امی نے کہا ، خبر دار جو حکیم کیخلاف ایک لفظ بھی کہا

عنبرین فیض۔ینبع
والدہ صاحبہ کو موتئے کا آپریشن کروانے کے لئے قائل کرنا جوئے شیر لانا تھا۔ ہم نے انہیں دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اماں حکیم شکیم کا پیچھا چھوڑیں، دور بدل چکا ہے ، سائنس ترقی کر رہی ہے ۔ نئے نئے تجر بے اور نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں۔ حکیم تودقیانوسی ہیں۔ اچھا نہیں لگتا حکیموں کے پاس جانا، آخر لوگ کیا کہیں گے۔ موتیے کو بھی کوئی حکیم ٹھیک کر پایا ہے بھلا۔ ہم ڈاکٹر نہ سہی لیکن تھوڑا بہت علم تو رکھتے ہیں لیکن اماں جان نے فوراً کہا انگریزی تعلیم نے تم لوگوں کو برباد کر کے رکھ دیا ہے تم کیا جانوحکیم کیا ہوتے ہیں۔ خبردار جوکسی حکیم کےخلاف ایک لفظ منہ سے نکالا ، مجھے تو اسی حکیم جی کے پاس جانا ہے جنہوں نے کتنے لوگوں کو ایسا نسخہ دیا کہ کسی کو نہ موتیا رہا اور نہ ہی چشمے کی ضرورت رہی۔
  ہم نے نہ چاہتے ہوئے بھی حکیم صاحب کا پتہ معلوم کیا۔ اوقات کار معلوم کئے اور پھر کیا تھا دوسرے ہی دن جا پہنچے ان کے مطب پر ۔وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ مطب سے باہر فٹ پاتھ پر بیچارے مریضوں کی ایک لمبی قطار سر جھکائے کھڑی ہے ہر کوئی اپنی اپنی باری کا منتظر دکھائی دے رہا ہے۔ ایک منظر دیکھ کر تو میری روح تک کانپ اٹھی پتہ چلا کہ ایک صاحب مطب سے باہر آئے اور ایک ہی ہاتھ سے سب کی آنکھوں میں دوا ڈالتے چلے جا رہے ہیں۔ سب کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور سبھوں کی آنکھیں انگارے جیسی لال ہو رہی ہیں۔ یہ خوفناک منظر دیکھ کر ہم سے رہا نہ گیا۔ ہم نے فوراً والدہ صاحبہ سے کہا کہ اب بھی وقت ہے، اپنا فیصلہ تبدیل کرلیں۔ وہ بھی یہ منظر دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے پریشان ہو گئیں۔ کہنے لگیں اے ہے، میں تو نہیں ڈلواﺅں گی اس طرح کی دوا۔ چلو حکیم جی کے پاس میں خود ہی بات کروں گی ان سے ۔ 
ہم دونوں اندر چل کر بیٹھ گئے اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگے۔ جلد ہی نمبر آگیا ۔ حکیم صاحب نے ہم سے مخاطب ہو کر کہا کہ اچھا ہوا کہ آپ انہیں یہاں لے کر آگئیں ورنہ بہرصورت ان کا آپریشن ہو جاتا تو یہ موٹا چشمہ لگ جاتا اور پھر صورت بگڑ جاتی۔ یہ بڑے بڑے دیدے دکھائی دیتے عینک سے باہر۔ پھر والدہ سے مخاطب ہو کر بولے اگر آپ کو ہم سے علاج کرانا ہے تو چشمے کو یہیں چھوڑ کر جانا ہو گا اور یہ عہد کرنا ہو گا کہ آج کے بعد بھول کر بھی چشمہ نہیں استعمال کریں گی۔ شروع شروع میں آپ کو دقت تو ہو گی لیکن پھر رفتہ رفتہ موتیا کٹ کر صاف ہو جائے گا اور بینائی نوجوانوں سے بھی بہتر ہو جائے گی۔ سوئی میں دھاگا ڈالنے لگیں گی اور باریک سے باریک تحریر بھی پڑھنے کے قابل ہو جائیںگی لیکن اگر ہماری ہدایات پر عمل نہیں کیا یعنی علاج کے دوران چشمے کا استعمال کر لیا تو بینائی سے محروم ہو جائیں گی۔ اس کی ذمہ دار آپ خود ہوں گی۔ آپ کو ہماری شرائط منظور ہیں تو آپ علاج شروع کروا سکتی ہیں اور ہاں آنکھ میں دوا ڈلوانے کے لئے روزانہ آنا پڑے گا۔ والدہ نے کہا کہ میرا گھر کافی دور ہے میں روزانہ نہیں آسکتی۔پہلے تو حکیم صاحب انکار کرتے رہے کہ آپ کو آنا ہو گا مگر پھر خود ہی کہنے لگے کہ اگریہ دوا آپ خرید لیں تو گھرجا کر روزانہ استعمال کریں۔ ہم نے فوراًان کی ہاں میں ہاں ملائی اور ایک شیشی خریدلی۔ پھر حکیم صاحب ہم سے مخاطب ہوئے کہ آپ کوتو معلوم ہی ہو گا کہ موتیا کہاں ہوتا ہے۔ یہ دراصل نزلے کا پانی ہے جو مسلسل آنکھوں پر گرتا رہتا ہے اور موتیے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس دوا کا کمال یہ ہے کہ یہ نزلے کو جاری کرتی ہے جو آنکھوں اور ناک کے ذریعے بہہ کرنکل جاتا ہے۔
میں دیکھ ہی رہی تھی کہ حکیم صاحب اوروں کا چشمہ اتروانے میں اتنے ماہرہیں مگر خود اتنے موٹے موٹے شیشوں والی عینک لگائے بیٹھے ہیں جو اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ ان کی دونوں آنکھوں کا آپریشن ہو چکا ہے۔ ہم سے ایک گستاخی ہوئی کہ ان سے پوچھ بیٹھے کہ آپ یہ نسخہ استعمال کر لیتے تو کتنا اچھا ہوتا کہ اتنے موٹے موٹے شیشوں والی عینک نہیں لگانا پڑتی۔ وہ میری یہ بات سن کر چراغ پا ہو گئے اور کافی ناراضی کا اظہار کیا وہ تو والدہ صاحبہ ان کے تیور دیکھ کر فوراً بول پڑیں حکیم صاحب معاف کردیں علاج تو مجھے کرانا ہے۔یوں دوا کی شیشی لے کر والدہ صاحبہ خوشی خوشی گھر واپس لوٹیں ۔انہیں قوی امید تھی کہ اس دوا کے استعمال سے موتیا کٹ کر صاف ہو جائے گا اور پھر آپریشن سے نجات مل جائے گی۔ 
والدہ صاحبہ نے گھر آ کر جیسے ہی دوا ڈالی تو ایسا محسوس ہوا جیسے آنکھوں میں مرچیں بھر دی گئی ہوں۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ ناک بہنے لگی لیکن انہیں اس بات پر یقین تھا کہ موتیا جلد ہی کٹ کر نزلے کی شکل میں بہہ جائے گا۔ کوئی ایک مہینہ تک یہ دوا بڑی باقاعدگی سے ڈالتی رہیں۔ فائدہ نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ گھر میں سب ہی افراد پریشان تھے۔ پہلے تو خود ہی کام کرلیتی تھیں اب تو یہ عالم ہو گیا کہ ان کے لئے دو قدم بھی کسی سہارے کے بغیر چلنا محال ہو گیا۔ چشمہ اتارنے کے بعد ہر چیز دھندلی نظر آتی لیکن چشمہ لگانے کی اجازت نہ تھی۔ ہم نے والدہ صاحبہ کو لاکھ سمجھایا کہ حکیم کی دوا ڈالنا بند کردیں اور ڈاکٹر سے آنکھوں کا معائنہ کرواکر آپریشن کروالیں مگر وہ نہ مانیں۔ جب فائدہ نظر نہ آیا تو حکیم صاحب کی جعلسازی نظر آنے لگی۔ وہ کہنے لگیں ذرا اپنی خالہ کے گھر تو چلو دیکھیں ان کا کیا حال ہے۔ ان کے گھر جا کر معلوم ہوا کہ جس جس کا چشمہ حکیم صاحب نے اتروایا تھا ان سب کو اپنی آنکھوں کا آپریشن کروانا پڑا ۔سب ہی حکیم صاحب کی چالبازی سے بڑے نالاں تھے۔ جب ہماری والدہ صاحبہ پرحکیمی حقائق آشکار ہوئے تو کہنے لگیں کہ معلوم کرو، آنکھوں کے ماہرسرجن ، وطن واپس کب لوٹ رہے ہیں، آپریشن کی تاریخ تو لے لو اور پھر ہم نے فرمانبردار بچوں کی طرح کہا جی اچھا ،جیسی آپ کی مرضی ۔ ویسے اگر آپ پہلے میری بات مان لیتیں تو آپ کو اتنی تکلیف تو نہ ہوتی۔
 

شیئر: