Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خلقِ خدا قابلِ محبت ہے ، نفرت کے لائق نہیں

یہ زمین تنہا ہماری نہیں بلکہ یہ سارے انسانوں کی ہے اوراس پر بسنے والی ساری مخلوق کو جینے کا حق ہے
* * * *مولانا نثار احمدحصیر قاسمی ۔ حیدرآباد دکن* * *
اللہ تعالیٰ نے اس کو کب ِ ارضی کے بارے میں فرمایاہے کہ اس کے اندر ہم نے اپنی مخلوق کے لئے بالخصوص انسانوں کے لئے بے شمار نعمتیں رکھدی ہیں تاکہ انہیں خوش اسلوبی کے ساتھ زندگی گزارنے میں دشواری نہ ہو اوروہ پرسکون طور پر ان نعمتوں سے مستفید ہوتے ہوئے اس دنیوی زندگی کو گزاریں اوراللہ کی ان نعمتوں کا شکر بجالائیں جس کا تقاضا ہے کہ وہ منعم حقیقی کی عبادت وبندگی کریں اوراس کے احکام کی پیروی کریں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    ’’اوراسی نے مخلوق کیلئے زمین بچھادی، جس میں میوے ہیں اورخوشے والے کھجور کے درخت ہیںاوربھس والا اناج ہے اورخوشبودار پھول (یاتلسی) ہیں، تو (اے انسانواورجنو! ) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کوجھٹلائوگے۔‘‘ (رحمن 13-10)
    اس آیت کے اندر جنت کی نعمتوں اوراس کے اوصاف کا تذکرہ نہیں جس جنت کا پرہیز گاروں سے وعدہ کیاگیاہے، بلکہ اس زمین کی نعمتوں اوراس کے اوصاف کا تذکرہ ہے تاکہ ہم اسے آباد کریں اوراس کی شادابی ورونق میں اضافہ کرنے کی کوشش کریں۔ہماری یہ زمین گنہگاروں کے گناہوں، نافرمانوں کی نافرمانیوں، خطاکاروں کی خطائوں اورشیطانوں کی موجودگی کی وجہ سے ملعون ومبغوض نہیں بلکہ یہ پوری زمین ہمارے لئے مقدس وقابل احترام ہے،خاص طور پر وہ مقامات جنہیں اللہ تعالیٰ نے عبادت وبندگی کیلئے بطور خاص منتخب کیا اوراسے مقدس بنایاہے، اللہ کے نبی نے فرمایاہے:
    جعلت لی الارض کلہا مسجدا وطہورا۔
    ’’ہمارے لئے اس پوری زمین کو سجدہ گاہ یعنی نماز پڑھنے کے قابل اورپاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنایاہے۔‘‘
    روایتوں میں آیاہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اس زمین پر اترکر آباد ہونے کے بعد سے موت تک کبھی ایک بھی درخت کو نہیں کاٹا اورنہ دانستہ ان درختوں کو نقصان پہنچایامگر آج ہم بڑی بے دردی وبے باکی کے ساتھ ہرے بھرے درختوں کو کاٹ دیتے، سبزہ زاروں وشادابیوں کا خاتمہ کردیتے اوراس کے نیچرل خوبصورتیوں اورحسن وجمال پر بلڈوزر چلاکر اس کرۂ ارضی کو کارخانوں، ورکشاپوں اورصحراؤں میں تبدیل کردیتے ہیں اوراس کی بربادی وضیاع پر ہمیں ذرہ برابر افسوس نہیں ہوتا بلکہ اسے تہس نہس کرکے اوروقتی وعارضی منفعت اس سے حاصل کرکے خوش ہوتے ہیں
    مکہ مکرمہ میں درختوں کا کاٹنا، پودوں کو اکھاڑنا یہاں تک کہ گھاسوں کو کاٹنا اورچرند وپرند کسی کا بھی شکار کرنا حرام ہے اور اس کی حرمت نص قطعی سے ثابت ہے۔اللہ کی اتاری ہوئی وحی میں اس کی صراحت موجود ہے۔اللہ تعالیٰ نے خانۂ کعبہ کو لوگوں کے قائم رہنے کا سبب اوران کے وجود وبقاء کا ضامن بنایاہے۔اس سے اشارہ ملتاہے کہ کعبۃ اللہ اورمسجد حرام کے علاوہ دیگر مقامات پر اس کی اجازت انسانی ضرورت وحاجت کی وجہ سے ہے اس لئے جہاں حاجت اورضرورت ہو وہیں اسے کاٹا اورشکار کیاجائے۔ بلا ضرورت ایسا نہ کیاجائے بلاوجہ درختوں کو کاٹنا، چرندوپرند کا شکار کرنا اورغذا کے طور پر نہیں بلکہ محض تفریح طبع کے لئے جانداروں کو قتل کرنا مذموم وناپسندیدہ ہے جسے اللہ پسند نہیں کرتا۔
    آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک اس کرۂ ارضی پر کتنے لوگ بسے، زندگی گزاری، چلے پھرے اورگزر گئے، اس کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اللہ ہی علم رکھنے والا ہے کہ کتنے لوگ آئے اورکچھ عرصہ گزار کر پیوند خاک ہوگئے۔کہاجاتاہے کہ ان کی تعداد 100ملین انسانوں سے زیادہ ہے۔اس کا بھی کسی کو علم نہیں کہ آئندہ کتنے لوگ اس دنیا میں آئیں گے اوراس زمین کے وارث بنیں گے اوراس کی بربادی تک کتنی نسلیں گزریں گی اوران کی حالت کیا ہوگی اوران کی زندگی کے نشیب وفراز کیا ہوںگے مگر یہ بات طے ہے کہ اس کو کبِ ارضی کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہمارے لئے بنایاہے، ہم سے پہلے والوں کیلئے بھی بنایاہے اورہمارے بعد آنے والوں کیلئے بھی بنایاہے۔ یہ صرف ہماری ملکیت نہیں اورنہ ہی ہم اس کے مالک مختار ہیں، ہم تو ایک محدود وقت کیلئے اس پر آئے ہیں اورپھر گزرجائیں گے اورپھر دوسرے آئیں گے اوراس سے مستفید ہوںگے اوریہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس لئے ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ ہم اس کے اندر بگاڑ پیدا کریں، اس کے فطری نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں، خیر وبرکت اوراندرونی خزانے سے اسے خالی کردیں یاموسموں کی تبدیلی درجۂ  حرارت میں اضافہ اورماحولیات کی آلودگی کا سبب بنیں۔
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    ’’ خشکی اورتری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد وبگاڑ پھیل گیا، اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھادے، بہت ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں۔‘‘ (الروم 41)۔
    مفسرین نے آیت میں موجود فساد وبگاڑ کی تفسیر بارش کی قلت، مہنگائی اورجنگ وجدال وقتل وغارت گری کی کثرت سے کی ہے جس کا آج ہم مشاہدہ کررہے ہیں۔ اسی فساد وبگاڑ میں سے وہ تفاوت بھی ہے جو اولاد آدم میں وجود کے اندر باہم شریک لوگوں کے اندر پایاجاتاہے اورایک خطہ کے لوگ دوسرے خطہ کے قدرتی وسائل اورزیرزمین ثروتوں پر قبضہ کرکے مالدار بنتے ہیں، دوسرے خطہ کے اموال پر قبضہ کرکے اسے غربت کے دلدل میں پھنسا کر خود مالدار وسرمایہ دار بن رہاہے، اس مقصد کیلئے وہ خون خرابہ کرتے، قتل وغارتگری کا بازار گرم کرتے، آبادیوں کو ویرانوں میں تبدیل کرتے، تخریب کاری کا سہارا لیتے اورآبادکاری کے نام پر آبادیوں کواجاڑتے اور ویرانوں میں تبدیل کرتے ہیں۔
    ہم اپنے ملک کے کسی بھی بڑے شہر پر جب نگاہ ڈالتے ہیں توایک ہی شہر کے اندر بعض محلے تو بڑے ترقی یافتہ نظر آتے ہیں، اونچی اونچی عمارتیں کھڑی ہوتیں اورہرطرح کی سہولیات وہاں میسر ہوتی ہیں جبکہ دوسرے محلے غربت وافلاس کی بولتی تصویر ہوتی ہیں، غیرمرتب چھوٹے چھوٹے مکانات وجھونپڑیاں ہوتی ہیں، کوئی ٹین شیڈ ہوتی ہیں تو کوئی لکڑیوں وٹٹیوں کے گھیرے، چھوٹے چھوٹے کمرے ہوتے ہیں اورگلیاں تنگ ہوتی ہیں، انہیں نظر انداز کرکے چھوڑ دیاگیاہے، جہاں جرائم کے دواعی موجود ہوتے ہیں، فقر وافلاس کی وجہ سے ان پر مایوسی طاری ہوتی ہے، ان کی نہ عزت واحترام ہے نہ کوئی قدر وقیمت، ا نہیں صرف الیکشن کے وقت یاد کیاجاتا، پھر فراموش کردیا جاتاہے۔ ان کیلئے نہ تعلیم ہے نہ صحت نہ کھیل کودکے میدان ہیں نہ ترقی کے مواقع، مگر ان کی ان بدحالیوں کے باوجود بسااوقات ان میں بڑے بڑے لوگ پیدا ہوجاتے ہیں جو پوری قوم کی حالت بدل دیتے ہیں ان میں جینے کا سلیقہ پیدا کردیتے اوراونچی پرواز کی روح پھونک دیتے ہیں۔    یہ زمین تنہا ہماری نہیں بلکہ یہ سارے انسانوں کی ہے اوراس پر بسنے والی ساری مخلوق کو جینے کا حق ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کے اس زمین پر اترنے اوریہاں بسنے سے پہلے یہاں چرند وپرند اورڈائناصور جیسے جانور آباد تھے۔آدم علیہ السلام ان سے، ان کے ناموں سے، ان کی خصوصیات سے واقف تھے اوراللہ کی ہدایت کے مطابق انہوں نے ان کے ساتھ مناسب سلوک کیا۔ وہ واقف تھے کہ ان جانداروں کو اذیت دینا، انہیں نشانہ بنانا، انہیں آپس میں لڑانا اورایک کو دوسرے پر حملہ آور ہونے کیلئے تیار کرنا حرام ہے۔ بلاضرورت ان کے وجود کو ختم کرنا ممنوع ہے ۔روایتوں میں آتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء پر اس لئے عتاب کیا تھا کہ انہوں نے بلاوجہ چیونٹی کو مار دیاتھا۔خود اللہ کے نبی نے فرمایاہے کہ ایک بدکار شخص محض اس وجہ سے جنت میں داخل کردیاجائیگا کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلایااورایک کو اس وجہ سے جہنم میں ڈال دیاجائے گا کہ اس نے ایک بلی کو محبوس رکھا یہاں تک کہ وہ بھوکی پیاسی تڑپ تڑپ کر مرگئی۔
    اس کرۂ ارضی اوراس پر آباد مخلوق سے ہمیں اسی طرح محبت ہونی چاہئے جس طرح ہم اپنے گھر، اس کی درودیوار اوراس کے چپہ چپہ سے محبت کرتے ہیں اورجس طرح ہم اپنے گھر کو نقصان پہنچانے سے پرہیز کرتے اسی طرح ہمیں اس کرۂ ارضی کے مخلوق کو نقصان پہنچانے سے پرہیز کرناچاہئے۔
     اللہ کے نبی کو سرزمین مکہ سے بھی محبت تھی اورسرزمین مدینہ سے بھی اورساری دنیا کی مخلوق سے ۔آپ انسانوں سے بھی محبت کرتے تھے اورجانوروں سے بھی، یہاں تک کہ شجروحجر سے بھی۔ آپ نے جبل احد کے بارے میں فرمایا:
    ہذا احد یحبنا ونحبہ ۔
    ’’ یہ احد ہے جو ہم سے محبت کرتاہے اورہم اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘
    حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کا بوسہ دیتے ہوئے اسے مخاطب کیا اورفرمایا:
    ’’میں جانتاہوں کہ تو ایک پتھر ہے، تو نہ نفع پہنچاسکتا نہ نقصان، اوراگر میں نے اللہ کے نبی کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھے ہوتا تو میں تیرا بوسہ نہ لیتا۔‘‘
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ والوں میں سے اہل ایمان کیلئے دعاء کی کہ انہیں پھلوں کا رزق عطاء فرمائیں تو اللہ تعالیٰ نے آپؑ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دنیا میں یہ رزق ہم انہیں بھی دیں گے جو صاحب ایمان ہیں اوراسے بھی جو بے ایمان ہیں۔
     کسی بزرگ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے خالص غیر مسلموں کے ملک میں جاکر وہاں بارش کی دعاء کیونکہ وہاں بارش نہیں ہورہی تھی جس کی وجہ سے قحط کا خدشہ تھا اورماحولیات کے مسائل پیدا ہورہے تھے، تودوسرے مسلمانوں نے انہیں ٹوکا کہ آپ غیر مسلم قوم کیلئے کیوں دعاء فرمارہے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا :یہ اللہ کا اپنے تمام بندوں کے لئے ہے خواہ وہ نیک وصالح ہو یافاسق وفاجر۔
    اس لئے مسلمان جہاں کہیں بھی ہو، مشرق میں ہو یامغرب میں، آبادی میں ہویاصحراء، جنگل میں ہویابستی میں، خشکی میں ہو یاتری میں، اس کا تصور یہی ہونا چاہئے کہ وہ اپنے ملک اپنے شہر اوراپنے گھر میں ہے، ہمارے اردگرد مسلمان ہوں یاغیرمسلم ہر ایک کے ساتھ ہمیں میل ملاپ کے ساتھ رہنا چاہئے، ان سے تعلقات استوار رکھنا چاہئے، اپنے اخلاق وکردار سے انہیں خوش کرنا چاہئے۔ ہمارا معاملہ ان کے ساتھ اپنے عزیزوں وقریبوں جیسا ہونا چاہئے، ان کے ساتھ ہمارا معاملہ اورسلوک برادرانہ اورصاف وستھرا ہوناچاہئے۔ ہم ان سے خندہ پیشانی سے ملیں، میٹھی وبھلی باتیں ان سے کریں ،جہاں تک ہوسکے ہم ان سے مل جل کررہیں، ان کے ساتھ بھلائی کریں، اوراحسان کا بدلہ بھی احسان ہی سے نہیں بلکہ برائی کا بدلہ احسان سے دیں، جس کی رہنمائی ہمارے پیارے نبی نے کی اوراپنے عمل سے اس کی تعلیم دی ہے، اوران کی ہدایت کی دعاء کرتے رہیں۔
     اللہ کے نبی نے فرمایا ہے کہ تیرے ذریعہ اللہ اگر کسی ایک شخص کو بھی ہدایت دیدے تو یہ دنیا اوردنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے، اوراللہ تعالیٰ نے بھی فرمایاہے: کہ جس نے کسی جان کو حیات بخشا وہ ایسا ہے جیسے اس نے سارے انسانوں کو حیات بخشاہو۔
    مسلمانوں کو اپنے سلوک وکردار سے داعی بننا چاہئے۔دوسروں کیلئے نافع اورحیات بخش بننا چاہئے۔ دوسرے ہزار برا چاہیں ہمیں اپنی انسانیت نوازی والی روش ترک نہیں کرنی چاہئے۔ہم نہ صرف انسانوں سے محبت کرنے والے ہوں بلکہ ساری مخلوق سے محبت کرنے والے بنیں۔محبت ہی ایسا ہتھیار ہے جو فتح وکامرانی دلاتی ہے۔ہم اپنے وطن سے بھی محبت کریں اوراہل وطن سے بھی اور اس وطن کی دوسری چیزوں سے بھی۔
مزید پڑھیں:- - - -رشک و حسد ، فرق معمولی ، اثرات بھیانک

شیئر:

متعلقہ خبریں