ٹریفک جرمانہ 20ہزار ریال تک پہنچنے پر30روز میں جمع کرانا ہوگا ، البسامی

      ریاض-  - - - محکمہ ٹریفک کے ڈائریکٹر میجر جنرل محمد البسامی نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی سعودی یا مقیم غیر ملکی پر پے در پے خلاف ورزیوں کے باعث ٹریفک جرمانہ 20ہزار ریال تک پہنچ جائے توایسی صورت میں اسے زیادہ سے زیادہ 30روز کے اندر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ ٹریفک قانون نے خلاف ورزیاں کرنے والے کو اپنی  غلطیوں سے سبق لینے اور سڑکیں استعمال کرنے کے سلسلے میں اپنے غیر ذمہ دارانہ رویے کو درست کرنے کے مناسب مواقع فراہم کئے ہیں۔ ان سے فائدہ نہ اٹھانے پر ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف قانونی کارروائی پر مجبو رہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کر کے ایک سال کے اندر اندر دوسری بار اسی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے تو ایسی حالت میں اسے انتہائی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ پہلی بار خلاف ورزی پر اسے انتہائی سزا نہیں دی جاتی۔ البسامی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ٹائراسکریچنگ کی شکل یہ ہے کہ ڈرائیور 4پہیوں کے بجائے 2پہیوں پر گاڑی چلائے یا گاڑی کو جھکا کر چلانے کا شوق کرے یا موٹر سائیکل سوار   ون ویلنگ کر ے یا گاڑی چلانے والا ڈرائیونگ کے  دوران گاڑی سے باہر نکلنے کا مظاہرہ کرے ۔ یہ ایسی صورتیں ہیں جن پر ڈرائیور کوانتہائی سزادی جاتی ہے۔ البسامی نے بتایا کہ ٹریفک قانون نے خلاف ورزی کرنے والو ںکو متعدد حقوق دیئے ہیں۔ اسے خلاف ورزی کی اطلاع ملنے کے 30روز کے اندر اندر اعتراض کا حق دیا گیا ہے۔ 30روز بعد عدالت معقول عذر کی بنیاد پر  اس کا اعتراض قبول کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اعتراض ریکارڈ کرانے پر 6ماہ تک جرمانے کی ادائیگی میں تاخیر کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ اگر کسی نے جرمانہ کی اطلاع ملنے پر شکایت درج کرا دی ہو تو ایسی صورت میں اسے 6ماہ تک جرمانہ ادانہ کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ البسامی نے گاڑی چلانے کا مختار نامہ دینے کے فوائد کی بابت سوال کے جواب میں کہا کہ اگر نجی ڈرائیور یا کسی اور شخص کوگاڑی چلانے کا مختار نامہ دیا گیا ہو تو ایسی صورت میں مالک کو متعدد فائدے ہوں گے۔ پہلا تو یہی ہو گا کہ اگر کوئی خلاف ورزی ایک برس کے دوران دہرانے پر بھاری جرمانہ مقرر ہے او رپہلی خلاف ورزی گاڑی کے مالک نے کی ہے او ردوسری خلاف ورزی نجی ڈرائیور یا مختار نامہ رکھنے والے نے کی ہے تواس پر انتہائی جرمانہ نہیں ہوگا۔ گاڑی کا مالک کسی بھی وقت مختار نامہ جاری بھی کرسکتا ہے اور اسے ابشر ہی کے ذریعے منسوخ بھی کر سکتا ہے۔ البسامی نے بتایا  کہ نشہ آور اشیاء کے اثر میں گاڑی چلانے پر حادثہ ہونے کی صورت میں معاملہ پبلک پراسیکیوٹر کے حوالے ہو جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حادثہ ہونے کی صورت میں گاڑی کو اس کی جگہ سے ہٹانے کی قانوناً اجازت نہیں بعض حالات اس سے مستثنیٰ ہیں جن کی  نشاندہی کی جا رہی ہے۔ ٹریفک خلاف ورزی پر اعتراض آن لائن ریکارڈ کرانے کی تیاریاں بھی ہو رہی ہیں۔ اگر حادثے کے بعد ڈرائیور نے محکمہ ٹریفک کو مطلع نہیں کیا یا جائے وقوع سے فرار ہو گیا توایسی صورت میں اس کا خصوصی احتساب ہوگا۔ البسامی نے بتایا کہ بعض لوگ انشورنس کمپنی کو دھوکہ دینے یا گاڑی کے مالک ادارے کو بیوقوف بنانے کیلئے فرضی ٹریفک حادثات کرتے ہیں۔ اس پر قانون میں باقاعدہ سزا مقرر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرائیونگ اسکول میں ٹریننگ کی کم از کم مدت  6گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ 30گھنٹے ہے۔ انہوں نے خوشخبری سنائی کہ مملکت بھر میں 9نئے ڈرائیونگ اسکول خواتین کیلئے قائم کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریفک کورٹس وزارت انصاف کے ماتحت ہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی شخص نے بغیر ڈرائیونگ لائسنس رکھنے والے کو گاڑی حوالے کی تو ٹریفک حادثے کی صورت میں گاڑی کا مالک فریق ثانی کو پہنچنے والے نقصان میں برابر کا شریک ہوگا۔
مزید پڑھیں:- -  - - -سعودی لڑکیوں کی موت دریا میں ہوئی، پوسٹ مارٹم
 

شیئر: