچی جان نے اسے شربت لانے کو کہا اور اس نے بوتل کے جن کی طرح تیار شربت گلاس کے اسٹینڈ کے ساتھ ٹرے پر رکھ کر ٹیبل تک پہنچا دیا۔ ایک ڈائننگ ٹیبل کچن میں تھی اور دوسری لاﺅنج میں اور وہ کوئی مہمان نہیں تھا ،گھر کا فرد ہی تھا تو 
 وہیں سب کے ساتھ موجود تھا۔ اس نے دیکھا وہ کئی کاموں کو ایک ساتھ نمٹا رہی تھی۔ چولھے کے کئی برنر آن تھے اور ہر ایک پر پریشر کوکر ایک کے بعد ایک سیٹی بجا رہا تھا ۔ اس نے اسی دوران کئی ایک ڈشیں تیار کرلیں۔ دیکھنے میں تو ایسا ہی لگا کہ وہ کوئی شیف ہے کہ جس نے ایک نہیں کئی قسم کے سلاد بنا کر کور کر دیئے یا رائتے کی ورائٹی کو بھی سجا دیا اور اب اس نے سویٹ ڈش کے لئے کرش کئے چاول کو گرم دودھ میں ڈال کے چند منٹ میں فرنی تیار کر لی۔ ایک بڑے فرائی پین میں پیاز کوبریاں کرکے ثابت لال مرچیں ڈال کر مٹن کوکر سے ڈال کر اس میں کالی مرچ وغیرہ کے پاوڈر ڈال کر چند منٹوں میں اسٹو تیار کرلیا پھر دوسرے فرائی پین میں آملیٹ جیسا کٹا پیاز اور شملہ مرچ ڈال کر اسی کوکر سے مٹن ڈال کر سویا ساس ڈال کر ایک ڈش میں نکال لیا اور اب تیسری بڑی دیگچی میں تیاربریاں ٹماٹر اور مصالحہ ڈال کر مکس کیا اور لیمن کے پیسز کرنے کے بعد دوسرے برنر پرابلتے چاول کو چھلنی سے گزار کر اس میںمکس کر کے بریانی تیار کردی ۔تیار کباب منٹوں میں تل لئے ،چکن کی ٹرے اوون سے تیار ہونے پر ٹیبل سجا دی۔
وہ جس انداز میں کام کر رہی تھی، اس سے محسوس ایسا ہی ہوتا تھا کہ اس گھر کے ہر فرد کے لئے دن رات وہی یہ ڈیوٹی انجام دیتی ہے اور منتظم بھی اچھی ہے کہ کم وقت میں اس نے ڈیڑھ درجن کے قریب ڈشز ٹیبل پر سجا دی تھیں۔ 
وہ اپنی ہٹ دھرم طبیعت کی وجہ سے کافی عتاب میں رہتا تھا۔ والد صاحب نے جو گریڈ لانا اس کے لئے لازمی قرار دیاتھا، وہ اس تک نہ پہنچ سکا اور اسے آخر کار باہر کی یونیورسٹی میں داخلہ لینا پڑا اور پھر وہاں کی عادت ایسی ہوگئی کہ سالوںگزرتے گئے اور وہ اب لوٹ کر آیا تھا ہمیشہ کے لئے ۔
چچاجان نے کھانے کی ٹیبل پر سب کے ساتھ اسے بھی شامل ہونے کو کہا لیکن فوراً چچی جان نے کہا کہ وہ تو اپنی خالہ کے گھر سے پارٹی میں شرکت کر کے آرہی ہے ۔وہ اپنے منہ میں موجود سونف الائچی کی وجہ سے ”ہوں ، ہوں“ میں جواب دہ رہا تھا۔ وہ اس کی خالہ کے گھر کی خیریت دریافت کرنے لگے ۔ وہ سوچنے لگا ساڑھے گیارہ بجے سے وہ اسے بس میں دیکھ چکا تھا اور ٹریفک جام نے گھر پہنچانے میں دیر کرا دی ۔ اب ساڑھے تین بجنے والے تھے ۔اگر وہ برتھ ڈے پارٹی میں بھی گئی تھی جو کہ کالج کے سامنے والا گھر ہی ہے تو بھی کتنی دیر 
 ہو چکی، کیا وہ بھوک پیاس سے ماورا تھی؟ ماحول سے بے نیازی کا اندازہ تو وہ بس میں ہی اس کے متبسم چہرے سے لگا چکا تھا اور اب یہ بھی دیکھا کہ مشین کی سی رفتار سے ٹیبل سجانے والی کو اتنا بھی حق نہیں دیا گیاتھا کہ وہ سب کے ساتھ لنچ کرلے۔
کئی دن کے بعد ملاقات ہوئی۔ وہ اس کے بارے میں جان چکا تھاکہ وہی کزن ہے جسے جانے انجانے میں اس نے بھی تکلیف پہنچائی ہے کہ جب امتحان ہوتا ،وہ چھوٹے چچاجان کی طرف چلاجاتا کیونکہ والد صاحب کی سخت سست سننے کے بعد کوئی جی دار ہی ہوگا جو اپنا موڈ بحال رکھ سکتاہوگا ۔وہ تو اپنا امتحانی شیڈول آتے ہی اپنے چھوٹے چچا کے گھر شفٹ ہوجاتا لیکن بعض وقت اس کے ذہن میں یہی بات آتی کہ کچھ اور اس کے لئے قدرت نے لکھا ہے اور پھر جب پروفیشنل کالج میں ایڈمیشن کا وقت آیا ،رزلٹ نے ساتھ نہیں دیا۔ ایسے موقع پر وہ اکیلا ہی باہر قسمت آزمائی کے لئے روانہ ہونا چاہتا تھا کہ پڑھائی ہوسکے تو ٹھیک ورنہ کوئی صبح و شام کلاس تو نہیں لے گا اور یہ وہ وقت تھا کہ جب چھوٹے چچا نے بھی اپنا پی ایچ ڈی کا فارم بھر کر بھیج دیا اور اس طرح چچا بھتیجا ایک ہی یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ بن گئے اور پھر جب قدرت نے معاملات درست کردئیے تو والدین بھی اکلوتے بیٹے کی خوشی منانے کے لئے پہنچے اور لوگ بھی آتے جاتے رہے لیکن چچا بھتیجا وہیں کے ہو رہے اور کئی سال کے بعد چچا جان کو خیال آیا تھا کہ بھتیجے کو اپنے خاندان میں شادی کرنی چاہئے۔ اسی لئے یہاں کا پروگرام بنا۔ 
وہ اسے اس کی خالہ کے گھر جاتے دیکھ کر خود بھی ان کے گھر پہنچ گیا ۔سب سے اتنے دنوں بعد ملاقات ہوئی اور اب اپنی نالائقی بھی یاد آئی کہ جس کی وجہ سے چچا جان نے اپنی بیٹی کو اپنے بڑے بھائی کے گھر جہاں وہ اپنی امی جان کے انتقال کے بعد سے مقیم تھی ، چھوڑا اور فیصلہ کیا کہ ایک 17 سالہ اکیلا لڑکا بیرون ملک جائے گا تو کیسے رہے گا اس لئے مجھے بھی کسی صورت ساتھ جانا چاہئے اور یہی صورت نظر آئی کہ خود بھی وہیں کے اسٹوڈنٹ بن جائیں اور اب وہیں درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہوگئے۔ 
اس نے خالہ کے گھر پر اپنی شادی کی بات بھی چھیڑ دی اور اندر کمرے میںموجود وہ آگ بگولا ہوگئی اور اس نے کہا آپ چچا بھتیجے نے پہلے مجھے اکیلا کیا ،اب اپنے چچا کا احسان اتارنے کا سامان کیا جا رہا ہے۔ ایک ناپسندیدہ شخصیت کو زندگی میں شامل کر کے بوجھ اتارا جارہا ہے ۔
اس نے کہاکہ تمہارا غصہ بجا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میں کچھ بھی کرلوں ان کا احسان تو میں کبھی نہیںاتار سکتا۔ہاں یہ اور بات ہے کہ ایسا خیال تمہیں آسکتا تھا لیکن میں توبس میں تمہاری موجودگی سے بے حدمتاثر ہواتھا کہ اس سخت گرمی میں تم پوری دلچسپی سے میگزین پڑھنے میں منہمک تھیں ۔خالہ جان نے کہاکہ یہ سب ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے کیا لیکن یہ تمام حالات کا انتظام قدرت اپنی طرف سے کرتی ہے۔
٭٭جاننا چاہئے کہ جو لوگ باطنی طور پر طاقت ور ہوتے ہیں، بیرونی قوت ان پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ 
 

شیئر: