جہیز کی لعنت سے کب چھٹکارا ملے گا

بچپن سے جہیز کی لعنت کے بارے میں سنتے آئے ہیں۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اس کے خلاف بڑی آواز اٹھائی گئی۔ خواتین ممبران نے بڑھ چڑھ کر اس کے خلاف مہم چلائی لیکن معاشرہ جب گونگا بہرا ہو اور پھر اس ملک کی اکثریت ہندوستان سے تعلق رکھتی ہو، چاہے لوگ ہجرت کر کے آئے ہوں یا اسی دیس کے باسی ہوں ہندوﺅں کا اثر یقیناً ان پر ہوا جو تقسیم برصغیر کے بعد بھی لمبے عرصے تک باقی رہا اور شاید ابھی تک ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مزید خرابی پیدا ہوگئی ہے تو بیجا نہیں ہوگا۔دین اسلام میں جہیز کو ہمیشہ ہی بری نظر سے دیکھا گیا ہے۔ یہ تو ہمیں ہندوﺅں سے وراثت میں ملا۔ ہندو مت میں لڑکی کا حصہ وارثت میں نہیں ہوتا اس لئے اس کی شادی کے وقت باپ اس کے گھر کا سازو سامان سات پھیروں کے ساتھ ہی دے دلا کر فرض سے بری ہوجاتا ہے لیکن اسلام میں تو لڑکیوں کو تو شراکت دار ٹھہرایا گیا ، باپ کی جائیداد میں اس کا حصہ دینے کا حکم موجود ہے۔ شریعت یہی کہتی ہے اور شریعت کی تعمیل کے بغیر دینی فرائض مکمل نہیں ہوتے۔تاریخِ اسلام اس کی گواہ ہے۔ نبی کریم نے اپنی پیاری بیٹی فاطمہ زہرہؓ کے نکاح کے وقت ایک مشک اور ایک چکی اپنے لخت جگر کو دی اور بس.... حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نکاح سے پہلے حضور ﷺنے پوچھا کہ کیا ان کے پاس حق مہر موجود ہے؟ نفی میں جواب ملنے کے بعد رسول خدا نے فرمایا جاﺅ اور اپنی کچھ چیز بیچ کر مہر کی رقم جمع کرو اس لئے کہ یہ حکم الٰہی ہے۔ حضرت علیؓ نے وہی کیا جو ان سے کہا گیا تھا۔لفظی معنوں میں جہیز تیاری یا تیاری کے سامان کو کہتے ہیں، ہندی میں اسے ”دان“ یا ”کنیادان“ کے نام سے پکارا جاتا ہے جس کے معنیٰ خیرات کے ہیں۔ جہیز عربی کا لفظ ہے جس کے معنی وہ سامان ہے جو والدین اپنی بیٹی کو رخصتی کے وقت تحفتاً دیتے ہیں۔ تحفے کا لین دین محبت، ہمدردی اور مدد کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔اگر اپنی حیثیت سے بڑھ کر دیا جائے تو اختلافات اور دوسروں کےلئے وسائل کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک اور بات جس سے کہ 90 فیصد لوگ نابلد ہیں اور اسے جاننے کی ضرورت ہے کہ بیٹی کے گھر شادی کا کھانا نہیں ہوتا۔ نبی کریم نے ولیمے کی تلقین کی ہے۔ آج بھی نہ جانے کتنی لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی صورت میں بال سفید کر بیٹھی ہیں۔ والدین مجبور ہیں کہ لمبی چوڑی رقم، کار، بنگلہ، کوٹھی، نوکر چاکر کہاں سے دولھا میاں کو دیئے جائیں کہ ان کے والدین کی ہوس پوری ہوسکے، کم جہیز کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں کی زندگی عذاب ہوجاتی ہے۔ آج کل معاشرہ انسانیت کی جگہ دولت کو اہمیت دیتا ہے۔ہم نے اپنے دین اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات کو بھلا دیا۔یہی وجہ ہے کہ کئی برائیوں نے جنم لینا شروع کردیا ہے بلکہ اس نے تو اب معاشرے میں گھر بنا لیا ہے۔ ہم بھول گئے کہ اسلام میں جہیز کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ضرورت ہی نہیں۔ اسلام دین فطرت ہے۔ اس میں اصل چیز تعلیم و تربیت ہے، گھر کو سنبھالنا ہی شادی شدہ عورت کا سب سے بڑا فرض ہے۔ایک بات اور کہتا چلوں کہ شادی شدہ لڑکی یا بہو اپنے خاوند کی خدمت گار ہوتی ہے۔ اگر وہ خود اپنی مرضی سے ساس، سسر، نندوں کی رکھوالی اور خیال رکھے تو اور بات ہے، لیکن شوہر اسے ماں باپ اور بہنبھائیوں کی خدمت پر مجبور نہیں کرسکتا۔ ایسا کرنا دین کے خلاف ہے۔افسوس ہمارے معاشرے میں جہیز کی وجہ سے شادی بیاہ ایک بہت بڑی لعنت بن گئی ہے۔ لڑکی کی شادی کا وقت آتا ہے تو ماں باپ گہری سوچ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ امیروں کی بات چھوڑیے ان کے پاس تو دولت ہے جس سے سب کچھ ہوسکتا ہے، بیچارا اوسط آمدنی کا مرد جہیز کہاں سے پورا کرے۔ ہمارے علمائے دین کو کاش اس پر بھی بولنے کا موقع مل جائے۔ معاشرتی مسائل کی طرف توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ یہی تو المیہ ہے۔ بیٹیاں گھر پر بیٹھی رہ جاتی ہیں اور والدین ان کی خوشیاں پوری کرنے کی تمنا لیے اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، اس پر کسی کو فکر نہیں ہوتی۔ جہیز کی لعنت کو آج کل دنیا کی نمود و نمائش کا اہم ترین حصہ بنادیا گیا ہے۔ لوگ جہیز دینے میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی فکر کرتے ہیں۔ اگر لڑکا بہت غریب ہو تو اس صورت میں لڑکی کے والدین اس کی ضرورت کو پوری کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ یہ ہمدردی کہلاتی ہے۔ جہیز نہیں۔ معاشرے کو جہیز کی لعنت سے پاک کرنے کا فرض ہم سب پر عائد ہوتا ہے۔ عالم دین ہو یا عام آدمی جسے مذہب پر دسترس نہیں لیکن سب کو یہ معلوم ہے کہ لڑکی مالک کائنات کی نعمتوں میں ایک بے بہا نعمت ہے پھر اسے بوجھ کیوں بنادیا جاتا ہے؟ یہ غور کرنے والی بات ہے۔
ہماری پارلیمنٹ کے اراکین کو چاہیے کہ وہ اس پر بھرپور آواز اٹھائیں، قوانین بنائے جائیں تاکہ کچھ تو قدم اس سمت میں آگے بڑھیں۔
علامہ اقبال نے کہا تھا کہ 
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
موج ہے دریا سے بیرون دریا کچھ نہیں
ہم اگر معاشرے کو سدھارنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو بہت بڑا کام ہوگا۔ 
 

شیئر: