پاکستانی عوام کے مسائل:کبھی غیروں کی یلغار، کبھی اپنوں کی دھتکار

عنبرین فیض احمد ۔ ینبع
وطن عزیز پاکستان بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوا۔ ہندو¶ں سے الگ ہونے کا مقصد یہی تھا کہ مسلمان اپنے وطن میں امن و سکون کی زندگی بسر کرسکیں لیکن آزادی کے بعد مفاد پرستوں نے اسے اپنے مفاد کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ عام شہریوں کا چین و سکون برباد کرکے رکھ دیا۔آج ملک کو آزاد ہوئے 70 سال بیت چکے ہیں لیکن پریشانیوں اور مسائل میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔عوام کو کبھی غیروں کی یلغار کاسامنا کرنا پڑتا ہے تو کبھی اپنوں کی دھتکارکا۔بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ بے حال کر دیتی ہے اورکبھی پانی کی قلت جینا محال کر دیتی ہے ۔ فصلوں کی تباہی، مختلف اقسام کی بے شمار بیماریاں، دہشت گردی ، اسٹریٹ کرائم ، کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور ایسے ہی انگنت خطرناک جرائم میں ملوث عناصر نے چاروں طرف سے عوام کو گھیر رکھا ہے ۔ امید کی کوئی کرن کہیںدکھائی نہیں دیتی ۔ 
گزشتہ 70 برسوں کا جائزہ لیاجائے تو اندازہ ہوگا کہ معاشرہ کہاںسے کہاں پہنچ چکا ہے۔ برائی اب بڑائی بن چکی ہے۔ چوری اور سینہ زوری کی عملی مثالیں چہار سو دکھائی دیتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جوغلط کام کرکے بھی نہ صرف سینہ تانے پھرتے ہیں بلکہ بعض تو اعلیٰ ترین اور ذمہ دار عہدوں پر بھی براجمان ہیں، خوشامدیوں کا ٹولہ ایسے لوگوں کے آگے پیچھے نظر آتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں اگر انصاف ہوتا تو ملک کا نقشہ کچھ اور ہوتا، پھر نہ کوٹہ سسٹم ہوتااور نہ کہیں سے تعصب کی بو آتی ۔ سفارش جیسے ناسور سے بھی عوام نابلد ہوتے پھر گڈ گورننس کے اشتہاروں کی ضرورت محسوس نہ ہوتی بلکہ حقیقی معنوںمیں ”گڈ گورننس“ سر چڑھ کر بولتی۔
افسوس کہ ہمارے کتنے ہی بااختیار صاحبان ایسے ہیں جنہوں نے ملک کو اپنی جاگیر سمجھے رکھا۔ اس نے عوام کو مسائل کی دلدل میں دھکیلااور اس کے وسائل پر ہاتھ صاف کرنے کی کوششیں کیں۔ اپنوں کو نوازنے میں مصروف رہے ۔اس اقرباءپروری نے اداروں کو تباہ کردیا ۔ خوشامد کو میرٹ کا درجہ دے دیاگیا۔ قومی خزانے کو خاندانی ملکیت سمجھ لیاگیا۔ اربوں ، کھربوں لوٹ کر اندرون و بیرون ملک جائدادوں کے پہاڑ کھڑے کردیئے۔ آج ہماری تنزلی کی اصل وجہ قانون پر عملدرآمد نہ ہونا ہے۔ دوسری وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہوتا ہے۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک بچے بڑے سب ہی تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ ہوجائیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ملک میں تین نظام تعلیم ہیں جو ہماری تباہی کی وجوہ میں شامل ہیں۔جب تک بارہویں جماعت تک یکساں تعلیمی نظام رائج نہیں ہوجاتا اس وقت تک بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی۔ 
دھنک کے صفحہ پر دو تصاویر شائع کی گئی ہیں پہلی تصویر اسلام آباد کی ہے جہاں ایک موٹر سائیکل سوار اپنی اہلیہ کے ساتھ لکڑیاں لئے جارہا ہے تاکہ وہ اپنے گھر کا چولہا جلا سکے ۔دوسری تصویر شہر لاہور کی ہے جہاں پینے کا صاف پانی لوگوں کو میسر نہیں چنانچہ ایک خاندان کے افرادگھڑوں میں پینے کا پانی بھر کر لے جارہا ہے۔ ایسی تصاویر دیکھ کر محسو س یوں ہوتا ہے کہ ہمیں ترقی کی بجائے پتھروں کے دور کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔
یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ کسی بھی قوم کوکوئی طاقت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکتی جب تک کہ اس قوم کے افراد خود ہی ہتھیار نہ ڈال دیں اور شکست تسلیم نہ کر لیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قوموں کی تاریخ میں مشکل دور آتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھ دھرے،بے بسی کی تصویر بن کر بیٹھ جائیں۔ ہر مسئلے کا حل موجودہوتا ہے لیکن اسے تلاش کرنے کیلئے سب کو مل کر کوشش کی جانی چاہئے۔ 
بجلی کی لوڈ شیڈنگ، پانی کی قلت، مہنگائی کا طوفان، گیس کا بحران ، کرپشن اور اسی قسم کے دیگر مسائل عوام کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ملک پر قابض غیر مرئی طاقتوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں۔ لوگوں کو لاحق پریشانیوں کے تدارک کیلئے ریاست کو آگے بڑھنا چاہئے۔ عوام کو بنیادی ضرورتوں کی فراہم اس کی ذمہ داری ہے۔ لوگ پینے کے صاف پانی کیلئے میلوں کا سفر نہ کریں، شہر اور شہر کے باہر مارے مارے نہ پھریں۔ گھر کا چولھا جلانے کیلئے گیس اور دیگر ذرائع اتنے مہنگے نہ کردیئے جائیں کہ لکڑیوں کی تلاش میں جنگلوں میں مارے مارے پھرنا پڑے کہ انہیں گھر لاکرچولھے میں جھونک کر اپنے اوربچوں کیلئے ایک وقت کی روٹی تیار کی جا سکے۔ ہر آنے والی حکومت نے مسائل کم کرنے کی بجائے ان میں اضافہ ہی کیا ہے ۔ ایک مسئلہ ابھی ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا اورتیسرا سر اٹھا لیتا ہے۔
مذکورہ صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم میں اتحاد و یکجہتی پیدا کی جائے۔ ایسے لوگ منتخب کئے جائیں جو ملک و قوم کیلئے مخلص ہوں۔ اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی تجوریاں بھرنے کی بجائے غریب عوام کے بارے میں کچھ سوچیں ۔ وعدوں اور دعووں کی بجائے عملی طور پر کچھ کرنے کے قابل ہوں۔ دیکھنے میں آرہا ہے کہ بھانت بھانت کے لوگ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ وہی پرانے لوگ پارٹیاں بدل کر پھر سامنے آرہے ہیں۔ حلوے مانڈہ بانٹے جارہے ہیں ۔غریبوں کے دروازوں کے چکر لگ رہے ہیں لیکن یہ سب ڈرامہ ہے جو صرف انتخابات کے لئے رچایاجا رہا ہے ۔ہر پارٹی کے ذہن میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ کسی بھی طرح الیکشن جیت لیا جائے، اس کے بعد 5 سال تک ملک اور قوم دونوں پر راج ہوگا۔ مسائل اور پریشانیاں تو آزادی کے وقت سے چلی آرہی ہیں ، قوم ان کی عادی ہے۔ اصل مسئلہ تو اپنا فائدہ اور مفاد ہے۔ سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں کی اکثریت اسی ایک منشور پر کاربند ہے۔ عوام بے چارے کس کھیت کی مولی ہیں اورکس گنتی میں ہیں؟
 

شیئر: