ہمارے اسلاف ، ایام حج میں

رک جاؤ! یہ وہ مقام ہے جہاں بادشاہ اور عام آدمی میں کوئی فرق نہیں ہوتا،یہاں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں
 
* * * *قاری محمد اقبال عبد العزیز۔ ریاض* * *
    مشہور اموری خلیفہ سلیمان بن عبد الملک حج کر رہاتھا۔ اس نے اپنے دربان کو بھیجا کہ جاؤ کسی معروف عالم کو بلا کر لاؤ، میں ان سے حج کے بعض مسائل پوچھنا چاہتاہوں۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ طاؤس بن کیسان یمانی وہاں سے گزرے۔ کہنے لگے: یہ طاؤس ہیں ۔ بہت بڑے عالم ہیں، ان سے پوچھ لیجیے۔دربان نے انہیں پکڑ لیا اورکہا: امیر المؤمنین آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہا: مجھے اس سے معاف ہی رکھیں۔ اس نے کہا: نہیں آپ کو لازما جانا پڑے گا۔ یہ ان کے ساتھ ہو لئے اور جب خلیفہ کے پاس پہنچے تو اس کے اگلا قصہ ہم طاؤس ہی کی زبان سے سنتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
    جب میں خلیفہ کے سامنے پہنچا تومیں نے کہا: اس مجلس کے بارے میں کل اللہ تعالی روز قیامت مجھ سے سوال کرے گا۔میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! جہنم کے اندر ایک گہرا کنواں ہے ۔ایک پتھر جواس کے کنارے پر تھاوہ اس کنویں میں گرااور70 برس تک ا س میں اترتا چلا گیا حتی کہ وہ اپنی ٹھہرنے کی جگہ پہنچ گیا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جہنم کا وہ حصہ کس کے لیے تیارکر رکھا ہے۔ خلیفہ نے کہا: مجھے تومعلوم نہیں۔ کیا تم بتاؤ گے کہ اسے کن لوگوں کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ طاؤس کہنے لگے: ہاں میں بتاتا ہوں۔ یہ جہنم ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں اللہ نے حکومت عطا فرمائی اور پھر انہوںنے لوگوں کے ساتھ ظلم وزیادتی سے کام لیا۔اس نصیحت کا خلیفہ کے دل پر گہرا اثر ہو ا اوروہ رونے لگا۔( حلیۃ الأولیاء)
    وہ بچپن ہی سے سعادت مند تھے:
    سیدنا عمر بن عبد العزیز ؒکے آزاد کردہ غلام ثروان کہتے ہیں:
    عمر بن عبد العزیز جب بچے تھے تو ایک بار گھوڑوں کے اصطبل میں داخل ہوئے۔جیسے ہی وہ داخل ہوئے ایک گھوڑے نے انہیں لات ماری اور زخمی کر دیا۔ان کے والد عبد العزیز بن مروان نے ان کاخون صاف کیا اورکہا: اگر تم بنو امیہ کے’’ اشج‘‘ ہو تو پھر تم بہت خوش قسمت ہو۔
    عمر بن عبد العزیز بچے تھے تو ایک باربظاہر بلا سبب ہی رو پڑے۔ ان کی والدہ نے بیٹے کو تسلی دیتے ہوئے کہا: بیٹے ! کیوں رو رہے ہو؟ کہنے لگے: امی جان! مجھے موت یاد آگئی تو میں رونے لگا۔ سعادت مند بیٹے کی یہ بات سن کر والدہ بھی روپڑیں۔
    عمر چھوٹے ہی تھے جب انہوں نے قرآن کریم حفظ کر لیاتھا۔ والد گرامی نے صالح بن کیسان کو ان کا استا ذ مقرر کیا اور مدینہ طیبہ میں ان کے پاس بچے کو چھوڑدیا تھا۔ایک بار جب والد صاحب حج کو جا رہے تھے ،وہ مدینہ طیبہ سے گزرے اور استاذ گرامی قدر سے پوچھا: سنائیے! میرے بچے کا کیا حال ہے؟ انہوں نے فرمایا: مجھے کسی طالب علم کے بارے میں نہیں بتایا گیا کہ اللہ کا نام اس کے دل میں اس قدر راسخ ہے جس طرح اس بچے کے دل میں ہے۔
    ایک دن عمر بن عبد العزیز نے نوجوانی کے ایام میں نماز با جماعت سے غفلت کی۔ استاذ محترم صالح بن کیسان نے سبب دریافت کیا تو کہنے لگے: خادمہ میرے بال سنوار رہی تھی۔استاذ نے کہا: کیا تم نے نماز پر بالوں کی کنگھی کو ترجیح دی؟ اور ساتھ ہی ان کے والد کو لکھ بھیجا۔ والد نے زبان سے تو کچھ نہ کہا البتہ اپنے فرزند کی عملی تربیت کا ارادہ کرلیا۔ انہوں نے ایک آدمی بیٹے کی طرف بھیجا، جس نے کوئی بات ان سے نہیں کی۔ بس خاموشی سے ان کے سر کے تمام بال مونڈ دیئے۔(البدایۃ والنہایۃ)
    یہ وہ مقام ہے جہاں بادشاہ اور عام آدمی برابر ہیں:
    سلمہ بن کحیل کہتے ہیں:
    میں نے 3 آدمیوں کے سوا کوئی ایسا عالم نہیں دیکھا جو اللہ کی رضا کے لیے علم حاصل کرنے والا ہو: عطاء بن ابی رباح، طاؤس بن کیسان اور مجاہد بن جبر رحمہم اللہ۔یہ97 ہجری کا زمانہ ہے۔ بیت اللہ شریف لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔دنیا کے ہر کونے سے لوگ یہاں آئے ہوئے ہیں۔ ان میں پیدل بھی ہیں سوار بھی،بوڑھے بھی ہیں جوان بھی،ان میں مرد بھی ہیں خواتین بھی، سیاہ بھی ہیں سفید بھی، عربی بھی ہیں عجمی بھی،ان میں سردار بھی ہیں ان کے خدام بھی۔یہ سب کے سب لوگوں کے بادشاہ کی بارگاہ میں نظریں جھکائے ہوئے، لبیک پکارتے ہوئے ، اسی سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے اور اسی سے فریادیں کرتے ہوئے حاضر ہوئے ہیں۔
    مسلمانوں کا خلیفہ اوردنیا کے بادشاہوں میں سب سے بڑا حکمران سلیمان بن عبد الملک بھی بارگاہ رب العالمین میں حاضر ہے۔ وہ بیت اللہ کا طواف اس حال میں کررہا ہے کہ سر ننگا ہے، پاؤں جوتے کے بغیر ہیں،اس کے جسم پردو چادروں  کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ایک چادر اس نے ازار کے طور پر باندھ رکھی ہے جب کہ دوسری کو اس نے اپنے بدن پر اوڑھ رکھا ہے۔اس وقت خلیفہ کی حالت وہی ہے جو اس کی رعایا کے کسی عام فرد کی ہے۔یہ سب اللہ کی خاطر ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔اس کے پیچھے پیچھے اس کے دو بیٹے بھی ہیں۔وہ اپنی چمک دمک اورچہروں کی رونق سے چودھویں کے چاند لگ رہے تھے اور اپنے حسن منظر اور خوشبو میں گلاب کی پنکھڑیاں نظر آرہے تھے۔
خلیفہ جیسے ہی طواف سے فارغ ہوا اس نے اپنے خاص آدمیوں میں سے ایک کی طرف جھکتے ہوئے اس سے سرگوشی کی: تمہارا وہ ساتھی کہاں ہے؟جناب عالی! وہ تو سامنے اس جگہ نماز ادا کررہا ہے، اس نے مسجد کے مغربی کونے کی طرف اشارہ کیا۔جس طرف اشارہ کیا گیا تھا خلیفہ اس طرف متوجہ ہوا ، اس کے پیچھے دونوں شہزادے بھی تھے۔ خلیفہ کے حاشیہ برداروں نے لوگوں کوہٹا نے اور خلیفہ کے لیے راستہ بنانے کی کوشش کی تو سلیمان نے انہیں روکا اور کہا:
    رک جاؤ! یہ وہ مقام ہے جہاں بادشاہ اور عام آدمی میں کوئی فرق نہیں ہوتا،یہاں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ۔ ہاں اسے فضیلت حاصل ہے جس کا عمل مقبول ہو اور جو متقی ہو، کتنے ہی غبار آلود بکھرے بالوں والے ایسے ہیں جن سے اللہ تعالی وہ کچھ قبول کرلیتا ہے جو بادشاہوں سے قبول نہیں کرتا، پیچھے ہٹ جاؤ۔ لوگوں کو تنگ نہ کرو۔
    خلیفہ اس آدمی کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ بدستور اپنی نماز میں ہے اور نہایت خشوع وخضوع سے رکوع وسجودمیں مشغول ہے ۔لوگ اس نمازی کے پیچھے اور دائیں بائیں بڑی کثرت سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ خلیفہ بھی مجلس کے آخری حصے میںجہاں جگہ ملی بیٹھ گیااور اس کے بیٹے بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے۔جب وہ نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوا تو وہ ایک کالا بھجنگ حبشی تھا، گھنگریالے بالوں والا ، چوڑی ناک والا، جب وہ بیٹھا تو یوںلگ رہا تھا جیسے کالا کوا ہو۔اس نے دائیں جانب متوجہ ہو کر دیکھا تو خلیفہ بھی لوگوں کے درمیان بیٹھاہوا تھا۔ خلیفہ نے اسے سلام کیا ۔ اس نے بھی اسی طرح جواب دیا۔اب خلیفہ آگے ہوا اور اس نے حج کے مناسک کے بارے میں ایک ایک مسئلہ پوچھنا شروع کیا۔ وہ بڑی تفصیل سے ہر مسئلہ کاجواب دے رہے ہیں۔ان کے جواب کے بعد کوئی تشنگی باقی نہیں رہتی۔وہ جو بات بھی کہتے ہیں ،اس کو رسول اللہ ﷺکے فرامین سے مزین کرتے اور ہر مسئلہ کی دلیل ذکرکرتے ہیں۔جب خلیفہ کے سوالات ختم ہو گئے تو وہ اٹھے اور انہوں نے بیٹوں سے کہا:اٹھو بیٹا! چلیں، وہ تینوں اٹھے اورمسعی کی جانب چل دیئے۔ابھی وہ صفا مروہ کی طرف راستے ہی میں تھے کہ بیٹوں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی: ا ے مسلمانو! غور سے سنو:
    اس مقام میں کوئی شخص عطاء بن ابی رباح کے سوا فتویٰ جاری نہ کرے۔اگر وہ میسر نہ ہوں تو پھر عبد اللہ بن ابی نجیح فتویٰ دیا کریں گے۔دونوں بیٹوں میں سے ایک نے والد سے سوال کیا:
    ابا جان! امیر المؤمنین کا گورنر اعلان کرتاہے کہ ان دونوں کے سوا کوئی فتویٰ نہ دے ، اور ہم فتویٰ لینے کے لیے ایک ایسے شخص کے پاس آتے ہیں جو تو خلیفہ کی پروا کرتا ہے نہ ان کے لیے مناسب تعظیم کا اظہار کرتا ہے۔خلیفہ سلیمان بیٹے سے کہتاہے:
    میرے بچے! جس شخص سے ہم نے مسائل پوچھے اور جس کے سامنے آپ نے ہماری کمزوری دیکھی، وہ عطاء بن ابی رباح ہی تو تھے۔وہ مسجد حرام کے سب سے بڑے مفتی اوراس عظیم منصب پر سیدنا عبد اللہ بن عباس کی مسند کے وارث ہیں۔
    خلیفہ نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا: میرے بچو! علم حاصل کرو کہ علم ہی کے ذریعے نچلے درجے کے لوگ عزت وشرف کے اعلی مراتب حاصل کرلیتے ہیں اور گمنام لوگ معروف ہو جاتے ہیںاور اسی کے ذریعے غلام بادشاہوں کے مراتب تک جا پہنچتے ہیں۔(صور من حیاۃ التابعین)
    مجھے مخلوق سے کوئی حاجت نہیں:
    یہ حج کا موقع ہے،مکہ مکرمہ میں مشہور اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان اپنی چارپائی پر براجمان ہے۔ہر قبیلے کے نمایاں افراد اس کے ارد گرد بیٹھے تھے۔ اتنے میں عطا ء بن ابی رباح بھی ا س مجلس میں پہنچ گئے۔خلیفہ کی عطاء پر نظر پڑی تو ان کے احترام میں کھڑا ہو گیا اور انہیں عزت واحترام کے ساتھ اپنے ساتھ چارپائی پر بٹھالیا۔اور کہا: ابو محمد! کوئی حاجت ہو تو بتائیے۔ عطاء کہنے لگے:
    امیر المؤمنین! اللہ کے حرم اور رسول اللہﷺکے حرم کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہیے، انہیں آباد رکھنے کااہتمام کریں۔ مہاجرین اور انصار کی اولادوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہیے کہ آپ نے یہ مجلس جو قائم کی ہے، انہی کی وجہ سے قائم کر سکے ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ یہ دین کی رونقیں مہاجرین اور انصار کی قربانیوں کی بدولت ہی وجودمیں آئی ہیں۔سرحدوں پر جو مجاہد ڈیوٹی دے رہے ہیں ان کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرتے رہیں کہ وہ مسلمانوں کے مضبوط قلعے ہیں،مسلمانوں کے امور کے متعلق بھی اللہ سے ڈرتے رہیں کہ آپ تنہا ان کے مسائل کے ذمہ دار ہیں۔جو لوگ آپ کے دروازے پر آتے ہیں ان کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرتے رہیں، ان کے بارے میں کسی قسم کی غفلت کے مرتکب نہ ہوں،ان پر اپنے دروازے کبھی بند نہ کرنا۔    
    خلیفہ نے کہا: میں یہ سب کام ضرورکروں گا۔
    جب عطاء اٹھنے لگے تو خلیفہ نے ان کا ہاتھ پکڑلیااور کہا: ابو محمد! آپ نے لوگوں کے مسائل تو بیان کئے اور ہم نے آپ کی تمام باتیں مان لیں۔ یہ بتلائیے کہ آپ کی حاجت کیا ہے؟ فرمانے لگے: اے خلیفہ! مجھے دنیا کے کسی شخص سے کوئی حاجت نہیں ۔یہ کہا اور وہاں سے چل دیئے۔
    عبد الملک کہنے لگا:یہ ہے حقیقی عزت، اور یہ ہے حقیقی سرداری۔(المنتظم فی تاریخ الملوک والامم)
    ضمرہ بن ربیعہ کہتے ہیں:
    ہم نے 150 ہجری میں اوزاعی کے ساتھ حج کیا۔ہم نے انہیں پورے سفر کے دوران رات یا دن میں’’ محمل‘‘ پر سوتے ہوئے نہیں دیکھا۔’’ محمل ‘‘ لکڑی کے اس اسٹینڈ کو کہتے ہیں جو اونٹ کی کمر پر رکھ کر اس کے دونوں طرف سامان لاد لیا جاتا ہے۔جب تھک جاتے تو پالان کے پچھلے عمود کے ساتھ ٹیک لگاکر کمر سیدھی کر لیتے۔(تاریخ دمشق)
    یہ دنیا ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں:
    ابراہیم بن عبد اللہ بن جنید کہتے ہیں: میں نے یحیی بن معین کو یہ کہتے ہوئے سنا:
     دنیا کی یہ زندگی ایک خواب کی طرح ہے۔اللہ کی قسم!اس شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا جو اللہ سے ڈرتے ہوئے صبح وشام کرے۔ میں نے پہلا حج اس وقت کیا تھا جب میری عمر 24برس تھی۔میں بغداد سے پیدل چلا اور مکہ مکرمہ پہنچا ۔ آج اس بات کو50 برس ہو گئے اور یوں لگتا ہے جیسے یہ کل کی بات ہو۔ انسان جو زندگی گزار لیتا ہے وہ اسے ایک دن یادن کے کچھ حصے کی طرح معلوم ہوتی ہے۔ کل قیامت کے دن بھی جب لوگ اٹھائے جائیںگے تو ا للہ تعالی پوچھے گا : تم لوگ زمین میں کتنی دیرٹھہرے؟ وہ کہیں گے: ایک دن یا دن کاکچھ حصہ، اے اللہ! اگر ہماری بات پر یقین نہ ہو تو حساب کتاب جاننے والوں سے پوچھ لیں۔
    ۔اس کی ایک ادنی جھلک دنیا کی زندگی کے اندر بھی پائی جاتی ہے۔ آدمی جب پیچھے کی طرف دیکھتا ہے تو یہی لگتا ہے کہ یہ چند روزہ زندگی ہی تھی جو میں نے آج تک گزاری ہے۔
    جاؤ ان 60 درہموں سے حج کرو:
    مروذی کہتے ہیں: ابو عبد اللہ احمد بن حنبل نے بتایا:
    میں20 برس کاتھا کہ ہشیم نے وفات پائی۔ میں اور میرا ایک اعرابی ساتھی گھر سے پیدل نکلے اور چلتے چلتے کوفہ پہنچے۔ یہ  83ہجری کی بات ہے۔ ہم ابو معاویہ کے ہاں پہنچے تو دیکھا کہ ان کے پاس لوگوں کا ہجوم ہے۔ابو معاویہ نے اعرابی کو60درہم دیے او رکہا کہ جاؤ ان سے حج کرو۔میرے ساتھی اعرابی نے مجھے گھر میں تنہا چھوڑا اور مکہ مکرمہ کو چل دیا:مجھے تنہائی سے وحشت محسوس ہونے لگی۔ میرے پاس صرف ایک تھیلی تھی جس میں کتابیں تھیں۔میں اسے ایک اینٹ پر رکھ کر اسے اپنا تکیہ بنا لیتا۔میں وکیع کے ساتھ ثوری کی احادیث کا تبادلہ کیاکرتاتھا۔ایک بار انہوں نے ایک حدیث بیان کی اور کہا: یہ ہشیم کی روایت ہے۔ میں نے کہا: نہیں ایسا نہیں۔بسا اوقات وہ10 احادیث بیان کرتے اورمیں انہیں حفظ کر لیتا۔جب وہ اٹھ جاتے تو حاضرین مجھ سے ان احادیث کو لکھوانے کا مطالبہ کرتے ، میں یہ احادیث انہیں لکھوا دیتا۔
    امام احمد کے بیٹے عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں: مجھ سے ایک دفعہ والد صاحب نے فرمایا: تم وکیع کی تصنیف کردہ کوئی بھی کتاب لو اوراگر تم چاہو تو حدیث کے متن کے بار ے میں مجھ سے سوال کرو تو میں تمہیں اس کی سند بتادوں گا اور اگر تم سند کا ذکر کرو تو میں تمہیں اس حدیث کا متن سنا دوں گا۔(سیر اعلام النبلاء)

مزید پڑھیں:- - - - - -حج ، حرمتوں کی پاسداری کی تربیت

 

شیئر: