یوم دفاع اسپیشل:بیبانی کرکٹ کلب نے العزیزیہ کلب کو شکست دیدی

 
ٹی ٹوئنٹی میچ میں 285رنز کا پہاڑ جیسا ہدف، اعجاز کی 9 چھکوں والی سنچری نے ہدف حاصل کرنے میں مدد دی،جہانگیر کے 3مسلسل چھکوں نے میچ جتوا دیا
جدہ:جامعہ کے فلڈ لائٹ کرکٹ گراونڈ میں جامعہ کی قدیم بیبانی کرکٹ کلب اور جدہ کی ممتاز ٹیم العزیزیہ کرکٹ کلب کے درمیان یوم دفاع پاکستان کی مناسبت سے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ کا انعقاد ہوا جسے کھلاڑیوں کے علاوہ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے دیگر تماشائیوں نے بہت شوق سے دیکھا۔ گراونڈ کے اردگرد دوستوں کی ٹولیاں میچ دیکھنے کے ساتھ خوش گپیوں میں بھی مصروف رہیں۔ ٹاس جیت کر عزیزیہ ٹیم نے پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا یہ ٹیم گزشتہ ماہ 342 رنز کا ریکارڈ برابر کر چکی تھی ۔ عزیزیہ کلب نے مسلسل 3میچوں میں بڑے مارجن سے بیبانی ٹیم کو ہرایا تھااس لئے اس میچ کیلئے بیبانی ٹیم پوری تیاری اور جیت کی نیت سے میدان میں اتری۔ ٹیم کیلئے خوش آئند بات یہ تھی کہ 2 فاسٹ بولر طیب مغل اور پروفیسر فضل قدوس واپس آئے۔ میچ شروع ہوا تو پہلے اوور میں جہانگیر نے اچھی بولنگ کی اور ایک آسان کیچ وکٹ کیپر علی رضا کے ہاتھوں ڈراپ ہوا۔ اگلے اوور میں طیب مغل نے شاندار فاسٹ بولنگ کی مگر قسمت نے انکا اسوقت ساتھ نہیں دیا جب انکی گیند پر تھرڈ مین باونڈری پر ہاتھ میں آیا ہوا کیچ مرزا انجم سے ڈراپ ہوا۔ اسکے بعد ایک اور کیچ بھی علی رضا سے ڈ راپ ہوا۔ ابتدائی اچھی بولنگ سے عزیزیہ ٹیم دباو¿ میں آ گئی اور انکی رنز اوسط پہلے جیسی نہ رہی۔چار اوورزکے اختتام پر عزیزیہ ٹیم کا ا سکور 35 رنز تھا اسکے بعد مصطفی اور کریم اللہ بولنگ کرنے آئے۔ کریم اللہ کو مسلسل 3چھکے کھانے پڑے ۔ مصطفی بھی تیسرے اوور میں بلے بازوں کی بربریت کا شکار ہوئے ،طیب نے ایک وکٹ حاصل کی ۔ عزیزیہ ٹیم کے کپتان عبد القادر کسی بولر کو خاطر میں نہ لائے۔ پروفیسر فضل قدوس نے اچھی فاسٹ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور ایک وکٹ حاصل کی جبکہ انکے اوور میں علی رضا نے چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک رن آوٹ بھی کیا۔ علی رضا مڈ آن پر جاتی ہوئی گیند کو دیکھ کر چیتے کی سی لپک سے وکٹ پر آئے گیند آتے ہی بیلز اڑا دیں۔ ڈاکٹر بیبانی نے 2 اوور کرائے جس میں اتفاق سے انکے مد مقابل عزیر اور اصغر جیسے بہترین بلے باز تھے تاہم ان کی 2اوورز کی بولنگ پر3 چھکے لگے ۔ عزیزیہ ٹیم 285 کا پہاڑ جیسا ٹارگٹ دینے میں کامیاب ہو گئی۔ جواب میں بیبانی ٹیم کی طرف سے مرزا انجم اور وحید نے بیٹنگ کا آغاز کیا۔ افضال کے پہلے اوور میں مرزا انجم اور وحید دونوں نے ایک ایک چھکا لگایا۔ اصغر کے دوسرے اوور میں انجم نے ایک چھکا لگا کر اصغر کے اس دعوے کو زائل کیا کہ وہ اسے چھکا نہیں لگا سکتے تاہم اسی اوور کی تیسری گیند پر وحید آوٹ ہو گئے۔چھٹے اوور میں مرزا انجم 24 رنز بنا کر مظہر کی گیند پر آوٹ ہوئے تو وقتی طور پر بیبانی ٹیم مایوسی کا شکار ہو گئی تاہم بلے باز اعجاز نے پہلی ہی گیند پر چھکا لگا کر اپنے عزائم ظاہر کر دئےے۔ وہ عزیزیہ ٹیم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے۔ انھوں نے کئی مشکل گیندوں کو بلند و بالا چھکوں میں تبدیل کیا جس پر تماشائیوں کا جوش و خروش بھی عروج پر پہنچ گیا اور انھوں نے انکے ہر چھکے کی کھل کر داد دی۔انھوں نے 9 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 103 رنز بنائے۔ انجم کے بعد مصطفی کھیلنے آئے انہوں نے 8گیندیں ضائع کیں جبکہ 7 گیندوں پر سنگل رنز لئے تاہم 2 چھکے اور ایک چوکا لگایا۔ انکے بعد علی رضا نے6 گیندوں پر 2 چوکوں کی مدد سے 13رنز بنائے۔ انکے بعد کریم اللہ اور عامر نے بھی کئی چھکے لگائے تاہم آخری اوورزمیں جہانگیر نے چھکوں کی بارش کر دی۔آخری 3 اوورز میں بیبانی ٹیم کو 29 رنز جبکہ عزیزیہ ٹیم کو 3 وکٹیں چاہئے تھیں۔ میچ بیبانی ٹیم کی طرف جھک گیا تھا تاہم اٹھارویں اوور میں جہانگیر غضبناک انداز میں سامنے آئے اور انھوں نے دوسری نو بال پر چھکا لگایا جبکہ سنگل کھیل کر کریم اللہ کو موقع دیا جنھوں نے سنگل کھیلا تاہم اس بار جہانگیر نے مسلسل3 چھکے لگا کر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔ پہلا چھکا لیگ کی طرف گیا۔ دوسرا طویل چھکا سامنے کی طرف گیا جبکہ تیسرا خوبصورت چھکا آف سائڈ پر گیا تو علی رضا کی معیت میں ا سٹیندز پر بیٹھے کھلاڑی بلے بازوں کی طرف دوڑے اور داد دیتے ہوئے پویلین کی طرف لے آئے۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے بغلگیر ہو رہا تھا جبکہ مرزا انجم کی خوشی دیدی تھی۔ انھوں نے میچ کے بہترین کھلاڑیوں جہانگیر اور اعجازمیں نقد ریال انعام دئیے۔
کھیلوں کی مزید خبریں پڑھنے کیلئے اردونیوز  " واٹس ایپ اسپورٹس گروپ" جوائن کریں
 

شیئر: