ظاہری سے بدرجہابہتر باطنی حُسن ، جو کسی غازے کا محتاج نہیں

عنبرین فیض احمد ۔ ینبع
زمانہ قدیم ہی سے عورت نے اپنے بناﺅ سنگھار، سجنے سنورنے پر خصوصی توجہ مرکوزکر رکھی ہے ۔ یہ اس کی جبلت کا حصہ ہے ۔ اس کا مقصد پرکشش اور حسین دکھائی دینا ہے جو مختلف آرائشی لوازمات کے بغیر ناممکن ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ فیشن کی دنیا میں ہونے والے انوکھے تجربات سے میک اپ میں بھی بڑی تیزی سے تبدیلی آئی ہے۔سنگھار کی نت نئی چیزیں منظرعام پر آرہی ہیں جن کی تشہیر صنف نازک کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ 
دراصل حُسن ، ہار سنگھار اور خواتین کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ اس دور میںبھی جب بننے سنورنے کی آج جیسی سہولتیں ناپید تھیں، خواتین بنا¶ سنگھار کے بغیر گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتی تھیں کیونکہ شروع سے ہی سولہ سنگھار کو عورت کا اصل حُسن اور روپ سمجھا جاتا رہا ہے۔
آج بھی صنف نازک میک اپ کا سہارا لیتی ہے جس کی بدولت اس کی زیب و زینت میں نمایاں اضافہ نظر آتا ہے۔ وہ کہیں بھی جائیں یا امور خانہ داری سے فارغ ہوکر سرتاج کے گھر لوٹنے سے پہلے سجنے سنورنے کا اہتمام کریں،یہ خواتین کی فطرت ثانیہ ہے۔ چوڑیوں کونسوانی زیب زینت میںانتہائی اہمیت حاصل ہے۔ انہیںسہاگنوں کی خاص نشانی سمجھا جاتا ہے۔
سنگھار کرنا اور خوبصورت نظر آنا خواتین کا بنیادی حق ہے۔ بنا¶ سنگھار عورت کی کمزوری رہی ہے ، وہ جہاں بھی جائے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہاں سب میں نمایاں نظر آئے اور ایسا بلا شبہ میک اپ کے بغیر ممکن نہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بیوٹی پارلرز سے لے کر میک اپ آرٹسٹ تک یا پھر ٹی وی چینلز پر آرائش حُسن کے سادہ اور سہل نسخوں پر مبنی پروگراموں کے علاوہ بازاروں میں بنا¶ سنگھار کی انواع و اقسام کی مصنوعات کی بھرمار نے خواتین کی مشکلات کو قدرے کم کردیا ہے۔ 
پرانے زمانے کی خواتین کہا کرتی تھیں کہ سولہ سنگھار ہی عورت کا اصل روپ ہوتا ہے ورنہ عورت، عورت نظر نہیں آتی۔ عام سے عام خاتون بھی بننے سنورنے کی شوقین ہوتی تھی۔ خواہ وہ سنگھار لپ اسٹک ، کاجل اور پا¶ڈر تک ہی محدود کیوں نہ ہو، یہ سامانِ زیبائش ہر عورت کے پاس کسی نے کسی شکل میںموجود رہتا تھا۔ شعور کی منزل تک پہنچنے پر خاتون کا خود کو نمایاں دکھائی دینے کا شوق اور خوبصورت وحَسین لگنے اور سب سے منفرد دکھائی دینے کی چاہ ہر عورت میں کہیں نہ کہیں ضرور چھپی ہوتی ہے۔ اس مقصد کیلئے پیسہ خرچ ہونا بھی لازمی ہے۔ ظاہر ہے بنا¶ سنگھار کیلئے سازو سامان مفت تو حاصل نہیں ہوسکتا، پیسے تو خرچ کرنے ہی پڑتے ہیں۔ 
موجود دور میں میک اپ کے نام پر نئی نئی اشیاءایجاد ہورہی ہیں۔ بیوٹی پارلرز کا کاروبار عروج پر ہے۔ ہر گلی محلے میں کئی مراکزِ تجمیل نظر آتے ہیں۔ ساس اور بہو دونوں ہی ایک ساتھ بیوٹی پارلر کا رخ کرتی ہیں۔ ماں، بیٹی میں فرق کرنامشکل ہوچکا ہے۔ خواتین نہ صرف اپنی جلد کی شگفتگی کی طرف توجہ دیتی ہیں بلکہ جدید فیشن کے رجحانات کو فالو کرنا بھی انکی کمزوری بن چکا ہے۔ ان کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ ملبوسات دوسروں سے زیادہ خوبصورت نظر آئیں۔ اس پر بھی خاصی محنت کی جاتی ہے اور پیسہ خرچ کیاجاتا ہے ۔ وہ چاہتی ہیں کہ جو بھی پیرہن زیب تن کیا جائے اس میں وہ اسمارٹ اور خوبصورت دکھائی دیں اور سامنے والا تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔ 
دھنک کے صفحے پر تصویر شائع کی گئی ہے جس میں ایک لڑکی ، ایک عورت اور ایک عمر رسیدہ خاتون اسٹال پر کھڑی چوڑیاں خرید رہی ہیں ۔ اس سے منسلک تحریر میں واضح کیا گیا ہے کہ چوڑیاں خواتین کو اس لئے بھی پسند ہوتی ہیں کیونکہ ان کی کھنک سے وہ اپنی موجودگی کا احساس دلاسکتی ہیں۔
زیبائشِ نسواں کیلئے نہ صرف چوڑیاں بلکہ مختلف اقسام کے زیورات بھی استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔ ماضی قریب میں سونے سے بنے دیدہ زیب زیورات خاصے مقبول تھے تاہم مہنگائی اور چوری، ڈکیتی کی بڑھتی وارداتوں کے سبب سونے کے زیورات کا استعمال بہت ہی کم ہوگیا ہے۔ حالات کے پیش نظر لڑکیوں اور درمیانی عمر کی عورتوں میں مصنوعی زیورات پہننے کے رجحان میں کافی اضافہ ہورہا ہے۔ بہر حال ہر کسی کو حق ہے خوبصورت نظر آنے کا ،خواہ وہ امیر ہو یا غریب، بوڑھا ہو یا جوان۔ 
خواتین کسی بھی عمر کی ہوں، وہ اپنی شخصیت کے نکھار کیلئے ہر وہ چیز استعمال کرتی ہیں جس میں وہ حسین دکھائی دیں۔ مرد ہو یا عورت ہر ایک میں یہ خواہش ضرور پوشیدہ ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ اس کی تعریف کریں۔وہ جاذب نظر دکھائی دے۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اس کیلئے وہ کافی تگ و دو کرتا نظر آتا ہے لیکن خواتین اس شعبے میں کافی آگے ہوتی ہیں۔ وہ کسی بھی عمر کو پہنچ جائیں خود کو بہتر سے بہتر دکھائی دینے کی جستجو میں مبتلا رہتی ہیں۔ پھر ایک وقت وہ آتا ہے جب خود کو خوبصورت رکھنے کی خوبی ،خامی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ لوگ انہیں ”بڈھی گھوڑی، لال لگام“ جیسے زہریلے طنز کرنے لگتے ہیں۔ وہ شخصیات جو کسی دور میں ان کے حُسن کے قصیدے پڑھنے والوں میں شامل تھیں، اب ان کی خوبصورتی کی دشمن ہو جاتی ہیں۔
ظاہری خوبصورتی سے بدرجہا بہتر باطنی خوبصورتی ہے جو لازوال ہوتی ہے۔اندرونی حُسن سیرت کاحُسن ہے ، یہ وہ حُسن ہے جس کی تجمیل کسی غازے کی محتاج نہیں ۔ سیرت کی خوبصورتی ، ایک دنیا کو گرویدہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ظاہری خوبصورتی سے انسان خوبصورت یا بدصورت نہیں ہوتا بلکہ اس کا طرز عمل ہی اس کی خوبصورتی ہے۔ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ظاہری خوبصورتی کے ساتھ باطنی خوبصوتی میں بھی نکھار لایا جائے۔ اس چھپی ہوئی خوبصورتی کے عیاں ہونے پر لوگ تعریف کئے بغیر نہ رہیں۔ انسان کے اخلاق ، رویے ، برتا¶ میں کوئی کمی نہ ہو، کوئی سقم نہ ہو، کوئی برائی نہ ہو۔ ایک مرتبہ ملنے کے بعد دوسری ملاقات کی خواہش کریں۔ جس انسان کی ظاہری کے ساتھ باطنی شخصیت بھی خوبصورت ہو تو کیا ہی کہنے۔چار چاند لگنے کا محاروہ شاید ایسے ہی لوگوں کیلئے کہا جاتا ہے۔ 
 
 
 

شیئر: