کشکول لیکر گھوم رہا ہوں،اسد عمر

کراچی...وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر نے کہا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے لئے بھی ڈالردرکار ہوتے ہیں۔ ڈالر نہیں چھاپ سکتے۔ اس کے لئے آپ بار بار کشکول لے کر دنیا کے سامنے پھرتے ہیں ۔میں بھی وہی کر رہا ہوں۔ کشکول لے کر پھر رہا ہوں۔اوگرا،نیپرا گیس اور بجلی کے نرخ کا تعین کرتے ہیں۔ اگر گیس کی قیمتیں نہ بڑھائی جاتیں تو کئی کمپنیاں بند ہوجاتیں۔گیس خسارہ 154ارب روپے ہے۔اسحاق ڈار نے حکومت میں آتے ہی ایک فیصد جی ایس ٹی بڑھایا ہم نے ایسا نہیں کیا۔عوام کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے رقم موجود نہیں۔ برآمدات کم درآمدات زیادہ ہیں۔ایک سے ڈیڑھ سال مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا لیکن اگر ایک مرتبہ ملکی معیشت بہتر ہوگئی تو پھر پاکستان پٹڑی پر آجائے گا۔ہر ماہ 2ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔آئی ایم ایف پروگرام میں نہ گئے تومشکلات بڑھیں گی۔ پی آئی اے اور اسٹیل مل جیسے اداروں کی نجکاری بحران کے خاتمے تک ممکن نہیں۔پچاس لاکھ گھروں کے منصوبہ پر حکومت کی معمولی رقم خرچ ہو گی۔ زیادہ ترپرائیویٹ انویسٹمنٹ ہوگی ۔ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ لیگی حکومت کی خراب کارکردگی نے موجودہ صورتحال کو جنم دیا۔نیپراکے مطابق بجلی کا خسارہ 453ارب کا ہے ۔ جب ن لیگ کی حکومت آئی ایم ایف پروگرام میں گئی۔ تب بھی بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا تھا ۔ تحریک انصاف کی حکومت آئی تو ڈالر کی قیمت 128روپے تھی۔2013میں اسحاق ڈار کا آئی ایم ایف کے پاس جانے میں کوئی قصور نہیں تھابلکہ پیپلزپارٹی اس کی اصل وجہ تھی۔ بالکل اسی طرح 2018میں تحریک انصاف کاورلڈبینک کے پاس جانے میں کوئی قصور نہیں ۔الیکشن سے قبل کبھی نہیں کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہئے ۔ن لیگ نے پچھلے بجٹ میں قوم کو بتا یا تھا کہ خسارہ 4.1فیصد ہوگا لیکن یہ خسارہ سال کے اختتام تک 6.6فیصد تک جاپہنچا ۔2.5فیصدرقم ایک ہزار ارب بنتی ہے۔قرضوں کی ادائیگی کے لئے بھی ڈالردرکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے ۔پاکستان میں سرمایہ کاری اوربرآمدات بڑھائے بغیر ملک کوقرضوں سے نکالناممکن نہیں ۔اگر10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ رک جائے اور پانچ سے دس ارب ڈالر کی برآمدات بڑھ جائیں تو ملک پیروں پر کھڑا ہونا شروع ہوجائیگا۔آئی ایم ایف سے قرض لینے کے باعث دس لاکھ افرادبے روزگار ہوتے ہیں۔ پی آئی اے اور اسٹیل مل جیسے اداروں کی نجکاری اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ان کا بحران ختم نہ ہو۔نجکاری سے بے روزگاری بڑھے گی جس سے معیشت کا پہیہ مزید جام ہوجائیگا ۔ان اداروں میں صرف گورننس کا مسئلہ ہے۔ اگر انتظام کاری ٹھیک ہوجائے تو سرکاری ادارے منافع بخش ہوسکتے ہیں۔
 

شیئر: