مسلمان کو کندن بنانے والا عمل ، حج

یہی وہ عظیم الشان اجتماع ہے جس کو دیکھ کر بڑے مستشرقین بھی پکار اٹھے کہ رنگ و نسل کے امتیاز کا  علاج صرف اسلام کے پاس ہے
* * * *  محمد کبیر بٹ۔ریاض* *  *
حج اسلام کا پانچواں اہم ترین رکن ہے جس کی فرضیت کا حکم قرآن حکیم میں موجود ہے:
    اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کے گھر کی طرف آنے کی استطاعت رکھتے ہوں حج فرض کر دیا ہے اور  جو کفر کرے تو اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔(آل عمران 97 )
    حج کی فرضیت کا منکر اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور جو صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرے جبکہ اسے کوئی شرعی عذر بھی نہ ہو تو اس طرز عمل کو بھی کفر قرار دیا گیا ہے۔سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ جو شحص  حج پر قادر ہو پھر بھی وہ حج نہ کرے تو اس کیلئے برابر ہے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔سیدنا عمر ؓ  فرماتے ہیں:
     میں نے ارادہ کیا کہ اپنے لوگوں کو شہروں میں بھیجوں تاکہ وہ اس کی تحقیق کریں کہ جن لوگوں پر حج فرض ہے اور وہ استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتے وہ ان پر جزیہ مقرر کر دیں ۔ایسے لوگ مسلمان نہیں ،ایسے لوگ مسلمان نہیں۔
    نبی کریم ﷺنے فرمایا:
    اے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے لہذا تم حج کرو۔
    ایک شخص نے عرض کیا :اے اللہ کے رسولﷺکیا ہرسال حج کریں؟  آپﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ اُس نے 3 مرتبہ اپناسوال دہرایا۔تب آپﷺ نے فرمایا:اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج فرض ہو جاتا  تو تم اس حکم کی اطاعت نہ کر سکتے تھے  (یعنی تم اس کی طاقت نہ  رکھتے تھے   )۔(مسلم)
    اس سے ثابت ہوا کہ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک دفعہ حج فرض ہے۔
    حج اپنی نوعیت کی ایک منفرد عبادت ہے جس نے عبادات کی تمام اقسام کو  اپنے اندر سمو لیا ہے ۔اس کی ابتدا ہجرت یعنی گھر بار چھوڑنے سے ہوتی ہے جس میں نیت اللہ کی رضا ہو تو یہ مقدس ترین عبادت ہے۔احرام کی حالت رہبانیت،زہد اور ترکِ دنیا کی علامت بھی ہے اور آخرت کی یاد بھی دل و دماغ میں نقش ہو جاتی ہے۔حج میں نماز روزہ بھی ہے،ذکر اور دعا تو حج کی اہم عبادات ہیں۔اس میں سیاحت بھی ہے جس کا حکم قرآن میں’’سِیْرُو فِی الاْرْض‘‘کی صورت میں دیا گیا ہے۔طواف اور سعی اللہ کی راہ میں جدوجہد یعنی عملی جہاد کی مشق ہے،قربانی جیسی مقدس ترین عبادت بھی حج میں شامل ہے۔رمی جمرات  شیطان سے عمل، بر أت بھی ہے اور اس مقدس سفر کے دوران سفر کی تکالیف دھکم پیل،کبھی بیماری وغیرہ  اور دوسروں کی ناگوار باتیں سننا، بھوک پیاس برداشت کرنا،اس طرح یہ مقدس سفر بہترین  اخلاقی صفات پیدا کرنے کی ایک عملی مشق ہے۔
    اس لئے بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ زندگی میں تمام امکانی کوششوں کے باوجود گناہوں کا جو میل کچیل باقی رہ جاتا ہے حج کی ادائیگی اور بیت اللہ کی زیارت سے وہ بالکل دور ہو جاتا ہے اور اس عظیم عبادت سے وہ روحانی اور ایمانی  قوت حاصل ہوتی ہے جس کے ذریعے سے مسلمان ایک انقلابی جزبے کے ساتھ بندگیٔ رب کے تقاضوں کو پورا کرنے اور اعلائے کلمۃ اللہ کیلئے جدوجہدکرنے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیںلیکن بدقسمتی سے دیگر عبادات کی طرح حج جیسی عظیم الشان عبادت بھی آج بے اثر ہو کر رہ گئی ہے۔ حاجیوں کی زندگیوںمیں اس سے کوئی انقلاب برپا ہوتا ہے اور نہ ہی امت کے تنِ نیم مردہ میں اس کے ذریعے مومنانہ زندگی کی کوئی لہر پیدا ہوتی ہے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے اس کی منظر کشی یوں کی ہے     :
رگوں میں خوں باقی نہیں ہے،وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے
                       نماز و روزہ  و حج و  قربانی  یہ سب باقی ہیں  تو  باقی نہیں ہے
    سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:
    عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے جب مال دار لوگ حج کیلئے جائیں گے مگر حج کی نیت کے بجائے تفریح کیلئے،درمیانے طبقے کے لوگ تجارت اور خریداری کیلئے حج کریں گے،علما اور پیشوا ریا کاری کیلئے جائیں گے اور غریب مانگنے کیلئے۔
    سیدنا عبداللہ  بن مسعودؓ  کا بیان ہے :
    آہستہ آہستہ آخری زمانہ آئے گااللہ کے گھر کا طواف کرنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی،سفر آسان ہو جائے گا،لوگوں کو روزی میں کشادگی مل جائے گی،  وہ حج کر کے آئیں گے مگر محروم کے محروم ہی رہیں گے اور پہلے سے زیادہ بد اعمال بن جائیں گے۔
    فضائل ِ حج:
    نبیﷺ سے سوال کیا گیا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے؟آپﷺ نے فرمایا:اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان   لانا۔ پوچھا گیا اس کے بعد؟ آپﷺ نے فرمایا:جہاد فی سبیل اللہ۔پوچھا گیا اس کے بعد کونسا عمل؟آپﷺ نے فرمایا:حجِ مبرور ۔ (بخاری و مسلم)
    حجِ مبرور سے مراد  ایسا حج ہے جس میں ریاکاری ہو نہ شہوانی فعل اور لڑائی جھگڑا اور نہ ہی کوئی گناہ کا ارتکاب کیا ہو اور اس حج کے بعد بندہ اپنی اصلاح اور آخرت کی طرف راغب ہو جائے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    جو شخص حج کرتا ہے اور اس میں کوئی بدکاری اور شہوانی فعل نہیں کرتا وہ حج سے اس طرح واپس لوٹتا ہے جیسا کہ اس وقت تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔(بخاری و مسلم) ۔
    آپﷺ کا فرمان ہے:
    عمرہ ان گناہوں کا کفارہ ہے جو اس کے اور پچھلے عمرے کے درمیان کیے گئے اور حجِ مبرور کا ثواب تو جنت ہی ہے۔(بخاری و مسلم)نب
    یﷺ  کافرمان ہے:
    اسلام قبول کرنا،اللہ کی راہ میں ہجرت کرنا اور حج کرنا یہ 3 عمل پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتے ہیں۔ (مسلم)
    ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ  ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبیﷺسے عرض کیا :
    ہم لوگ جہاد کو سب سے افضل عمل سمجھتے ہیں تو کیا ہم عورتیں بھی جہاد کیا کریں؟۔آپﷺنے فرمایا:
    تمہارے لئے سب سے افضل جہاد حجِ مبرور ہے۔
    سیدہ عائشہ ؓ  فر ماتی ہیں: جب میںنے نبی ﷺ سے یہ بات سنی تو میں نے کبھی حج ترک نہیں کیا۔(بخاری و مسلم) ۔
    نا بالغ بچوں کو بھی حج کروایا جا سکتا ہے  اور والدین کو اس کا بھی اجر ملتا ہے۔فوت شدہ بزرگوں اور عزیزوں کیلئے بھی حج عمرہ کیا جا سکتا ہے جس کا ثواب مرُدوں کے علاوہ  خود کرنے والے کو بھی ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ  فرماتے ہیں:
    حج اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں،اگر وہ دعا کرتے ہیں توا للہ  ان کی دعا کو قبول فرماتا ہے اور وہ بخشش طلب کرتے ہیں تو اللہ ان کو بخش دیتا ہے۔(نسائی،ابنِ ماجہ)۔
    حضورﷺ  فرماتے ہیں:
    5دعائیں رد نہیں کی جاتیں:ایک حاجی کی دعا یہاں تک کے وہ واپس لوٹ آئے ،مجاہد کی دعا یہاں تک کہ و اپس لوٹ آئے،مظلوم کی دعا یہاں تک کہ اس کی فریاد رسی کر دی جائے،مریض کی دعا یہاں تک کہ وہ شفا یاب ہو جائے اور اپنے بھائی کیلئے اس کی عدم موجودگی میں دعا۔
    دعا کی قبولیت کی مختلف صورتیں ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ’’ کبھی بندے کو وہ چیز دے دی جاتی ہے جو وہ مانگتا ہے کبھی اس کی دعا کے نتیجے میں اس کے سرسے کو ئی مصیبت ٹل جاتی ہے اور کبھی اسے کوئی اور نعمت عطا کر دی جاتی ہے، اگر ایسا نہ ہو تو اس دعا کا اجر اس کیلئے ذخیرہ کر دیا جاتا ہے جو اسے آخرت میں ملتا ہے ۔‘‘سبحان اللہ! اس کا مطلب یہ ہوا کہ مومن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی              یہی وجہ ہے کہ سیدنا عمرؓ  فرماتے ہیں’’ مجھے اس بات کی فکر نہیں رہتی کہ دعا قبول ہوتی ہے یا نہیں، مجھے صرف اس بات کی فکر رہتی ہے کہ میں نے دعا کی یا نہیں ۔‘‘  اس لئے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ دعا کی توفیق دیتا ہے اس کیلئے قبولیت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔نبیﷺ نے فرمایا’’جب تم  کسی حاجی سے ملو تو اسے سلام کرو،اس سے مصافحہ کرو ،اس سے دعا کی درخواست کرو اس سے پہلے کہ وہ گھر میں داخل ہو جائے اس لئے کہ وہ بخشا ہو ا ہے ۔‘‘(مسند احمد)۔
    حج عمرے میں مال خرچ کرنا بڑے اجر و ثواب کا با عث ہے۔حضورﷺ  کا فرمان ہے کہ’’  حج میں خرچ کرنا اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے،ایک درہم کا ثواب 700گنا ملتا ہے۔‘‘(امام احمد ،ابنِ ابی شیبہ)عبداللہ ابن ِمسعود  سے مروی  نبیﷺ  کا ارشاد ہے کہ’’حج اور عمرہ پے در پے کیا کرواس لئے کہ حج اور عمرہ دونوں فقر و  محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیںجس طرح لوہار اور سنار کی بھٹی لوہے اور سونے چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے،اور حجِ مبرور کا صلہ تو جنت ہی ہے۔‘‘(ترمذی، نسائی)۔
     حج کے اخروی فوائد کے علاوہ بہت سے دنیوی فوائد بھی ہیں۔یہ امتِ مسلمہ کا عظیم الشان سالانہ اجتماع ہے جس میں مشرق و مغرب شمال و جنوب سے عربی اور عجمی،کالے اور گورے،عوام اور لیڈر،بڑے اور چھوٹے ایک ہی لباس میں ملبوس سادگی اور عاجزی کی تصویر بنے ایک ہی رب کو پکارتے اور اس سے التجائیں کرتے نظر آتے ہیں۔
       ایام حج میں مسجد الحرام سے منیٰ ،مزدلفہ اور عرفات تک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے انسانی سمندر کے مد وجزر کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔یہی وہ عظیم الشان اجتماع ہے جس کو دیکھ کر بڑے بڑے مستشرقین بھی پکار اٹھتے ہیں کہ رنگ و نسل کے امتیاز کا صحیح علاج صرف اسلام کے پاس ہے۔اسلام رنگ و نسل ،قوم و وطن،زبان و خاندان کی بنیاد پر کسی اونچ نیچ کو پسند نہیں کرتابلکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ: کُلکُم بنو آدم وَ آدمَ مِن تُراب ’’تم سب آدم ؑ کی اولاد ہواور آد م  ؑ مٹی سے پیدا کیے گئے۔ ‘ ‘یہ احسن الخالقین کی صناعی کی عظمت  کا ثبوت ہے کہ مٹی کا ہر رنگ انسانوں میں پایا جاتا ہے۔اس عظیم اجتماع سے امتِ مسلمہ بہت سے سیاسی فوائد بھی حاصل کر سکتی ہی لیکن بدقسمتی سے جس طرح ہم روحانی اور اخلاقی فوائد سے محروم رہتے ہیں اسی طرح امت کے رہنما اور لیڈر اپنی نا اہلی کی وجہ سے امت کی بہتری کیلئے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر پاتے۔
    مسلمانوں کے عوام و خواص سب کو یہ سوچنا چاہیے کہ اسلام نے کالے اور گورے،عربی اور عجمی کو ایک لڑی میں پرو کر جو ہار بنایا تھا آج وہ بکھر کر دانہ دانہ کیوں ہو گیا ہے؟5 وقت کی نماز ہر محلے اور بستی کے مسلمانوں کو24گھنٹے میں 5 مرتبہ اس بات کی عملی تربیت کاذریعہ ہے کہ تم ایک امت، ایک جماعت اور ایک گروہ ہو۔جمعہ کا اجتماع اس سے ذرا بڑے پیمانے پرمسلمانوں کیلئے اتفاق و اتحاد کی مشق کا  ذریعہ ہے۔ہر سال رمضان المبارک کا  پورا مہینہ پوری دنیا کے مسلمان اس عظیم عبادت کے ذریعے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں،پھر حج کا عالمی اجتماع رہی سہی کمی کو پورا کر دیتا ہے لیکن صد افسوس کہ اس قدر زبردست تربیتی مشق کے باوجود !
صفیں کج دل پریشاں سجدہ بے ذوق
کہ جزبِ اندروں باقی نہیں ہے
    علامہ اقبال کتنے خوبصورت انداز میں مسلمانوں کو یکجہتی کا درس دیتے ہیں  :
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہے سب کا نبیؐ، دین بھی ،ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی،اللہ بھی ،قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلماں بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
قلب میں سوز نہیں ،روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمدؐ کاتمہیں پاس نہیں
    اللہ تمام مسلمانوں کو  اسلامی عبادات کے مقصدِ حقیقی کو سمجھنے اور ان عبادات کی روح تک رسائی حاصل کرنے کی توفیق دے،آمین۔

شیئر: