وزیر خارجہ کی ذمہ داریاں بڑھ گئیں

کراچی (صلاح الدین حیدر ) ہندوستان کے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے پاکستان سے جنگ کرنے کو کیا کہہ دیا، ملک خداداد پاکستان میں قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہوگئی۔ ظاہر ہے کہ پاکستان آرمی آج دنیا کی چھٹی بڑی آرمی میں شمار کی جاتی ہے۔تمام تر جدید اسلحہ اور بھرپور تربیت یافتہ ہے۔پاکستان ایئر فورس آج جتنی مضبوط اور جنگی جہازوں سے میزائلوں سے لیس ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ اسی طرح ملک کی نیوی کا شمار آج دنیا کی بہترین بحریہ میں شمار ہوتاہے۔وہ اپنا لوہا بین الاقوامی طور پر منوا چکی ہے۔ یہی وجہ سے کہ پچھلے سال2017کی بین الاقوامی بحری مشقیں پاکستانی سمندروں میں ہوئیں۔دنیاکی بہترین نیوی کے افسران اور جنگی جہاز کراچی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوئے ۔کئی دن تک  مشقیں جاری رہیں۔ پھر نا جانے جنرل بپن کو کیا سوجھی کہ اس قسم کا غیر ذمہ دار بیان داغ ڈالا،جس سے پاکستان میںہلچل مچنے کی بجائے، ہندوستانی حکومت اور ہندوستانی روئیے کا مذاق اڑایا گیا۔ پاکستان آرمی ، ایئرفورس، اور نیوی کے افسران بالانے تو اسے محض مذاق اور نادانی سمجھ کر زبان کھولنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی۔ پوری پاکستانی قوم ، کیا حکمران طبقہ، کیا اپوزیشن پارٹیاں سب ہی اپنے اختلافات بھلا کر یک زبان ہوگئے کہ ہندوستان حملہ کرنے کی جرات تو کرے، پھر اسے پتہ چلے کہ پاکستانیوں میں ایمانی قوت اور عسکری صلاحیتیں انہیں کیا سبق سکھاتی ہیں۔یہ 2018 ہے ، 1965، یا 1971نہیں۔ جنگی صلاحیتوں کے لئے بیرونی دنیا پر انحصار کرتے تھے، آج پاکستان کامرہ میں جدید سے جدید جنگی ہوائی جہاز بنا رہا ہے۔ پاکستان ڈاکیارڈ جو ایک عرصہ دراز سے بیکار پڑا ہوا تھا، زنگ آلود ہوچکا تھا، اسے نیوی نے دوبارہ ایک جدید ترین ادارے میں تبدیل کرکے وہاں فرانس اور چین کی مدد سے سب میرین ، ڈسٹرائیر،اور میزائل بوٹ جیسے چھوٹے مگر بے انتہا اہم ،سمندری حفاظت اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے سازوسامان بنانے میں شب و روز مصروف ہے۔ فضائیہ کے پاس بہترین اور جدید ترین جنگی جہاز بیڑ ے میں شامل ہیں، جو ہماری فضائی سرحدوں کی حفاظت پر اعلیٰ ترین تربیت یافتہ پائلٹس کی قیادت میں چوبیس گھنٹے تیار اور ایک لمحے میں ہواﺅں میں بلند ہو کر دشمن کو للکارنا اپنا فرض اوّلین سمجھتے ہیں ۔ فضل الرحمن، ریلوے کے شیخ رشید، پیپلز پارٹی کی سینیٹر اور امر یکہ میں سابق سفیر شیری رحمن ، نے فوراً ہی ہندوستان کو تنبیہ کی کہ جنگی جنون سے باز رہے، ان کے خیال اور اسی طرح آئی ایس آئی کے سابق افسر ریٹائرڈ میجرجنرل اعوان ،سابق لیفٹنٹ جنرل شعیب امجد ، اور دوسرے دفاعی تجزیہ نگاروں نے ایک ہی بات بار بار کہی کہ ہندوستان میں آرمی چیف وزیر اعظم کے حکم کے بغیر کوئی پالیسی بیان نہیں دے سکتا، اس کا مطلب صاف ہے کہ نریندر مودی جو کہ شدت پسندوں کے نرغے میں پوری طرح گھرچکے ہیں، اور اگلے سال کے انتخابات میں کانگریس کی بڑھتی ہوئی مخالفت سے تنگ آکر پریشان نظر آتے ہیں۔جنرل بپن کا بیان یا دھمکی کہیں،نے ہندوستان کے چہرے پر سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ پاکستان سے صرف اتنا کہا کہ ہندوستان نے وزیر اعظم عمران خان کی طرف بات چیت دوبارہ بحال کرنے کو رد کرکے اور پھر اسی طرح جنگی جنونیت پھیلانے کا مطلب صرف ایک ہی ہوسکتاہے کہ مودی یا پی جے پی انتخابات میں مشکلات سے گھری نظر آتی ہے۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی روز نریندر مودی کو للکار تے ہیں ، اور انہیں چور جیسے خطابات سے بھی نواز دیا۔ ظاہر ہے کہ کانگریس اپنی پوزیشن بہتربنانے کے بعد دوبارہ اقتدار میں واپس آنے پر نظریں لگائی ہوئی ہے۔دوسر ی طرف اگرسیٹلائٹ اورسائنس کی دنیا میںپاکستان نے نت نئے سیٹلائٹ چین کی مدد سے فضاءمیں چھوڑ کر اپنی ساکھ میں اضافہ کیا ہے۔ دو سیٹلائٹ جولائی سے لے کر اب تک چھوڑے گئے اور دونوں ہی چین کی سرزمین سے لیکن ان تیاری میںپاکستانی سیاستدانوں کا دخل بہت بڑا ہے۔ آج پاکستان میں ایسے سائنسدان موجود ہیں جنہیں ناسا اور یورپین سیٹلائٹ کے ادارے ان کی خدمات کا نہ صرف متراف ہیں ،بلکہ انہیں ملازمت دینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ سیاسی سطح پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، جو امر یکہ پہنچ چکے ہیں اُن پر اب بڑی ذمہ داری آپڑی ہے کہ اپنے 27ستمبر کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران ہندکی کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ،پاکستان سے امن کی خواہش کو ٹھکرانے اور پھر پاکستان پر حملہ کرنے کے بارے میں دنیا کو بتائیں کہ ہمارا پڑوسی ملک ہم پر پوری طرح نظریں رکھ رہا ہے، جس سے خطے میں امن کو سخت خطرہ ہوگابلکہ بین الاقوامی طور پر پہ بھی اس کا بہت گہرا اثر پڑے گا۔ شاہ محمود قریشی کو ہندوستان پاکستان او ر کشمیر کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرنا پڑے گی، پھر ان کی ملاقاتیں جب دوسرے ممالک کے قائدین سے ہوںگی تو اس میں بھی انہیں ہندوستان کے جارحانہ طرز عمل پر کھل کرروشنی ڈالنی پڑے گی، تاکہ ہندوستان کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوسکے۔ 
 

شیئر: