کیچ ڈراپ کرنے کے بعد فتح کی امید نہ رکھیں

دبئی: ہند کے خلاف سپر 4 مرحلے میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کرکٹ ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹاس جیت کر بیٹنگ کا انتخاب کرتے ہوئے پاکستانی کپتان سرفراز احمدکے ذہن میں یہی خیال تھا کہ آج کوئی بیٹنگ کا بحران نہیں آئے گا کیونکہ آج صرف کریز پر مسلسل جم کے جواب دیا جائے گا۔ رن ریٹ بھلے سست رہے مگر وکٹیں بچائی جائیں گی لیکن خوف کے حصار میں رہ کر تشکیل دی جانے والی حکمت عملی بھی دباو اور خوف کا شکار رہتی ہے ۔سرفراز نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر چوتھے نمبر پہ بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو بارآور بھی ثابت ہوا لیکن حقائق اس اگر مگر سے بہت مختلف نکلے۔ سیم بولنگ کی کاٹ تو اپنی جگہ کچھ نہ کچھ موجود ہی تھی مگر جب شاداب خان جیسے بہترین فیلڈرز بھی جھولی میں گرتے کیچ سے ذرا سا پیچھے رہ جائیں تو کوئی منصوبہ بندی اور حکمت کام نہیں آتی۔چیمپئینز ٹرافی سے اب تک پاکستان کی فتوحات میں بنیادی کردار پاکستان کی تباہ کن بولنگ اور معیاری فیلڈنگ کا رہا ہے۔ویسے تو تاریخی طور پر پاکستانی فیلڈنگ کبھی بھی قابلِ رشک نہیں رہی لیکن پچھلے ڈیڑھ سال میں نئے ٹیلنٹ نے یہ تاریخ ہمیں بھلا ڈالی تھی لیکن ٹیم پھر اسی ڈگر پر لوٹتی نظر آرہی ہے۔پاک ہند میچ میں اگر مستند اوپنرز کے 3 کیچز ڈراپ کر دئیے جائیں تو فتح کی امید خود بخود دم توڑ جاتی ہے۔فیلڈنگ ہی کی طرح پاکستانی بیٹنگ نے بھی بہت کم ایسے مواقع پیدا کئے ہیں جن کا اچھے لفظوں میں ذکر کیا جاسکے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں فخر زمان کی شکل میں پاکستان کو ایک ایسا چہرہ میسر آیا تھا کہ مڈل آرڈر کی کمیاں کوتاہیاں اس کے پیچھے چھپ گئی تھیں مگر اب فخر زمان خراب فارم کا شکار ہیں تو وہی نوے کی دہائی کے بھوت پاکستانی کرکٹ کے سر پہ منڈلانے لگے ہیں۔ گراونڈ میں سرفراز اپنا چہرہ گلوز کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اورمکی آرتھر سر جھکائے کاپی میں کچھ لکھ رہے ہوتے ہیں۔ لکھنے اور کہنے میں ہی عافیت ہے کیونکہ اس سے کم از کم یہ بھرم تو رہ جاتا ہے کہ پلان تو تھا جی مگر اس پرعمل نہ ہو پایا اور نہیں تو پریس کانفرنس میں اتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ دیکھیں ناں جی اگر ہم کچھ رنز اور کر لیتے یا اگر ہم تین چار کیچز نہ چھوڑتے یا اگر وہ پاور پلے میں لیگ اسپنر کو نہ لاتے یا کم از کم ریویو پر ہی سوچ بچار کرتے تو آپ دیکھتے ہمارے پلان کیسے تیر بہدف ثابت ہوتے۔
کھیلوں کی مزید خبریں پڑھنے کیلئے اردونیوز " واٹس ایپ اسپورٹس" گروپ  جوائن کریں

شیئر: