اسلامی تہذیب کی بقا ، ہر مسلمان کی ذمہ داری

 اگر تم کسی قوم کو دیکھو کہ وہ ناحق ہونے کے باوجود ترقی کررہی ہے تو سمجھ لو کہ کوئی حق چیز انکے ہاتھ لگ گئی ہے

 

*  * *حافظ محمد سیف الاسلام مدنی ۔  کانپور*  * *

اسلام دنیا کا سچا مذہب ہے اور اللہ رب العالمین نے مسلمانوں کو ایک بہترین نظام دیا ہے، ایک قانون دیا ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں انسانیت کی رہنمائی کو محیط ہے۔
    نکاح و طلاق، حیات و ممات، معاشرت، حسن اخلاق، احسان کے تمام شعبوں میں جو رہنمائی مذہب اسلام نے کی ہے کسی اور مذہب میں اسکی نظیر تلاش کرنا وقت کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
    اقوام عالم میں مسلمان وہ قوم ہے جو سب سے زیادہ مہذب ہے اور سب سے اچھی تعلیم و تہذیب رکھتی ہے۔ مسلمانوں کی ایک شان ہے دیگر مذاہبِ باطلہ سے۔    مذہب، اسلام کو نمایاں اور عالمی نقشہ پر مسلمانوں کی شناخت کو واضح کرتا ہے۔ ایک دور تھا جب مسلمان نکاح و طلاق، تربیت اولاد، کھانے پینے اور ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کرنے میں اسلامی تہذیب و ثقافت پر عمل کرنے والے تھے لیکن وقت کے ساتھ حالات نے مسلمانوں سے انکی تہذیب چھین لی اور مسلمان اغیار کے طرز کو فالو کرنے لگے اور اسلامی تعلیمات سے کنارہ کش ہونے لگے، یہی وجہ ہے کہ آج پورے عالم میں مسلمان پسپا ہورہا ہے اور باطل دن بدن عروج پر جارہا ہے۔
    جو چیزیں خالص مسلمانوں کیلئے تھیں اور جن تعلیمات پر خاص طور سے اہل اسلام کو عمل کرنا چاہئے تھا، آج ان تعلیمات پر غیر قومیں عمل کرکے اپنے لئے ترقی کی راہ ہموار کررہی ہیں۔مفتی شفیع صاحب عثمانی رحمتہ اللہ علیہ سابق مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند نے فرمایا تھا کہ اگر تم کسی قوم کو دیکھو کہ وہ ناحق ہونے کے باوجود، ترقی کررہی ہے تو سمجھ لو کہ کوئی حق چیز انکے ہاتھوں لگ گئی ہے۔
    آج یورپ اور امریکہ مادیات میں ترقی کررہے ہیںاور وہاں کی خاص بات ہے کہ وہاں کہ لوگ محنتی، جفاکش، امانت دار، دیانت دار اور صفائی پسند ہیں۔ انکے اندر معاملات کی صفائی موجود ہے۔ وہ وقت کا استعمال صحیح طور پر کرنا جانتے ہیں بر خلاف مسلمانوں کے کہ یہ تمام کام انہی کے تھے مگر مسلمانوں کی توجہ اس طرف سے یکسر ہٹ گئی۔یہ اور بات ہے کہ یورپ اور امریکہ کے اندر جنم لینے والی برائیوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔لبرل ازم، روشن خیالی، الحادی اور ارتدادی نظریات انسانی حقوق کی پامالی، فحاشی، عریانیت، سیکسول ایکٹویٹیز ان ممالک میں عروج پر ہیں۔ان برائیوں کے باوجودان ممالک کی اچھی باتوں سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔
     افسوس اس بات کا ہے آج مسلم اقوام میں بھی مغربی تہذیب کی کرن تیزی سے پھیل رہی ہے اور برصغیر کے جمہوری اور اسلامی ممالک میں آزاد خیالی کے نعرے لگائے جارہے ہیں اور مغرب کی تہذیب کو باقاعدہ طور پر فالو کیا جارہا ہے حالانکہ اسلام کی اپنی ایک تعلیم اور تہذیب ہے جس میں انسانیت کے حقوق کی رعایت بھی ہے، معاشرہ کے اندر سے بے حیائی کے خاتمے کیلئے قیمتی تعلیمات موجود ہیں۔ نکاح و تقریبات کے موقع پر ہونے والی خرافات کے سد باب کیلئے لگام بھی ہے اور انسانیت کی تعلیم وتربیت کے لئے انمول خزانہ بھی۔
    سید الکونین جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
    ’’جب تمہاری اولاد 5 برس کی ہوجائے تو اسکی تعلیم کا انتظام کرو، اور تمہاری اولاد کاجو پہلا کلمہ ہو وہ لا الہ الا اللہ ہو۔‘‘
     ہم نے اپنی اولاد کو شیر خواری میں ہی انگریزوں کی تعلیمات سکھائیں۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد لڑکپن میں ہی موبائل کا قیمتی تحفہ دیا اور ٹی وی پر من چاہا پروگرام دیکھنے کی کھلی اجازت دی تو کیا بڑا ہوکر انکی یہ عادتیں چھوٹ جائینگی۔
    ایک وہ مائیں تھیں جو اپنوں بچوں کو دودھ بھی پلایا کرتی تھیں تو’’ حسبی ربی جل اللہ، ما لقلبی غیر اللہ‘‘ کی صدائیں لگایا کرتی تھیں اور دودھ کے ایک ایک قطرہ کے ساتھ ان بچوں کے اندر اسلامی تہذیب اور توحید کی معرفت بھی داخل ہوا کرتی تھی۔
    بے حیائی اور عرنانیت و لبرل خیالی اب مسلمانوں کے اندر بھی تیزی سے جگہ بنارہی ہے۔ شادی بیاہ کی وہ تقریبات جو خالص اسلامی اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہونی چاہئے، ان تقریبات میں بے حیائی کا سیلاب امنڈا ہوا ہے۔یہاں ایک ہی پنڈال اور ایک ہی مقام پر مردوں اور عورتوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ ان تقریبات میں ایک اجنبی شخص کے ذریعے عورتوں کی مجلس میں جا کر ان کی ویڈیوگرافی بھی تیارکی جاتی ہے اور شرم و حیاء کا جنازہ نکالا جاتا ہے حالانکہ حیا ء کو اسلام کا ایک اہم شعبہ قرار دیا گیا ہے۔ اکثر زنا کاری اور عورتوں کی عصمتیں بے حیائی کی وجہ سے نیلام ہوتی ہیں۔
    اسلام نے عورتوں کو پردہ کا حکم دیا ہے اور مردوں کو نگاہ نیچی رکھنے کا ،مگر نہ تو ہمارے قوم کے مردوں میں اسکی فکر ہے اور نہ عورتوں کو۔
    آج کی مسلم خواتین نقاب میں بھی اس قدر جاذب نظر دکھائی دیتی ہیں کہ وہ لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بن جاتی ہیں۔اسلام میں برقع فرض نہیں پردہ فرض ہے مگر خواتینِ اسلام لوگوں کی بھیڑ میں ایسے نقاب اور ایسے لباس زیب تن کرتی ہیں جو مردوں کی جستجو کومزید بڑھا دیتا ہے۔
    عورتوں کے بارے میں اسلامی تعلیم یہ ہے کہ جب وہ ضرورت کی وجہ سے گھر سے باہر نکلے تو آرائش کا اظہار نہ کرے، عام گزرگاہ سے بچ کر کنارے چلا کرے، اجنبیوں سے ضرورتاً بات کرتے وقت آواز میں کشش اور شیرینی نہ ہو۔
    یہ وہ تعلیمات ہیں جو ایک بہتر معاشرہ بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔اخلاق و گفتار میں اسلامی تعلیم یہ ہے کہ سب سے زیادہ سچائی کو پسند کیا جائے اور جھوٹ سے بچا جائے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سچائی کا انجام جنت اور جھوٹ کا انجام دوزخ کو بتایا ہے (بخاری ومسلم)۔
    قرآن کریم نے سیدھی اور سچی بات کو اعمال کی درستی اور گناہوں کی معافی کی ضمانت قرار دیا ہے۔اس لئے کہ انسان جو کچھ بولتا ہے دنیا میں تو وہ رنگ لاتا ہی ہے، آخرت کے لئے بھی اسکے یہ بول محفوظ ہوجاتے ہیں۔ عنقریب جس کا حساب لیا جائیگا انسانوں سے گفتگو کے آداب میں یہ بھی ہے کہ نرم گفتگو کی جائے اور درشتی سے پرہیز کیا جائے ۔حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو جب
 فرعون کے پاس دعوت ِایمان دینے کے لئے بھیجا گیا تو خاص طور پر نرم کلامی کی ہدایت کی گئی (سورہ طٰہٰ)۔
    کسی کے گھر میں جانے کے وقت اسلام ہماری رہنمائی اس انداز میں کرتا ہے کہ اے ایمان والو! اپنے گھرو ںکے سوا دوسروں کے گھروں میں اہل خانہ کو سلام کئے بغیر اور اجازت لئے بغیر داخل نہ ہو، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ امید ہے کہ تم اس سے نصیحت حاصل کروگے۔ اگر تم وہاں کسی کو نہ پاؤ تب بھی جب تک اجازت نہ مل جائے داخل نہ ہواور اگر واپس ہونے کو کہا جائے تو واپس ہوجاؤ یہی تمہارے لئے پاکیزہ ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔
    یہ وہ تعلیم اور تہذیب ہے جس کی حفاظت کرنا اور جس پرعمل کرنا اہل اسلام کی ذمہ داری ہے۔ آج قوم ِ مسلم اپنا جائزہ لے کہ وہ کتنا اسلامی تعلیم پر عمل کرتا ہے۔
    آخر اللہ رب العزت کی جانب سے انسانیت پر ہونے والے انعامات، چاند کی ٹھنڈک، گلاب کی رنگت، موتیوں اور بیلوں کی خوشبو ،باد نسیم کے جھونکے ساون کی بہار اور برسات کا نکھار، یہ سب اسی لئے ہیں کہ انسانیت کی ثابت قدمی کا امتحان لیا جائے اور انسان کے ورع و تقویٰ اطاعت و فرمانبردای کا امتحان ہو کہ انسان اس دنیا میں اللہ کے قانون پر عمل پیرا ہوتا ہے یا دنیا کی رنگینیوں میں پڑ کر خالق و مالک کو بھلادیتا ہے!    اطاعت و فرمانبرداری کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنے مقام کو پہچانیں اور ہر ممکن اسلامی تعلیم اور تہذیب پر عمل کرنے والے بن جائیں۔ اغیار کی تہذیب کو ہر ممکن چھوڑنے کی سعی کی جائے تو کسی حد تک اسلامی تعلیم اور تہذیب کا فروغ ہماری زندگی میں،معاشرے میں اور عالم میں ہوگا۔

مزید پڑھیں:- - - - - -اسلام نوجوانوں سے کیا چاہتا ہے؟

شیئر: