سلطنت عمان کا کردار مثبت ہے ، فلسطینی عہدیدار

***صالح القلاب ۔ الشرق الاوسط***
فلسطینی صدر محمود عباس کو سلطان قابوس کا مکتوب مل گیا ۔اسکے باوجود عمانی وزیرخارجہ یوسف بن علوی مسلسل یہی کہہ رہے ہیں کہ ان کا ملک فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان کوئی ثالثی نہیں کر رہا ۔ اس کا دائرہ کار امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری کر دہ ’’ صدی کے سودے‘‘کے حوالے سے فریقین کو افکار و خیالات پیش کرنے تک محدود ہے ۔ فلسطینی صدر کے قریبی ذرائع تردید کر چکے ہیں کہ انہیں اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ عمان کا پہلے سے کوئی علم نہیں تھا ۔تردیدی بیانات کے باوجود عام احساس یہی ہے کہ اس سارے کھیل میں امریکہ کا ہاتھ ہے ۔ اسرائیلی وزیراعظم ہاٹس آن لائن پرجاری شدہ بیان میں کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے عمان کا دورہ طویل مشاورت اور رابطہ جات کے بعد ہی کیا ۔ 
نتنیاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے سلطان قابو س کیساتھ مشرق وسطیٰ امن عمل میں پیشرفت کے طریقوں اور خطے کے امن و استحکام کی خاطر دونوں ملکوں کی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ وائی ای این ٹی ویب سائٹ پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلسطین اسرائیل امن کے موضوع پر باقاعدہ کوئی چیت نہیں ہوئی ۔ اس بیان سے اس سوچ کو تقویت پہنچی جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ نہیں بلکہ عرب ممالک کے ساتھ امن کا خواہاں ہے ۔ یہ ہدف بعید ازامکان ہے ۔ وجہ ظاہر ہے کہ مسئلہ فلسطین کے مطلوبہ شکل میں حل کے بغیر سلطنت عمان سمیت کوئی بھی عرب ملک اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار نہیں کر سکتا ۔ 
اسرائیلی جریدے یدیعوت احرونوت کی ویب سائٹ نتن یاہو کے دورۂ مسقط میں حد سے زیادہ پھونک بھر رہی ہے ۔ اس نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ تذکرہ بھی کیا کہ نتن یاہو کا دورہ مسقط فلسطینی صدر کے دورہ عمان کے بعد عمل میں آیا ۔ 
امریکی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ نے توجہ دلائی کہ نتن یاہو کے دورہ مسقط سے خطے میں امریکی امن مشن کو تقویت پہنچے گی ۔ اس کی بدولت فلسطینیوں ، اسرائیلیوں اور ان کے پڑوسیوں کے درمیان امن و استحکام اور خوشحالی کے راستے استوار ہوں گے ۔ 
امریکی ایلچی نے آرزو ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں اس جیسی اور بھی ملاقاتیں ہوں گی ۔ فلسطینی عہدیدار اس قسم کے دعوئوں کی نہ تائید کر رہے ہیں نہ تردید۔ دراصل امریکی صدر ٹرمپ فلسطین اسرائیل مذاکرات کی بحالی کی ایک مہم چلائے ہوئے ہیں ۔ یہ سب کچھ اسی کا حصہ لگتا ہے ۔ امریکہ نے سلطنت عمان کو اسرائیلیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر قائل کر لیا ۔ اطلاع یہ بھی ہے کہ اگر اسرائیل غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر بند کر دے تو ایسی حالت میں سلطنت عمان اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کر سکتا ہے (باقی آئندہ )
 

شیئر: