سعودی عرب میں ریکروٹنگ ایجنسیاں کھولنے سے خلیجی ممالک کا اعراض

دمام..... سعودی عرب میں ریکروٹنگ ادارے کے ترجمان ماجد الہقاص نے واضح کیا ہے کہ خلیجی ممالک، سعودی عرب میں ریکروٹنگ ایجنسیاں کھولنے سے اعراض برت رہے ہیں۔کئی ماہ سے خلیجی ممالک کو ترغیبات کے ساتھ مملکت میں ریکروٹنگ ایجنسیاں اور کمپنیاں قائم کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے تاہم ابھی تک کسی بھی خلیجی ملک نے کوئی ریکروٹنگ ایجنسی یا کمپنی مملکت میں نہیں کھولی اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہاں اس حوالے سے کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرور ہے۔ الہقاص نے بتایا کہ سعودی عرب میں گھریلو ملازمہ حاصل کرنے کیلئے کم از کم 5ماہ درکار ہوتے ہیں۔ خلیجی ممالک میں یہ کام 2ہفتے کے اندر اندر انجام دے دیا جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں ریکروٹنگ کے شعبے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ فلپائن نے گھریلو عملہ کویت کو برآمد کرنا بند کر دیا تھا۔ کویت نے اسے ایک ماہ کے اندر بحال کرالیا ۔ سعودی عرب کا فلپائن کے ساتھ جھگڑا 2010 ءمیں ہوا تھا تب سے اب تک یہ مسئلہ معلق پڑا ہوا ہے۔ ایک ریکروٹنگ ایجنسی کے مالک عبیدا لعصاف نے الوطن کو بتایا کہ خلیجی ایجنسیوں او رکمپنیوں کا سعودی مارکیٹ میں نہ آنا ظاہر کرتا ہے کہ یہاں متعلقہ ادارے ریکروٹنگ کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ سعودی کمپنیاں اور ایجنسیاں نائیجریا، ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور یوگینڈا سے ہی گھریلو عملہ درآمد کرتی ہیں۔ خلیجی ممالک کا معاملہ مختلف ہے۔ سعودی شہری گھریلو عملہ حاصل کرنے کیلئے بحرین، کویت اور امارات سے رجوع کرنے لگے۔بعض ایجنسیاں سری لنکا ، نائیجر اور نائیجریا سے گھریلو ملازمائیں مخصوص معاہدوں کے تحت حاصل کر رہی ہیں۔ بعض ملازمائیں اور گھریلو کارکن سعودی عرب میں کام پر راضی نہیں۔ بیشتر سعودی 15روز کے اندر اندر بحرین، امارات او رکویت سے ملازمائیں حاصل کرنے لگے ہیں۔ 
 

شیئر: