ہر انتخابات پرتبدیلی کی آس لگانے والے ،بے بس عوام

عنبرین فیض احمد۔ ینبع
 
عصر حاضر میں وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں جو چیزیں حائل ہیں وہ ہیں بدعنوانی و کرپشن جس کی وجہ سے پاکستان کی ترقی متاثر ہورہی ہے ۔ یہ ہر پاکستانی کو معلوم ہے کیونکہ ملک کا پہلے یہ حال نہ تھا ۔ماضی میں ہر شخص سکھ چین کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ اگر ہم اپنے ملکی نظام پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ چند بدعنوان عناصر ہمارے ہم وطنوں کی تعلیم ، صحت غرضیکہ ہر بنیادی ضرورت کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جن کی بدولت آج پاکستان میں 50سے 60فیصد آبادی غربت کی لکیرسے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ انہیں پینے کے لئے صاف پانی ، طبی سہولتیں ، تعلیم ، بجلی ، گیس اور اسی قسم کی لازمی ضروریات زندگی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ طبقہ گداگری اوردیگر جرائم میں مبتلا ہو جاتا ہے او رانجام کار ملک میں جرائم پیشہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اس لئے یہ بات بہت اہم ہے کہ ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ آج ہمارا ملک جس نہج پر پہنچا ہوا ہے، اس کا سبب صرف اور صرف بدعنوانی اور کرپشن ہے ۔ ہرمحب وطن پاکستانی بدعنوانی اور کرپشن سے پاک ملک کا خواب دیکھتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ میں ہر فرد” ایک پیج پر“ ہے اور ظاہر ہے مقاصد کے حصول کے لئے ایمان داری، محنت، حب الوطنی اور خلوص نیت لازمی شرط ہے جس کے بغیر ہم اپنے خوابوں کو پورا نہیں کر سکتے۔
بلاشبہ ہم پاکستانی صلاحیتوں کے اعتبار سے کسی طور بھی دوسری اقوام سے کم نہیں۔ اس لئے ہمیں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے بارے میں ضرور سوچنا چاہئے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے بعد اگر کسی چیلنج کا سامنا ہے تو وہ ہے بدعنوانی و کرپشن جس سے ملک کو بڑا خطرہ ہے۔ چند لوگ ملک میں کرپشن کر کے اس کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر دینا چاہتے ہیں اور اس کے بل پر خود راتوں رات امیر بننے کا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں۔ یقینا باکردار قوموں کو دنیا کی کوئی طاقت زیر نہیں کر سکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم پاکستانی ایک باصلاحیت ، باوقار اور مہذب قوم ہیں۔ اگر ان کرپٹ عناصر سے لوٹی ہوئی ملکی دولت کو واپس ملک میں لایا جائے تو یقینا ملکی حالات بہتر ہوں گے۔ اس لئے ہمیں اپنے ملک کو مستحکم بنانے کے لئے ہمہ وقت کوششیں کرنی چاہئےں۔ وطن عزیز کرپشن اور بدعوانیوں کی دلدل میں گھرا ہو ا ہے۔صاحبان اختیار میں سے کتنے ہی ایسے ہیں جوکسی نہ کسی طور پر کرپشن زدہ ہیں۔ پاکستان کے میڈیا ، اخبارات و جرائدمیں شائع ہونے والی خبروں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان میں یہ لوگ کس حد تک لوٹ مار میں ملوث ہیں۔ہم کرپشن کی کن حدوں کو چھو چکے ہیں لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کئی ایماندار افسر ان اپنی ایمانداری کی وجہ سے پس منظر میں جا چکے ہیں۔ ایمانداری سے کام کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے لیکن اگر ہم دلجمعی سے کام کرتے رہیں تو یقینا کوئی کام بھی مشکل نہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو تمام نعمتوں سے نوازا ہے لیکن ہم اس کی قدر نہیں کر رہے ۔ مجموعی طور پر یوں کہئے کہ ہم احسان فراموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پاکستان تو نعمت ہے لیکن ہم نے اس نعمت کو اپنی خودغرضی اور لالچ کے تیشہ سے زخمی کر دیا ہے۔ قوم کا ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہوتا ہے اور یقینا فرد سے ہی قوم بنا کرتی ہے۔ اگر ملک کا ہر فرد اپنا احتساب خود کر نا شروع کر دے تو ملک میں کبھی بگاڑ پیدا نہیں ہو سکے گا۔ ہماری یہ بدقسمی رہی ہے کہ ہمیں قائداعظم کے بعد ملک میں کوئی ایسا نظر نہیںآیا جسے ہم صحیح رہنما کہہ سکیں۔ 
المیہ تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو بھی ملکی کشتی کی پتوار سونپی گئی انہو ںنے پہلے اپنے مفاد کا کام کیا اور عوام کی خدمت پرتوجہ نہیںدی صرف اپنی تجوریاں بھریںلیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بااختیارصاحبان ہی کرپٹ ہوں تو ایک عام شہری سے ہم ایمانداری اور دیانتداری کی کیسے توقع کر سکتے ہیں۔کرپشن اور بدعنوانی نے ملک کو گھن کی طرح نقصان پہنچایا ہے۔پیسے کے لالچ اور ہوس نے لٹیروں کو امیر بنا دیااور ملک کو غربت کے دہانے پر لاکھڑا کردیا۔ عالیشان کوٹھیاں ، قیمتی گاڑیاں اور شاہ خرچیاں ، یہ سب کرپشن کے بغیرکس طرح ممکن ہو سکتی تھیں ۔ چہرے پہ نقاب چڑھا کر ایسے لوگ وطن عزیز میں دندناتے پھرتے ہیں۔ کرپشن کا مال تلاش کرنے کے لئے کسی آلے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ کالا دھندہ کرنے والوں کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی طرح قانون کی گرفت سے بچ کر نکل جاتے ہیں مگر غریب عوام غربت کی چکی میں پستے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غربت وطن عزیز میں کسی ناگ سے کم نہیں جو پھن پھیلائے غریبوں کو ڈسنے کے لئے کھڑی ہے۔ دراصل کسی بھی ملک میں مسائل کی بہتات ذمہ داروں کی غیر ذمہ داری کا ثبوت ہواکرتی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں خوشحال لوگ بھی قرضوں میں جکڑے جا رہے ہیں۔ برسراقتدار طبقہ دیانتدار ہوتو معاشرے کے دیگرطبقات میں بدعنوانی کا عنصر پروان نہیں چڑھ سکتا لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا معاشرہ رشوت ، سفارش، اقربا پروری ، بے ایمانی اور بددیانتی کے ایسے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے کہ صاحبان اختیار و بے اختیار سبھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ دوسری جانب ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ متوسط طبقہ جس کی کمر پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے دہری ہوئی جا رہی ہے مگر وہ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے کیا کچھ نہیں کرتا ۔دیکھنے والوں کو اندازہ ہی نہیں ہوپاتا کہ ان کے گھر کے حالات کیا ہیں۔ 
ملک میں بھیانک مہنگائی نے سب سے زیادہ متوسط اور نچلے طبقے کے لوگوں کو ہی متاثر کیا ہے۔ انہیں اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کے لئے شدید ذہنی اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔اس طبقے کے لوگوںکی حالت یہ ہے کہ بیچارے نہ ہی راتوں رات امیر بن سکتے ہیںاور نہ ہی کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں ۔ وہ بیک وقت اپنی بدترین غربت کو کسی نہ کسی طرح دنیا کی نظروں سے چھپانے کے لئے جان توڑ کوشش کرتے اور ساتھ ہی خوشحال ، خوش پوش اور مطمئن نظرآنے کی اداکاری بھی کرتے ہیں تا کہ دنیا کو ان کی اصلیت کا پتہ نہ چل سکے۔ اگر ملک میں کرپشن کے ذریعہ لوٹی ہوئی دولت کو واپس لے آیا جائے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو کسی سے قرض لینے کی بات کرنے کی ضرورت پیش نہیںآئے گی اور پھر اس رقم سے ملک کے قرضے اتار کر قومی معیشت کو فروغ دیا جا سکے گا پھر ملک میں خوشحالی کا پہیہ بھی گھومے گا او رغربت کا خاتمہ بھی ہو گا۔ 
دھنک کے صفحے پر دو خواتین دکھائی دے رہی ہیںجن میں سے ایک خاتون کسی گہری سوچ میں ڈوبی دکھائی دے رہی ہے جبکہ دوسری خاتون موبائل فون پر اپنے شوہر سے مہنگائی کا رونا رو رہی ہے ۔ پاکستان اور تیسری دنیا کے کئی ممالک جن کا شمار غریب ملکوں میں ہوتا ہے ان سب کا ایک ہی جیسا حال ہے۔ ان کے اکثرکرتا دھرتاکرپٹ اور بدعنوان ہیں اور ان کے عوام کا یہ عالم ہے کہ جہالت کی آخری حدوں کو چھورہے ہیں۔ ان سب میں قدر مشترک یہ ہے کہ ان ممالک کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ غربت بھی کیسی چیز ہے جو ہر کسی کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش میں رہتی ہے۔ کسی زمانے میں پاکستان یا تیسری دنیا کے عوام کی بہت کم تعداد غریب ہوا کرتی تھی شاید 20سے25فیصد تک تھی لیکن جوں جوں وقت نے اپنی اڑان بھری، ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ یہ غربت کی لکیر بھی بڑی ظالم ہے ، یہ لوگوں کواپنے سے نیچے رکھتی ہے۔آج یہ حال ہے کہ ہماری آبادی کا 50سے 60فیصدحصہ خطِ غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔یہ لوگ زندہ ہیں مگرشب و روز ایڑیاں رگڑ رہے ہیں دو وقت کی روٹی کیلئے ، صحت کیلئے ، تعلیم کیلئے اور سب سے بڑی چیز اپنے سائبان کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں او رہر انتخابات پربے چارے بے بس عوام یہ آس لگائے بیٹھے رہتے ہیں کہ شاید ان کے حالات میں تبدیلی آئے مگر انتخابات بھی ہوتے ہیں منتخب نمائندہ بھی آتے ہیں مگر غریبوں کی حالت زار ویسی ہی رہتی ہے۔ 
پاکستان جب وجود میں آیا اس دور میں جو لوگ غریب تھے ان کی نسلیں آج 70برس بیت جانے کے بعد بھی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہ آج بھی لاچاری او رمجبوری کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ غربت تو ہے ہی ظالم مگر عوام بھی اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کی کوشش نہیں کرتے کیونکہ ان کے اندر آگے بڑھنے کی نہ کوئی لگن ہے اور نہ ہی کوئی سوچ۔ وہ ایسے حالات سے لڑنے کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتے۔ سچ ہے کہ اس کی حالت کبھی نہیں بدلتی جو اپنے حالات کو تبدیل کرنے کی چاہ نہیں رکھتا۔ زندگی میں تبدیلی اس وقت آتی ہے جب انسان خود اس کی کوشش کرتا ہے ورنہ زندگی میں تبدیلی کبھی تحفتاً پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی ۔اس کے لئے محنت اورلگن ضروری ہوتی ہے۔
آج ہماری حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے قرضوں کا بوجھ ملک پر بڑھتا چلا جا رہا ہے او رملکی آمدنی کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں بحیثیت پاکستانی اپنا کردار اداکرنے کی ضرورت ہے۔ آج چین، تائیوان ، سنگا پور جیسے ممالک جو پاکستان کے ساتھ ہی وجود میں آئے، وہ ہم سے معاشی نظام کی تعلیم لینے کے لئے آتے تھے، وہ آج کس عروج پر ہیں اور ہم کس دوراہے پر پہنچے ہوئے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہماری زبوں حالی کا جو حال ہمیں نظر آرہا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ حکومتی کارندوں کی شہ خرچیاں اور حکومتی اداروں کی نااہلی او رپھر قرضہ لینے کا رحجان ہے۔ ان کی وجہ سے ہمارے ملک میں تباہی آئی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم متحد ہو کر حکومت کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کریں۔تب ہی جا کر ملک میں خوشحالی کا سورج طلوع ہوگا ورنہ عوام غربت کی چکی میں پستے رہیں گے۔ 
 

شیئر: