آسٹریلوی ٹیم کیلئے بلال آصف ڈراﺅنا خواب بن گئے

 
دبئی: ٹیسٹ کرکٹ کیلئے دبئی کی وکٹ ایسی ہے کہ یہا ں وہی جیت سکتا ہے جس کا دل بڑا ہو۔ پاکستان کے خلاف دبئی میں پہلے ٹیسٹ کے پہلے دن ابتدائی سیشنز میں آسٹریلوی بولنگ نے اپنی سی ہر کوشش کر ڈالی مگر وکٹ نہ مل سکی ۔ ناتھن لیون اور پیٹر سڈل کو آخری سیشن کے دوران 3وکٹیں ہاتھ آ ئیں۔دوسرے دن وکٹ نے کچھ مروت دکھائی اور قسمت نے بھی ساتھ دیا کہ پاکستان کی ساتوں وکٹیں گر گئیں۔ تیسری صبح تک یہ ٹیسٹ میچ یکسر سکوت سے کسی گمنام منزل کی جانب رواں دواں تھا کہ اچانک خوف نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو دبوچ لیا ۔ پہلی وکٹ گرنے کی دیر تھی کہ بیٹنگ لائن جھڑتی چلی گئی۔جب یہ گماں ہو رہا تھا کہ ایرون فنچ اور عثمان خواجہ سنچریاں بنا جائیں گے، تب محمد عباس کی حاضر دماغی اور سرفراز احمد کی پلاننگ نے ممکن بنایا کہ پہلی وکٹ ملے اوروہاں سے پھر وکٹیں گرنے کا عمل ایسا شروع ہوا کہ 142 رنز کی ابتدائی پارٹنرشپ بنانے والی ٹیم اگلے 60 رنز کے دوران تمام وکٹیں گنوا بیٹھی۔ اس تباہی میں بنیادی کردار بلال آصف نے نبھایا جو خوف کا حصار کھینچ کر اس طرح سے وکٹ پہ لائے کہ پوری آسٹریلوی بیٹنگ کے اعصاب پہ سوار ہو گئے جو بھی ڈریسنگ روم سے نکل کر آیا، وہ بیٹنگ کرنے نہیں آیا بلکہ بلال آصف سے وکٹ بچانے کا خوف لے کر آیا۔مہمان ٹیم جو لیگ اسپنر یاسر شاہ سے خوفزدہ تھی اور اس کے مقابلے کیلئے تیار ہو کر آئی تھی اس کیلئے پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے بلال آصف ڈراونا خواب بن گئے۔ بلال آصف نے اپنی لائن اور لینتھ کا ایسا جادو جگایا کہ دن کا پر اعتماد آغاز کرنے والی مہمان ٹیم اچانک چکرا سی گئی۔عثمان خواجہ ہوں یا ٹریوس ہیڈ، دونوں کا خوف ایک ہی تھا کہ کہیں بلال آصف ان کو پویلین واپس نہ بھیج دیں۔ اسی خوف میں وہ ایسی شاٹس سامنے آئیںجو صورتحال کا نتیجہ تھیں۔ بلال آصف کے ساتھ محمد عباس نے بھی انتہائی عمدہ کارکردگی دکھائی اور ایسی وکٹ پر جس میں فاسٹ بولرز کے لیے کچھ تھاہی نہیں وہاں سرفراز کی ذہانت اور عباس کی مہارت کا تال میل ہی ڈوبتی کشتی میں مزید سوراخ کرتا چلا گیا۔ٹم پین کی قیادت میں یہ آسٹریلوی ٹیم ایک نیا امیج بنانے کی کوشش کر رہی ہے جو خالصتاً مہارت اور محنت پہ یقین رکھتا ہے۔ آسٹریلوی بلے باز اپنے تئیں یاسر شاہ کے حربوں کا توڑ کر کے آئے تھے، مگر شومئی قسمت کہ میدان میں ان کا پالا بلال آصف سے پڑ گیا اور ساری منصوبہ بندی دھری رہ گئی ،دوسری اننگز میں اب تک انہیں محمد عباس نے دباو میں لے رکھا ہے اور آسٹریلیا کے ابتدائی تینوں بلے باز واپس پویلین بھجوا کر میچ کا پلڑا پاکستان کے حق میں کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
کھیلوں کی مزید خبریں پڑھنے کیلئے اردونیوز " واٹس ایپ اسپورٹس" گروپ  جوائن کریں
 
 

شیئر: