کہاں ہے تبدیلی؟ آپ ہی لکھئے

پاکستان میں معصوم بھی ہیں، مظلوم بھی، حاکم بھی ہیں ، محکوم بھی، طالب بھی ہیں، مطلوب بھی، غالب بھی ہیں مغلوب بھی، جابر بھی ہیں ، مجبور بھی ، گمنام بھی ہیں ، مشہور بھی ،بے زر بھی ہیں ، زردار بھی، بے گھر بھی ہیں اورگھر دار بھی،ہر طرح کی شخصیات وطن عزیز میں موجود ہیں ۔ پاکستان 20کروڑ سے زائدافراد پر مبنی قوم کا مسکن ہے ۔ اس کی  ترقی و خوشحالی کے خواب دیکھنے اور دکھانے والوں کی بھی کمی نہیں۔ کئی نسلیں ترقی  کے خواب کے تانے بانے بنتی اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔ ہر آنے والا کہتا ہے کہ ماضی میں ملک کو برباد کیاگیاجبکہ ہم نے اقتدار میں آتے ہی ’’جوتے سیدھے‘‘ کر لئے ہیں اور ملک ترقی کی شاہراہ پر دوڑ رہا ہے ۔’’عمرانی حکمرانی ‘‘ کا نیا دور شروع ہو چکا ہے جس میں پرانے رٹے رٹائے خواب نہیں بلکہ ’’تبدیلی‘‘ یقین دہانی کرائی گئی ہے لیکن ہمیں یقین زمانی چاہئے  اور وہ اسی وقت میسر آئے گا جب ایسے مجبور باپ اور بچوں کو بھی چھت میسر آجائے گی جو آج ایک وقت کی روٹی کمانے کے لئے اپنے بچوں کے ساتھ شدید سردی میں سڑک کے کنارے ٹوکریاں اور کھلونے فروخت کرنے پر مجبور ہے۔
 آپ کیا کہیں گے؟
 
 

شیئر: