#سلیکشن_2018_مسترد‎

عمران خان کی جانب سے این اے 131 میں دوبارہ گنتی کروانے کے فیصلے کو چیلنج کرنے پر نون لیگ اور اتحادی جماعتوں کے کارکنان ٹویٹر پر بھی تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں اور تحریک انصاف کے جیت کو دھاندلی شدہ الیکشن کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
ذیشان ملک نے کہا : عوامی رائے پر ڈاکہ ڈال کر چند منٹ پسند افراد کو جتوائے جانے کے لیے الیکشن کے نام پر رچائے ہوئے ڈرامے کو عوام مسترد کرتی ہے ۔ ووٹ کی توہین قابل قبول نہیں۔
حمزہ رضوان نے ٹویٹ کیا : اس الیکشن کے بعد تمام اداروں نے اپنا وقار کھو دیا ہے۔ یہ بہت شرمناک اور بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان کے لوگوں کو اپنا لیڈر چننے کا حق بھی حاصل نہیں۔
انیحہ انم چوہدری نے کہا : چیف الیکشن کمشنر اور سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی اس الیکشن میں دھاندلی ٹیم کا حصہ ہیں۔
فہد علی بٹ کا کہنا ہے : عمران خان کا این اے 131 میں دوبارہ گنتی کروانے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے سے ان کی تقریر میں کیے گئے تمام دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ یو ٹرن اسپیشلسٹ کی طرف سے یہ کوئی سرپرائز نہیں ہے۔
بلال رضوان نے کہا کہ یہ الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن ہے۔
آفاق احمد نے مطالبہ کیا : عوام کی رائے کا احترام کیا جائے۔ عوامی مینڈیٹ کے چرائے جانے پر الیکشن کمیشن مستعفی ہو اور ناکام انتخابات پر قوم سے معافی مانگے اور ملوث قوتوں کو بے نقاب کرے۔
ایان زین نے سوال کیا : جو لوگ 2018 کے الیکشن کو مسترد کررہے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ 2013 کے وقت کہاں تھے ؟ اس وقت تو آپ الیکشن کو صاف شفاف کہہ رہے تھے۔کیا اس وقت الیکشن کمیشن موجودہ الیکشن کمیشن سے مختلف تھا؟

شیئر:

متعلقہ خبریں